میزبانوں کے ذمہ مہمانوں کے حقوق صحیح احادیث کی روشنی میں

کتاب کا نام: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مہمانوں اور میزبانوں کے ساتھ برتاؤ، مصنف کا نام: مقبول احمد سلفی
مضمون کے اہم نکات

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مہمانوں اور میزبانوں کے ساتھ برتاؤ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس زندگی کے تمام مراحل میں پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے ، اللہ تعالی نے آپ کو ہمارے درمیان بھیج کر دنیا والوں پر خصوصا مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :
﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾
(آل عمران : 164)
بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالی کا بڑا احسان ہے کہ ان میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر قسم کی بھلائی سے آگاہ کیا اور ہر قسم کے شر و فساد پر تنبیہ فرمائی۔ اور آپ بحیثیت انسان خود بھی بھلائی عمل کرنے اور منکر سے بچنے میں سب سے عمدہ نمونہ تھے ۔ اس تحریر کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے مہمانوں اور میزبانوں کے ساتھ حسن سلوک کا پہلو عیاں کروں گا۔ مہمان کو عربی میں ضیف اور میزبان کو مضیف یا مستضیف کہتے ہیں، اسی سے ضیافت کا لفظ نکلا ہے جسے ہم لوگ عام بول چال میں دعوت کہتے ہیں گویا یہاں آپ ضیافت یعنی دعوت کھانے اور دعوت کھلانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ پیش کروں گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے ضیافت کے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ اپنے مہمانوں اور میزبانوں کے ساتھ اچھے سے اچھے برتاؤ میں ہمارے لیے عمدہ ترین نمونہ نظر آتے ہیں اور پہلے عمومی دلائل آپ کا بہترین نمونہ ہونا پانچ حیثیتوں سے واضح کروں گا پھر اس سے متعلق خصوصی دلائل پیش کروں گا۔

پہلی حیثیت:

عرب قوم جود و سخاوت میں بہت مشہور ہے، قرآن نے سورہ توبہ (19)میں مشرکوں کی خدمت حجاج کا ذکر کیا ہے یعنی کفار و مشرکین حاجیوں کی خدمت اور ان کو کھلانے پلانے کو سب سے عظیم عمل جانتے تھے حتی کہ ایمان اور جہاد سے بھی بڑھ کر۔ چنانچہ اس آیت کی شان نزول ملاحظہ فرمائیں۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک شخص بولا مجھے پرواہ نہیں مسلمان ہونے کے بعد کسی عمل کی جب میں پانی پلاؤں گا حاجیوں کو۔ دوسرا بولا مجھے کیا پرواہ کسی عمل کی اسلام کے بعد میں تو مسجد حرام کی مرمت کرتا ہوں۔ تیسرا بولا ان چیزوں سے تو جہاد افضل ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے سامنے جمعہ کے دن مت پکار ولیکن میں جمعہ کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا۔ اس بات کو جس میں تم نے اختلاف کیا تب اللہ تعالی نے آیت اتاری ، ﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ یعنی ”کیا تم نے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا ایمان اور جہاد کے برابر کر دیا ہر گز نہیں اللہ کے سامنے برابر نہیں“۔
(صحیح مسلم : 4871)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے قبل ہی سے اخلاق و اقدار اور تکریم انسانیت کے پیکر مجسم تھے بلکہ مہمانوں کی ضیافت آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تھا، یہی وجہ ہے کہ جب آپ پر غار حرام میں پہلی وحی نازل ہوئی تو اس سے خوف زدہ ہو گئے اور اپنی جان کا خطرہ محسوس کرنے لگے ، اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ڈھارس بندھاتے ہوئے آپ سے فرمایا :
كلا، أبشر فوالله لا يخزيك الله أبدا ، فوالله إنك لتصل الرحم ، وتصدق الحديث، وتحمل الكل ، وتكسب المعدوم ، وتقري الضيف ، وتعين على نوائب الحق
ایسا ہر گز نہ ہو گا، آپ کو خوشخبری ہو، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اللہ کی قسم ! آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، آپ کمزور و ناتواں کا بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں ، جنہیں کہیں سے کچھ نہیں ملتا وہ آپ کے یہاں سے پاتے ہیں۔ آپ مہمان نواز ہیں اور حق کے راستے میں پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
(صحیح البخاری: 4953)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت حاصل ہونے کے پہلے سے ہی آپ ایک بہترین مہمان نواز تھے ۔

دوسری حیثیت:

