تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنا فرمایا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم اس سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو، پس تمہارا گمان بےجا، تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نا مناسب ہے۔ یوں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کا ایمان اور اس کی راہ کا جہاد بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا گھن کھا جاتا ہے۔
پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے آپ کو آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ظالم رکھا اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت بیکار کر دی۔
کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ ”تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے۔“ اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر جب لے دے شروع کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ”ہم مسجد الحرام کے متولی تھے ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔
مروی ہے کہ یہ گفتگو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہو۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، طلحہ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں۔ دوسرے نے اسی طرح مسجد الحرام کی آبادی کو کہا۔ تیسرے نے اسی طرح اللہ کی راہ کے جہاد کو کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ ۱؎ [عبد الرزاق فی تفسیر:1060]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں خود جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کر لوں گا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1879۔111]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما اختلف بعضُ المسلمين أو بعضُ المسلمين وبعضُ المشركين في تفضيل عِمارة المسجد الحرام بالبناء والصلاة والعبادة فيه وسقاية الحاجِّ على الإيمان بالله والجهاد في سبيله؛ أخبر الله تعالى بالتفاوتِ بينهما، فقال: {أجعلتُم سِقايةَ الحاجِّ}؛ أي: سقيهم الماء من زمزم؛ كما هو المعروف إذا أطلق هذا الاسم أنه المراد، {وعِمارةَ المسجدِ الحرام كمن آمَنَ بالله واليوم الآخر وجاهَدَ في سبيل الله لا يستوون عند الله}: فالجهادُ والإيمان بالله أفضلُ من سقاية الحاجِّ وعمارة المسجد الحرام بدرجاتٍ كثيرةٍ؛ لأنَّ الإيمان أصلُ الدين وبه تُقبل الأعمال وتزكو الخصال، وأمَّا الجهاد في سبيل الله؛ فهو ذروة سنام الدين، [الذي] به يُحفظ الدين الإسلامي ويتَّسع، ويُنْصَر الحقُّ ويُخْذَل الباطل، وأمَّا عِمارة المسجد الحرام وسقاية الحاجِّ؛ فهي، وإن كانت أعمالاً صالحةً؛ فهي متوقِّفة على الإيمان، وليس فيها من المصالح ما في الإيمان والجهاد؛ فلذلك قال: {لا يستوونَ عند الله واللهُ لا يَهْدي القوم الظالمين}؛ أي: الذين وَصْفُهُمُ الظلمُ، الذين لا يَصْلُحون لقبول شيء من الخير، بل لا يليق بهم إلا الشرُّ.