تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ …: ” اِنٰىهُ “} میں {”إِنًي“ ”أَنٰي يَأْنِيْ“} (ض) کا مصدر ہے، اس کا معنی ہے ”کسی چیز کا وقت ہو جانا۔“ جیسا کہ فرمایا: «اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ» [الحدید: ۱۶] ”کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے جھک جائیں۔“ یہ لفظ کھانا پک جانے کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ پکنے پر اس کے کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ اہلِ عرب میں جو غیر مہذب عادات پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ کھانے کے وقت کا اندازہ کر کے کسی کے گھر پہنچ جاتے، یا اس کے گھر آکر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہو جاتا۔ اس سے صاحب خانہ مشکل میں پڑ جاتا، نہ یہ کہہ سکتا کہ میرے کھانے کا وقت ہے، آپ تشریف لے جائیں، نہ اس کے بس میں ہوتا کہ اپنے کھانے کے ساتھ آنے والوں کے لیے بھی کھانا تیار کرے۔ بعض اوقات کھانے کے لیے دعوت دی جاتی، مگر مدعو حضرات وقت سے پہلے ہی آکر بیٹھ جاتے، جس سے گھر والے سخت کوفت میں مبتلا ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بے ہودہ عادت سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ کھانا تیار ہونے کے انتظار میں پہلے ہی جا کر نہ بیٹھ جاؤ، بلکہ جب گھر والا کھانے کے لیے بلائے اس وقت جاؤ۔ یہ حکم بھی نمونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے شروع ہوا، ورنہ ساری امت کے گھروں کے لیے یہی حکم ہے۔
➌ { وَ لَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ:} یہ ایک اور بے ہودہ عادت کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ کھانے کی دعوت میں بلائے جاتے ہیں تو کھانے سے فارغ ہو کر وہیں باتوں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ انھیں پروا نہیں ہوتی کہ اس سے گھر والوں کو کس قدر کوفت ہو رہی ہے کہ نہ وہ حیا کی وجہ سے انھیں جانے کو کہہ سکتے ہیں اور نہ آزادی سے اپنا کوئی کام کر سکتے ہیں۔
➍ { اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ:} یعنی کھانے پینے سے فارغ ہو کر تمھارا باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ تکلیف دیتا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم {” كَانَ “} سے ظاہر ہو رہا ہے۔ پھر وہ تم سے حیا کرتے ہوئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اب اٹھ جاؤ۔ مگر اللہ تعالیٰ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اس لیے اس نے یہ احکام دیے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طفیلیوں (بن بلائے مہمانوں) اور بوجھ بن جانے والوں کو اپنے نبی کے لیے برداشت نہیں فرمایا، پھر عام آدمی انھیں کیسے برداشت کر سکتا ہے۔
➎ اس آیت میں امہات المومنین کے حجاب کا حکم نازل ہوا، اس لیے اسے آیت حجاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی موافقات، یعنی ان باتوں میں سے ہے جن میں ان کی بات کے مطابق قرآن نازل ہوا، مگر ان کا حسن ادب یہ ہے کہ انھوں نے یہ کہنے کے بجائے کہ قرآن نے میری بات کی موافقت کی، یہ کہا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی۔ چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے: [قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ] [بخاري، الصلاۃ، باب ما جاء في القبلۃ…: ۴۰۲] ”میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ کی بیویوں کے پاس اچھے اور برے ہر قسم کے لوگ (دینی یا دنیوی مسائل کے لیے) آتے ہیں کاش! آپ انھیں حجاب کا حکم دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیتِ حجاب کو نازل فرمایا۔“
➏ اس آیت کا نزول جس موقع پر ہوا اسے انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی زینب رضی اللہ عنھا سے ہوئی تو (ولیمے میں) گوشت اور روٹی کھلائی گئی۔ مجھے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا، لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے، پھر اور لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو دعوت دی، حتیٰ کہ کوئی شخص باقی نہ رہا۔ آخر میں میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اب کوئی شخص نہیں ملتا جسے میں دعوت دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اب کھانا اٹھا دو۔“ (سب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے) اور تین شخص گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی طرف چلے گئے اور کہا: ”اے اہلِ بیت (گھر والو)! { ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ } “ انھوں نے کہا: [وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ] ”آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا، اللہ آپ کے لیے برکت کرے۔“ اسی طرح آپ اپنی تمام بیویوں کے گھروں میں گئے اور سب کو عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح سلام کیا، سب نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح جواب دیا۔ پھر جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ تین آدمی (ابھی تک) گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت حیا والے تھے، آپ پھر عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو جا کر بتایا یا کسی اور نے بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ چنانچہ آپ واپس آئے اور اس حالت میں کہ دروازے کی دہلیز میں آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور دوسرا باہر تھا، آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور حجاب کی آیت نازل ہو گئی۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لا تدخلوا بیوت النبي…» : ۴۷۹۳]
➐ { وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا …:} اس آیت کے نزول کے ساتھ حکم ہوا کہ محرم مردوں کے سوا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر نہ آئے اور جسے بھی خواتین سے کوئی کام ہو وہ پردے کے پیچھے سے بات کرے، خواہ کوئی چیز مانگنے کی ضرورت ہو، یا کوئی بات یا دینی مسئلہ پوچھنے کی۔