لوگوں اور قوم کی ضیافت کرنا انبیائے کرام کی سنت رہی ہے ، قرآن نے متعدد پیغمبروں کی مہمان نوازی کا تذکرہ کیا ہے جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے متعلق اللہ کا فرمان ہے :
﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ، إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ،‏ فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ،‏ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ﴾
(الذاريات : 24-27)
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ وہ جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا اور (کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں۔ پھر (چپ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے کا (گوشت) لائے۔ اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں۔
یہاں پر اللہ نے مہمان کو ضیف ابراہیم کہا ہے پھر بحیثیت میزبان ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے پر تکلف بچھڑے کی ضیافت کا ذکر کیا ہے بلکہ غور کریں تو اس میں بڑے اہتمام و تکریم کے ساتھ مہمان نوازی اور آداب ضیافت کا ذکر ہے ۔ مہمان سے پوچھے بغیر ان کے لیے بہترین قسم کی ضیافت کا بلا تاخیر ابراہیم علیہ السلام نے انتظام کیا اور حسن محبت و شفقت سے کھانا ان کے سامنے پیش کرتے ہوئے آپ ان سے ادب سے مخاطب ہوئے اور کہا آپ کیوں نہیں کھاتے ؟
قرآن کے اس واقعہ ضیافت کو اس حدیث سے جوڑ کر دیکھیں جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان فرماتی ہیں:
كان خلقه القرآن
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہے۔
(صحیح الجامع: 4811)
تو پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مہمان نوازی میں انبیاء کی اس سنت پر بحسن و خوبی عامل تھے۔

تیسری حیثیت :

مہمان کی تکریم ، ان کی ضیافت و خدمت، خبر گیری، حسن سلوک اور تعاون و امداد اعلی اقدار کی نشانی ہے اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بلند معیار پر فائز تھے بلکہ آپ تو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے آئے تھے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
(القلم : 4)
اور بیشک تو بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہے۔
اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق وفي رواية (صالح) الأخلاق
ترجمہ : مجھے تو صرف اس (مقصد) کے لیے مبعوث کیا گیا کہ اخلاقی اقدار کی تکمیل کر سکوں۔
(السلسلة الصحيحة:45)
یعنی آپ دنیا میں بھیجے ہی اس لیے گئے کہ آپ لوگوں کو بہترین اخلاق و کردار اور عمدہ اعمال کا حکم دیں اور اوصاف رذیلہ سے منع کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ میں اخلاق حسنہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ آپ نہایت شفیق ورحم دل، مہربان و غم گسار اور محسن و خادم خلق تھے یعنی مہمان و میزبان کے ساتھ اچھے سلوک و برتاؤ سے پیش آنے والے تمام صفات حمیدہ آپ میں موجود تھے۔

چوتھی حیثیت :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں انسانوں کے لیے بہترین اسوہ موجود ہے اور جو لوگوں کا اسوہ ہوتا ہے وہ لوگوں میں سب سے زیادہ باکمال ہوتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے :
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾
(الاحزاب: 21)
یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔
بطور اسوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت والی زندگی کی ایک ایک بات محفوظ ہے ، تاریخ انسانی میں آپ جیسی کوئی شخصیت نہیں جس کی زندگی کے تمام پہلو مکتوب ہوں۔ صحابہ کرام نے آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اس لیے رقم کیا کہ اس میں ہمارے لیے بہترین اسوہ ہے۔ سبحان اللہ اللہ نے جس ذات گرامی کو ہمارے لیے اسوہ بنایا ہے واقعتا ان کے اندر زندگی کے تمام مراحل میں ہمارے لیے بہترین اسوہ ہے۔

پانچویں حیثیت :

اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی ہمیں خیر و شر کی تعلیم دی ، آپ نے ہی ہمیں ضیافت کے آداب واحکام سکھائے اور مہمان و میزبان کے حقوق واحکام واضح کیے۔ گویا مہمان و میزبان کے ساتھ اچھے سلوک و برتاؤ اور ان کی خدمت سے متعلق آپ کے جملہ فرامین اس بات پر شاہد ہیں کہ آپ خود بھی ان باتوں پر عمل پیرا ہونے والے تھے چنانچہ مہمان سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہم فرامین دیکھتے ہیں۔

① آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کرنے اور لوگوں کو کھلانے پر ابھارا۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خير فيمن لا يضيف
اس بندے میں بھی کوئی خیر و بھلائی نہیں، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔
(صحیح الجامع: 7492)
اسی طرح عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے لوگوں سے جو بات کہی یہ تھی، آپ فرماتے ہیں :
أيها الناس ، أفشوا السلام ، وأطعموا الطعام ، وصلوا الأرحام ، وصلوا والناس نيام ، تدخلون الجنة بسلام
(صحیح الترمذي: 2485)
آپ کی ان جنتی تعلیمات کے سبب صحابہ میں ایک دوسرے کو خصوصا حاجت مندوں کو کھلانے کا جذبہ پایا جاتا تھا چنانچہ ایک واقعہ سے اندازہ لگائیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أصبح منكم اليوم صائما؟ قال أبو بكر : أنا، قال: فمن تبع منكم اليوم جنازة؟ قال أبو بكر : أنا. قال: فمن أطعم منكم اليوم مسكينا؟ قال أبو بكر : أنا، قال: فمن عاد منكم اليوم مريضا؟ قال أبو بكر : أنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما اجتمعن فى امرئ إلا دخل الجنة .
آج تم میں سے روزے دار کون ہے ؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا ؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، آپ نے پوچھا: آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے ، آپ نے پوچھا: تو آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی ؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتا ہے۔
(صحیح مسلم : 1028)

② آپ نے مہمان کی تکریم کو ایمان کی علامت قرار دیا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه
جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے۔
(صحیح البخاري: 6138)

③ آپ نے مہمان کی ضیافت کو بطور حق متعین فرمایا۔

وإن لضيفك عليك حقا
اور بے شک تم پر تمہارے مہمان کا بھی حق ہے۔
(صحیح أبي داود : 1369)
مہمان کا میزبان پر کس طرح حق ہے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین کر دیا، آپ فرماتے ہیں:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته . قال : وما جائزته يا رسول الله ؟ قال : يوم وليلة، والضيافة ثلاثة أيام ، فما كان وراء ذلك فهو صدقة عليه
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یارسول اللہ ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
(صحیح البخاري: 6019)
جو مہمان کی ضیافت نہیں کرتے ایسے لوگوں کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ ہمیں (تبلیغ وغیرہ کے لیے) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤں میں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کیا ارشاد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے فرمایا:
إن نزلتم بقوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا، فإن لم يفعلوا، فخذوا منهم حق الضيف الذى ينبغي لهم
جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پر تم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو۔
(صحیح البخاري: 6137)
اور ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے، ابو کریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليلة الضيف حق على كل مسلم ، فمن أصبح بفنائه، فهو عليه دين ، إن شاء اقتضى ، وإن شاء ترك
ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے ، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے ، چاہے تو اسے وصول کرلے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
(صحیح أبي داود: 3750)
یہاں معلوم رہے کہ جس مہمان کی واجبی دعوت کرنی ہے وہ سفر یا دور سے آنے والا مسافر، یا رشتہ دار یا اجنبی شخص ہے البتہ قریبی رشتہ داروں کی ضیافت صلہ رحمی اور دیگر مسلمانوں کی دعوت احسان وسلوک کے درجے میں ہے۔

④ آپ نے دعوت قبول کرنا فرض بلکہ ایک مسلمان کا دوسرے پر حق قرار دیا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے ہیں :
حق المسلم على المسلم خمس : رد السلام ، وعيادة المريض، واتباع الجنائز، وإجابة الدعوة، وتشميت العاطس.
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا، مریض کا مزاج معلوم کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک پر (اس کے «الحمد للہ» کے جواب میں ) «یرحمک اللہ» کہنا۔
(صحیح البخاري: 1240)
اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليجب
جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے۔
(صحیح مسلم : 1429)
اور جس کو دعوت دی جائے وہ روزہ دار ہو تو میزبان کو دعا دے دے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دعي أحدكم فليجب، فإن كان صائما فليصل، وإن كان مفطرا فليطعم
جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے۔ اگر وہ روزہ دار ہے تو دعا کرے اور اگر روزے کے بغیر ہے تو کھانا کھائے۔
(صحیح مسلم : 1431)

⑤ مہمان کے لیے پہلے سے گھر میں بستر کا انتظام ہونے پر ابھارا۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
فراش للرجل ، وفراش لامرأته، والثالث للضيف، والرابع للشيطان .
ایک بستر مرد کے لیے ہے ایک اس کی بیوی کے لیے تیسر ابستر مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے۔
(صحیح مسلم : 2084)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں پہلے سے مہمان کے لیے ضروری اسباب مہیا ہوں (جیسے بستر اور سہولت ہو تو مہمان خانہ ٹوائلٹ وغیرہ) تاکہ کوئی مہمان کسی کے گھر ٹھہر سکے اور گھر میں ضرورت سے زیادہ سامان نہ ہو۔

⑥ دعوت میں مالدار کے ساتھ فقراء و مساکین کو بھی بلانے کی ترغیب دی۔

اولا ہمارا کھانا اچھے لوگ کھائیں اور اپنی دعوت میں ہم مالداروں کے ساتھ فقراء کو بھی بلائیں اور جو دعوت قبول نہ کرے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
شر الطعام طعام الوليمة ، يدعى لها الأغنياء ويترك الفقراء ، ومن ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم
ولیمہ کا وہ کھانا بد ترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
(صحیح البخاري: 5177)