➑ { ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ:} اس جملے پر تھوڑی سی توجہ سے بھی یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جب امہات المومنین، جو دنیا کی پاک باز ترین خواتین تھیں اور صحابہ کرام، جو دنیا کے پاک باز ترین مرد تھے، انھیں دلوں کو پاک رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے کوئی بات کرتے وقت حجاب کا حکم ہے تو عام لوگوں کو بلاحجاب ایک دوسرے سے ملنے کی، یعنی گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، پارکوں، عدالتوں اور اسمبلیوں میں مردوں اور عورتوں کے بلا تکلف میل جول اور مخلوط معاشرے کی اسلام میں کیا گنجائش ہو سکتی ہے اور ان کے دلوں کی طہارت و پاکیزگی کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے۔ اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ اصل پردہ دل کا ہے، کیونکہ شرم و حیا کا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے، یہ ظاہر پردہ کچھ ضروری نہیں، ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو دل سے مانا ہی نہیں۔
➒ { وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ:} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا، خواہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا ہو، یا آپ کی خواہش کے بغیر آپ کے گھر میں بیٹھے رہنا ہو، یا حجاب کے بغیر ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا ہو، یا منافقین کی طرح کسی قسم کی دل آزار باتیں کرنا ہو، غرض کسی بھی طریقے سے ہو، تمھارے لیے جائز نہیں، نہ ہی یہ تمھیں کبھی زیب دیتا ہے۔
➓ { وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا:} یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا، پھر جو احترام اللہ نے انھیں بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا، بلکہ اپنی عاقبت برباد کرے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس کے بعد سورۃ نور کی آیات نازل ہوئیں اور آیت نمبر 27 کی رو سے یہ حکم تمام مسلم گھرانوں پر نافذ کر دیا گیا کہ کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرے۔
[88] اس ضمن میں چوتھی ہدایت یہ ہے کہ جب کھانا کھا چکو تو وہیں دھرنا مار کر بیٹھ نہ جاؤ اور ادھر ادھر کے حالات اور قصے کہانیاں شروع کر دو۔ بلکہ کھانا کھا چکو تو چلتے بنو۔ اور صاحب خانہ کے لئے انتظار اور پریشانی کا باعث نہ بنو۔ کیونکہ دعوت کے بعد انھیں بھی کئی طرح کے کام ہوتے ہیں۔
[92] یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اور اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا۔ پھر جو احترام انھیں اللہ نے بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا۔ اور اپنی عاقبت تباہ کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [2-البقرة:125]
اور روایت میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب دستر خوان بڑھا دو }۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ۔ انہوں نے جواب دیا ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تمہیں برکت دے }۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4783] ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4794]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔
میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: { اچھا اسے رکھ دو }۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: { جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ } بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: { ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے } میں نے یہی کیا۔
جو ملا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ }۔ میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: { چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو }۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پیالہ اٹھالو }۔
اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428]
پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا لے جانے کی روایت آیت «فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37]، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔
چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ { حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4895]
آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ { خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232]
پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ’ مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو ‘۔
مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔
حدیث میں ہے { اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2568]
دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ’ جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ‘۔
جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ’ تمہارا بے اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چلے جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے ‘۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ’ اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے ”کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی“ اس وقت پردے کا حکم اترا }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف]
یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔
قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔
پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» ۱؎ [40-غافر:19] تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عبادَه المؤمنين بالتأدُّب مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في دخول بيوتِهِ، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تدخُلوا بيوت النبيِّ إلاَّ أن يُؤْذَنَ لكم إلى طعام}؛ أي: لا تدخُلوها بغير إذنٍ للدخول فيها لأجل الطعام، وأيضاً لا تكونوا {ناظرينَ إناه}؛ أي: منتظرين ومتأنين لانتظار نضجه أو سعة صدرٍ بعد الفراغ منه. والمعنى: أنكم لا تدخُلوا بيوتَ النبيِّ إلاَّ بشرطين: الإذن لكم بالدخول، وأنْ يكون جلوسُكم بمقدارِ الحاجة، ولهذا قال: {ولكنْ إذا دُعيتُم فادْخُلوا فإذا طَعِمْتُم فانتَشِروا ولا مُسْتَأنِسينَ لحديثٍ}؛ أي: قبل الطعام وبعده.