⑦ استطاعت ہو تو پر تکلف ورنہ جو میسر ہو ضیافت میں پیش کرے۔

عن أنس، قال: كنا عند عمر ، فقال: نهينا عن التكلف
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا کہ ہمیں تکلف اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاري: 7293)
حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نتكلف للضيف
ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مہمان کے لیے تکلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(السلسلة الصحيحة : 512/5)
حضرت سلمان فارسی کی دعوت کی تفصیل اس طرح ہے۔ شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، انہوں نے (بطور میزبانی ) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمہاری خاطر میں تکلف کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔ انہوں نے کوئی لوٹا نما برتن بطور گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا: الحمد لله الذى قنعنا بما رزقنا (ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی )۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔
(سلسلہ صحیحہ : 2392)

⑧ کھانے کے بعد بطور شکر گھر والوں کو دعا دینی چاہیے۔

کھانا کھالینے کے بعد مہمان کو چاہیے کہ میزبان کو اچھی دعائیں دے اور یہ دعائیں بھی دے سکتا ہے۔
اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم
اللہ برکت دے ان کی روزی میں اور بخش دے ان کو اور رحم کر ان پر۔
(صحیح مسلم : 2042)
اللهم أطعم من أطعمني واسق من سقاني
اسے اللہ ! جس نے مجھے کھلایا تو اس کو بھی کھلا اور جس نے مجھے پلایا اس کو بھی پلا۔
(صحیح مسلم : 2055)
مہمان نوازی سے متعلق چند فرامین نبوی پیش کیے ، ان فرامین کے ذکر کا مقصد مہمان نوازی کے آداب بیان کرنا ساتھ ہی یہ بتانا مقصود ہے کہ ان تعلیمات پر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی عمل پیرا تھے کیونکہ آپ مہمانوں کے یہ حقوق و آداب متعین فرمائیں اور ان پر عمل پیرا نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں ہے، اور اللہ ایسے لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو اپنے قول کے مطابق عمل نہیں کرتے ، فرمان الہی ہے :
﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾
(البقرة: 44)
لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟
حاصل کلام یہ ہے کہ یہ سارے اوصاف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے۔ اب عمومی طور پر آپ کے بارے میں سرے دست یہ جانتے چلیں کہ آپ لوگوں کو کھلانے پینے اور ضرورت مند و محتاجوں پر خرچ کرنے میں بہت زیادہ سخی اور فیاض تھے جبکہ اپنے لیے اللہ سے زندہ رہنے بھر روزی کا سوال کرتے تھے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اللهم ارزق آل محمد قوتا اے اللہ ! آل محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں۔
(صحیح البخاري : 6460)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کھانے کی قلت ہوتی ، خود کم کھاتے لیکن مہمانوں کا زیادہ خیال کرتے۔
عن عائشة ، قالت: إن كنا آل محمد صلى الله عليه وسلم لنمكث شهرا ما نستوقد بنار ، إن هو إلا التمر والماء
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اس حالت میں رہتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے بس کھجور اور پانی پر گزر ہوتی تھی۔
(صحیح مسلم : 7449)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود قناعت فرماتے مگر دوسروں کے لیے بیحد سخی تھے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم أجود الناس بالخير ، وأجود ما يكون فى شهر رمضان، لأن جبريل كان يلقاه فى كل ليلة فى شهر رمضان، حتى ينسلخ يعرض عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم القرآن، فإذا لقيه جبريل كان أجود بالخير من الريح المرسلة.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیر خیرات کرنے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی کیونکہ رمضان کے مہینے میں جبرائیل علیہ السلام آپ سے آکر ہر رات ملتے تھے یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا وہ ان راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے ۔ جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو اس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا سے بھی بڑھ کر سخی ہو جاتے تھے۔
(صحیح البخاري: 4997)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن الناس، وكان أجود الناس، وكان أشجع الناس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت، سب انسانوں سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔
(صحیح مسلم : 2307)
عربوں کے یہاں سخاوت کا مطلب مہمانوں کی ضیافت اور دوسروں کو کھلانا پلانا ہے یعنی آپ عربوں میں سب سے زیادہ مہمانوں کا خیال کرنے اور لوگوں کو کھلانے پلانے والے تھے۔
اب موضوع سے متعلق خصوصی دلائل دیکھتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مہمانوں اور میزبانوں سے کیسا برتاؤ کرتے تھے اور ایک جملہ میں یہ بات سمجھتے چلیں کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان بنتا وہ خود کو خوش نصیب سمجھتا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مہمان بناتا وہ بھی خود کو بہت نصیب والا سمجھتا اور ایسا کیوں نہ ہو کہ آپ کی ذات اقدس ہی ایسی بلند پایہ تھی۔

پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ دیکھتے ہیں پھر میزبانوں کے ساتھ برتاؤ دیکھیں گے۔

① بغیر کسی بدلے کی نیت سے کھلاتے :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ ہم کسی کو کھلاتے پلاتے ہیں تو اس کے معاوضہ کی توقع نہ رکھیں جیسا کہاللہ تعالی فرماتا ہے :
﴿ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ﴾
(الانسان : 9)
ہم تمہیں صرف اللہ تعالی کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری۔
ہاں کھانے والے کا حق بنتا ہے کہ اپنے محسن کا شکریہ ادا کرے اور اس کے لیے دعا دے۔

② مہمانوں کا خود استقبال کرتے :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مہمانوں اور وفد کا ترجیبی کلمات کے ذریعہ بہترین طریقہ پر استقبال کرتے تاکہ آنے والا اجنبیت کی بجائے اپنائیت اور محبت و مسرت محسوس کرے۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: لما قدم وفد عبد القيس على النبى صلى الله عليه وسلم قال: مرحبا بالوفد الذين جاءوا غير خزايا ولا ندامى
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے نہ وہ ذلیل ہوئے نہ شرمندہ (خوشی سے مسلمان ہو گئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے)۔
(صحیح البخاري: 6176)

③ دعوت میں تکلف نہیں کرتے:

اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴾
(ص: 86)
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے تمام امور میں تکلف سے اجتناب کرتے اور اپنے اصحاب کو بھی منع فرماتے بلکہ آپ نے گزشتہ سطور میں پڑھا ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مہمان نوازی میں تکلف سے منع فرمایا ، ہاں استطاعت ہو تو اچھے سے اچھا پکوان پیش کر سکتے ہیں اس میں حرج نہیں ہے تاہم استطاعت نہ ہونے پر تکلف ممنوع ہے۔
لقليط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، ہمارے لیے کھانا بنایا گیا اور تھالی لائی گئی، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہیں تھے پھر جب تشریف لائے تو آپ نے اپنے چرواہے سے کہا کہ ایک بکری ذبح کرو پھر آپ لقليط سے یہ بھی فرماتے ہیں :
لا تحسبن، ولم يقل لا تحسبن أنا من أجلك ذبحناها لنا غنم مائة لا نريد أن تزيد، فإذا ولد الراعي بهمة ذبحنا مكانها شاة
یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے ، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔
(صحیح أبي داود : 142)

④ کبھی دعوت میں آپسی کھانا ملا کر کھاتے پیتے :

غزوہ خیبر کے موقع پر سفر میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور ولیمہ کی دعوت کرتے وقت اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
من كان عنده شيء فليجئ به ، قال : وبسط نطعا ، قال : فجعل الرجل يجيء بالأقط، وجعل الرجل يجيء بالتمر ، وجعل الرجل يجيء بالسمن فحاسوا حيسا، فكانت وليمة رسول الله صلى الله عليه وسلم .
جس کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہو تو وہ اسے لے آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا دستر خوان بچھوا دیا۔ کہا: تو کوئی آدمی پنیر لے کر آنے لگا، کوئی کھجور لے کر آنے لگا اور کوئی گھی لے کر آنے لگا۔ پھر لوگوں نے (کھجور ، پنیر اور گھی کو) اچھی طرح ملا کر حلوہ تیار کیا۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
(صحیح البخاري : 3497)
نبوی ضیافت میں کبھی کبھی ایسی مشترکہ ضیافت بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

⑤ مہمانوں کی خدمت کرتے :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مہمان کو خود سے کھانا پیش کرتے ، ان کی خدمت کرتے ، ان کے ساتھ کھاتے اور ان سے بات چیت کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
ضفت النبى صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فأمر بجنب فشوي، وأخذ الشفرة فجعل يحز لي بها منه، قال: فجاء بلال فآذنه بالصلاة، قال: فألقى الشفرة، وقال: ماله تربت يداه وقام يصلي زاد الأنباري : وكان شاربي قد طال فقصه لي على سواك أو قال: أقصه لك على سواك
میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھونے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی، تو آپ نے چھری رکھ دی، اور فرمایا: اسے کیا ہو گیا؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : میری مونچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا، یا فرمایا : میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا۔
(صحیح أبي داود: 188)
جب آپ کو سہولت ہوتی تو آپ مہمانوں کی بہترین ضیافت کرتے جیسا کہ اس مقام پر دیکھ سکتے ہیں۔

⑥ مہمان سے بات چیت کرتے اگرچہ عشاء کے بعد ہی کیوں نہ ہو:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد کلام نہیں کرتے جیسا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :
ما نام رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل العشاء ولا سمر بعدها
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے نہ سوئے، اور نہ اس کے بعد (بلاضرورت) بات چیت کی۔
(صحیح ابن ماجه : 582)
اس کے باوجود آپ مہمانوں کی تکریم و ضیافت کے تئیں اور ضرورت کے سبب عشاء کے بعد بھی بات کرتے جیسا کہ اصحاب صفہ کی دعوت سے متعلق حدیث پر امام بخاری نے (کتاب مواقیت الصلاة) کے تحت باب باندھا ہے : باب السمر مع الضيف والأهل : باب : اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو (عشاء کے بعد) گفتگو کرنا۔
یہ بخاری کی (602) نمبر کی حدیث ہے اور اصحاب صفہ کی دعوت سے متعلق ایک حدیث آگے آرہی ہے۔