ثم بيَّن حكمةَ النهي وفائدتَه، فقال: {إنَّ ذلكم}؛ أي: انتظاركم الزائد على الحاجة {كان يؤذي النبيَّ}؛ أي: يتكلَّف منه ويشقُّ عليه حبسُكم إيَّاه عن شؤون بيتِهِ وأشغاله فيه، {فيَسْتَحيي منكم}: أن يقولَ لكم: اخرُجوا! كما هو جاري العادة أن الناس ـ خصوصاً أهل الكرم منهم ـ يَسْتَحْيونَ أن يُخْرِجوا الناس من مساكنهم، {و} لكن {الله لا يَسْتَحْيي من الحقِّ}: فالأمر الشرعيُّ، ولو كان يُتَوَهَّم أنَّ في تركِهِ أدباً وحياءً؛ فإنَّ الحزم كلَّ الحزم اتِّباعُ الأمر الشرعيِّ، وأنْ يجزمَ أنَّ ما خالفه ليس من الأدب في شيءٍ، والله تعالى لا يستحيي أنْ يأمُرَكم بما فيه الخيرُ لكم والرفقُ لرسوله كائناً ما كان.
فهذا أدبُهم في الدخول في بيوته، وأما أدبُهم معه في خطاب زوجاتِهِ؛ فإنَّه: إمَّا أن يحتاجَ إلى ذلك، أو لا يحتاجُ إليه؛ فإن لم يحتج إليه؛ فلا حاجة إليه، والأدب تركُه، وإن احتيج إليه، كأنْ يسألهنَّ متاعاً أو غيره من أواني البيت أو نحوها؛ فإنَّهنَّ يُسْألْنَ {من وراءِ حجابٍ}؛ أي: يكون بينكم وبينهنَّ سترٌ يستر عن النظر؛ لعدم الحاجة إليه، فصار النظر إليهنَّ ممنوعاً بكلِّ حال، وكلامهنَّ فيه التفصيلُ الذي ذكره الله. ثم ذكر حكمةَ ذلك بقوله: {ذلكُم أطهرُ لقلوبكم وقلوبهنَّ}؛ لأنَّه أبعدُ عن الريبة، وكلَّما بَعُدُ الإنسان عن الأسباب الداعيةِ إلى الشرِّ؛ فإنَّه أسلمُ له وأطهرُ لقلبِهِ؛ فلهذا من الأمور الشرعيَّة التي بيَّن الله كثيراً من تفاصيلها أنَّ جميعَ وسائل الشرِّ وأسبابه ومقدِّماته ممنوعةٌ، وأنه مشروعٌ البعد عنها بكلِّ طريق.
ثم قال كلمةً جامعةً وقاعدةً عامةً: {وما كان لكم}: يا معشر المؤمنين؛ أي: غير لائقٍ ولا مستحسنٍ منكم، بل هو أقبحُ شيء، {أن تُؤذوا رسولَ الله}؛ أي: أذيَّة قوليَّة أو فعليَّة بجميع ما يتعلَّق به، {ولا أن تَنكِحوا أزواجَه من بعده أبداً}: هذا من جملة ما يؤذيه؛ فإنَّه - صلى الله عليه وسلم - له مقامُ التعظيم والرفعةِ والإكرام، وتزوُّجُ زوجاتِهِ بعدَه مخلٌّ بهذا المقام، وأيضاً؛ فإنهنَّ زوجاتُه في الدُّنيا والآخرة، والزوجيَّةُ باقيةٌ بعد موته؛ فلذلك لا يحلُّ نكاحُ زوجاتِهِ بعده لأحدٍ من أمته. {إنَّ ذلكم كان عند الله عظيماً}: وقد امتثلتْ هذه الأمة هذا الأمر، واجتنبتْ ما نهى الله عنه منه، ولله الحمد والشكر.