⑦ رسول اللہ کے مہمان اور ایثار کی عمدہ مثال :

ایک مرتبہ ایک مہمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر گھر میں کچھ نہیں تھا تو آپ نے اپنے مہمان کو صحابہ کی جماعت پر پیش کیا تا کہ کوئی اس کی ضیافت کرے، واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کی دعوت کریں لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی (ابو طلحہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے ۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فلاں (انصاری صحابی) اور ان کی بیوی (کے عمل) کو پسند فرمایا۔ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالی مسکرا یا پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی ﴿ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾ یعنی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔
(صحیح البخاري: 4889)
سبحان اللہ ، رسول اللہ کا مہمان بننا کتنے نصیب کی بات ہے اور پھر میاں بیوی نے ضیف رسول کی کس انداز میں ضیافت کی کہ اللہ بھی مسکرا دیا اور ان کی شان میں قرآن کی آیت نازل فرمادی۔

⑧ مہمانوں کی کثرت کا حسن انتظام کرتے :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کھانوں میں فقراء و مساکین کا خاص خیال کرتے اور جب کبھی مہمانوں کی کثرت ہوتی تو انہیں اپنے اور صحابہ کے درمیان تقسیم کرتے تاہم سب کے کھانوں کا انتظام فرماتے۔ اصحاب صفہ جو فقراء و مساکین کی جماعت تھی اور مسجد نبوی میں رہا کرتی تھی، ان کے کھانے کا اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح فرماتے۔ عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
أن أصحاب الصفة كانوا أناسا فقراء، وأن النبى صلى الله عليه وسلم قال مرة : من كان عنده طعام اثنين فليذهب بثالث، ومن كان عنده طعام أربعة فليذهب بخامس أو سادس أو كما قال: وأن أبا بكر جاء بثلاثة، وانطلق النبى صلى الله عليه وسلم بعشرة
صفہ والے محتاج اور غریب لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ ایک تیسرے کو بھی اپنے ساتھ لیتا جائے اور جس کے گھر چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچواں آدمی اپنے ساتھ لیتا جائے یا چھٹے کو بھی یا آپ نے اسی طرح کچھ فرمایا (راوی کو پانچ اور چھ میں شک ہے) خیر تو ابو بکر رضی اللہ عنہ تین اصحاب صفہ کو اپنے ساتھ لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس اصحاب کو لے گئے۔
(صحیح البخاري: 3581)

⑨ کافر مہمان کی بھی ضیافت کراتے ، اس میں تالیف قلب اور دعوت الی اللہ کا مقصد بھی ہوتا:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا وہ شخص کافر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے اس کو بھی پی لیا، پھر ایک اور (بکری کا دودھ دوہنے) کا حکم دیا اس نے اس کا بھی پی لیا، حتی کہ اس نے اسی طرح سات بکریوں کا دودھ پی لیا پھر اس نے صبح کی تو اسلام لے آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے وہ دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، وہ اس کا سارا دودھ نہ پی سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔
(صحیح مسلم: 2063)

⑩ فاقہ کشوں اور ضرورت مندوں کی مہمان نوازی :

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مہمانی کا اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں وہ کافی لمبا ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ اصحاب رسول میں سے کوئی ان کو کھلانے والا نہ ملا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر پہچان گئے ، اپنے ساتھ گھر لے گئے ، گھر میں تحفہ کا ایک پیالہ دودھ تھا، آپ نے انہیں اصحاب صفہ کو بھی بلانے کو کہا، بظاہر ابوہریرہ کو لگ رہا تھا کہ یہ دودھ ان کے لیے بھی ناکافی ہے مگر جب اصحاب صفہ آئے ، سب ایک ایک کر کے پیتے گئے ، آخر میں ابوہریرہ نے پیا حتی کہ شکم سیر ہو گئے اور پھر بچا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیتے ہیں۔
(صحیح البخاري : 6452)
سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ہمارے کانوں اور آنکھوں کی قوت جاتی رہی تھی تکلیف سے (فاقہ وغیرہ کے) ہم اپنے تئیں پیش کرتے تھے آپ کے اصحاب پر کوئی ہم کو قبول نہ کرتا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے گھر لے گئے، وہاں تین بکریاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا دودھ دوہو ہم تم سب پیں گے ۔ پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہر ایک ہم میں سے اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا رکھتے
(صحیح مسلم: 5362)

⑪ دار الضیافہ اور وفود کے لیے مال مختص کرنا:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمانوں اور آنے والے وفود کے لیے مہمان خانہ کا اہتمام کیا تھا جہاں آپ کے مہمان قیام فرمایا کرتے اور ان کے لیے الگ سے مال مختص کر کے رکھا کرتے تھے ۔ بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھ حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا۔
(ابو داؤد: 3012، قال الشيخ الألباني : صحیح الإسناد)

⑫ ناگواری محسوس ہونے کے باوجود مہمان کے قلبی احساسات کا خیال کرتے :

ایک مرتبہ زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ پر آپ کی دعوت پر صحابہ کرام آپ کے گھر آئے تو دیر تک بیٹھے رہ گئے جو آپ کو ناگوار محسوس ہوا مگر آپ نے مہمانوں کا خیال کیا اسی پس منظر میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ﴾
(الأحزاب: 53)
اے ایمان والو ! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو ، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالی حق بیان کرنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔
گویا اس آیت کے ذریعہ مومنوں کو ضیافت کے آداب بتائے جا رہے ہیں کہ کھانے پر اس وقت جایا جائے جب تیار ہو جائے اور کھالینے کے بعد بلا تاخیر گھر سے چلے جانا چاہیے تاکہ گھر والوں کو حرج محسوس نہ ہو۔

⑬ مہمانوں کے ساتھ بے تکلفی اور کھانے پینے میں احتیاط:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہمانوں کے ساتھ بے تکلفی برتتے اور کھانے میں ان کے لیے کوئی احتیاط ہو تا تو آپ ان سے ضرور بیان کرتے :
عن جده صهيب، قال: قدمت على النبى صلى الله عليه وسلم وبين يديه خبز وتمر، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : ادن فكل فأخذت أكل من التمر فقال النبى صلى الله عليه وسلم: تأكل تمرا وبك رمد؟ قال : فقلت إني أمضغ من ناحية أخرى فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم .
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریب آؤ اور کھاؤ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
(ابن ماجه: 3443 و صححه الألباني)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے میزبانوں کے ساتھ سلوک :

① رسول اللہ ایک متواضع مہمان ہوتے اور معمولی دعوت بھی قبول کر لیتے:

جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے یہاں مہمان بنتے ، آپ نہایت تواضع کا ثبوت دیتے اور جو کچھ بھی پیش کیا جاتا خواہ معمولی ہی چیز کیوں نہ ہو قبول فرما لیتے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو دعيت إلى ذراع أو كراع لأجبت، ولو أهدي إلى ذراع أو كراع لقبلت
اگر مجھے بازو اور پائے (کے گوشت) پر بھی دعوت دی جائے تو میں قبول کر لوں گا اور مجھے بازو یا پائے (کے گوشت) کا تحفہ بھیجا جائے تو اسے بھی قبول کر لوں گا۔
(صحیح البخاري: 2568)

② میزبان ناراض نہ ہو تو آپ اپنے ساتھ دوسرے کو بھی دعوت پر لے جاتے :

کبھی کبھار آپ دعوت کھانے کے لیے جاتے اور کوئی دوسرا مل جاتا اور یقین ہوتا کہ میزبان ناراض نہ ہو گا تو اپنے ساتھ لے لیتے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھتے ہیں جو بھوکے ہوتے ہیں اور آپ خود بھی بھوکے ہوتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ساتھ چلو، ایک انصاری کے گھر گئے مگر وہ اس وقت موجود نہیں تھے، ان کی زوجہ تھیں، انہوں نے آپ کو خوش آمدید کہا پھر انصاری بھی آگئے اور آپ لوگوں کو دیکھ کر خوشی سے کہتے ہیں :
الحمد لله الذى أكرمني اليوم بأكرم أضياف (صحیح البخاري: 2038) یعنی اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں۔ پھر انہوں نے بکری کی دعوت کی۔
اسی لیے اس پر امام مسلم نے باب باندھا ہے: (باب جواز استتباعه غيره إلى دار من يثق برضاه بذلك ويتحققه تحقيقا تاما واستحباب الاجتماع على الطعام) يعني باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔

③ غلام کی بھی دعوت قبول کر لیتے :

ایک غلام جس کا پیشہ درزی کا تھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی ، آپ نے اس کی دعوت قبول فرمائی، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا گیا۔ جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے تھے ، اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔
(صحیح البخاري: 5436)

④ میزبان کے ساتھ بے تکلفی :

صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
قدمت على النبى صلى الله عليه وسلم ، وبين يديه خبز وتمر ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : ادن فكل فأخذت أكل من التمر ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم تأكل تمرا وبك رمد ؟ قال فقلت: إني أمضغ من ناحية أخرى، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے ، میں نے عرض کیا: میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
(صحیح ابن ماجه: 2793)

⑤ بسا اوقات اپنے ساتھ دوسرے کی ضیافت کے لیے کہتے :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم میزبانوں کے ساتھ اس قدر بے تکلف ہوتے کہ بسا اوقات جب کوئی دعوت دینے آتا تو ساتھ میں دوسرے کی دعوت کے لیے بھی اجازت لیتے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربہ اچھا بناتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شوربہ تیار کیا، پھر آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ان کو بھی دعوت ہے ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی ؟ اس نے کہا : نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نہیں۔ وہ پھر دعوت دینے کے لیے آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی ؟ تو تیسری بار اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے۔
(صحیح مسلم : 2037)

⑥ کھانے میں کبھی عیب نہ نکالتے:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی کسی کے یہاں کھاتے ہوئے کھانے میں عیب نہیں نکالا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
ما عاب النبى صلى الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإن كرهه تركه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوا تو کھا لیا اور اگر ناپسند ہوا تو چھوڑ دیا۔
(صحیح البخاري: 5409)

⑦ تالیف قلب کے لیے یہودی کی دعوت قبول کی:

ایک مرتبہ ایک یہودی نے آپ کی دعوت کی تو آپ نے اس کی دعوت قبول کر لی، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
أن يهوديا دعا النبى صلى الله عليه وسلم إلى خبز الشعير وإهالة سنخة، فأجابه
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک یہودی نے جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی۔
(مسند أحمد: 13201 و صححه شعيب الأرناؤوط)

⑧ دائیں جانب سے شروع کرنے کا حکم دیتے خواہ اس جانب ادنی آدمی ہی کیوں نہ ہو :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے گھر جاتے اور کسی چیز کی حاجت ہوتی تو آپ طلب کرتے اور کھلانے پلانے میں دائیں جانب سے شروع کرنے کا حکم دیتے خواہ دائیں جانب کوئی ادنی مرتبہ کا آدمی ہی کیوں نہ ہو۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، اسے ہم نے دوہا۔ پھر میں نے اسی کنویں کا پانی ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (لسی بنا کر) پیش کیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پی کر فارغ ہوئے تو (پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا اس لیے) عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیہاتی کو عطا فرمایا۔ (کیونکہ وہ دائیں طرف تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دائیں طرف بیٹھنے والے، دائیں طرف بیٹھنے والے ہی حق رکھتے ہیں۔ پس خبر دار دائیں طرف ہی سے شروع کیا کرو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے ، تین مرتبہ (آپ نے اس بات کو دہرایا)۔
(صحیح البخاري: 2571)

⑨ دعوت کھانے کے بعد دعا دیتے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دستور رہا ہے کہ جب بھی کہیں کسی کے یہاں کھانا نوش فرماتے تو آخر میں اہل خانہ کے لیے دعائیہ کلمات کہتے اس سلسلے میں متعدد احادیث منقول ہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم زار أهل بيت من الأنصار فطعم عندهم طعاما، فلما أراد أن يخرج أمر بمكان من البيت فنضح له على بساط فصلى عليه ودعا لهم .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور ان کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔
(صحیح البخاري : 6080)
اسی طرح انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی : أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة ”تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور فرشتے تمہارے لیے دعائیں کریں۔“
(ابوداؤد : 3854 و صححه الألباني)
اسی طرح عبد اللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے میں کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا : میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم ”اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما۔
(ابوداؤد: 3729 و صححه الألباني)

⑩ اپنے ساتھیوں کی بھی ضیافت کراتے اور خود بھی خدمت کرتے :

کبھی کوئی دعوت کرتا ہے اور آپ کے ساتھ کئی اصحاب ہوتے تو ان لوگوں کی ضیافت کے لیے بھی سبیل پیدا فرماتے جیسے غزوہ خندق کے موقع پر جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینی چاہی اور کہا کہ کھانا کم ہے، اپنے ساتھ ایک دو آدمی کو لے چلیں، آپ نے کھانے کی کیفیت دریافت فرمائی اور ان سے کہا کہ اپنی بیوی سے کہو چولہے سے ہانڈی نہ اتارے اور روٹی پکائے پھر آپ اپنے تمام ساتھی یعنی انصار و مہاجرین کے ساتھ ان کے گھر پہنچے، بیوی نے اس ازدحام کو دیکھ کر جابر سے کہا کہ اب کیا ہو گا ؟ اور ہمارے رسول پاک خود سے روٹی کا چورا کر کے گوشت پر ڈالتے گئے حتی کہ سارے لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھالیا بلکہ اور کھانا بچ بھی گیا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں : صحیح البخاري: 4101)
میں نے اختصار سے اس موضوع کو بیان کرنے کی کوشش کی تاہم اس قدر وضاحت ضرور کر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مہمانوں اور میزبانوں کے ساتھ برتاؤ کا علم بخوبی ہو جائے، اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ مبارک پر صحیح سے عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے