تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اوپر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ غلول اور خیانت ایک نبی کی شان سے بعید ہے، نبوت و خیانت جمع نہیں ہو سکتے، تو اب اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پاکیزہ اور اعلیٰ نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے، جو یہ ہے کہ تم پر اس کی آیات پڑھے، تمھیں کتاب و حکمت (سنت) کی تعلیم دے اور رذائل سے پاک کرے، پھر ایسی پاکیزہ ہستی کی طرف، جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر مبعوث ہوئی ہو، کوئی عقل مند آدمی غلول کی نسبت کیسے کر سکتا ہے، یا کسی کے دل میں یہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ آپ خیانت جیسے کبیرہ اور مذموم فعل کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں اس گناہ کو کبیرہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ ابن لتبیہ والی حدیث میں حکام کے ہدیوں (تحائف) کو بھی غلول شمار کیا۔ [بخاری، الحیل، باب احتیال العامل…: ۶۹۷۹] { ”وَ اِنْ كَانُوْا“ } یہ اصل میں { ”وَ اِنَّهُمْ كَانُوْا“ } تھا، دلیل اس کی {”لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“} پر لام تاکید کا آنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[159] رسول بشر کیوں ہوتا ہے؟ یعنی وہ رسول بنی نوع انسان سے ہے۔ عربی ہے اور قریشی ہے۔ قریش کے لہجہ میں عربی بولتا ہے۔ تاکہ عرب لوگ اس کی بات کو سمجھ سکیں۔ وہ نہ فرشتوں کی نوع سے ہے نہ جنوں کی نوع سے تاکہ کوئی شخص اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے سے بچنے کی خاطر یہ نہ کہہ سکے کہ آپ تو مافوق البشر تھے۔ ہم انسان بھلا ان کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں۔
1۔ اللہ کی کتاب جوں جوں نازل ہو وہ لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔ تاکہ وہ بھی ان آیات کو سینوں میں اور مصاحف میں محفوظ کر سکیں۔
2۔ اپنے پیرو کاروں کا تزکیۂ نفس کرے۔ ان کے اعمال و افعال پر نظر رکھے۔ اور جہاں کہیں کوئی کمی، کو تاہی، یا غلطی نظر آئے، انہیں متنبہ کرے اور ان کی اصلاح کرتے ہوئے ان کی تربیت کرے۔
3۔ کتاب اللہ کی تعلیم دے یا سکھلائے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کتاب اللہ کو پڑھ کر سنا دینا اور بات ہے اور اس کی تعلیم دینا اور بات ہے۔ تعلیم دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے معانی کی تشریح و تفسیر بھی بتلائے۔ صحابہ کرامؓ کی زبان اگرچہ عربی ہی تھی۔ مگر بارہا ایسا ہوا کہ انہیں مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی تو آپ نے انہیں صحیح مفہوم سے آگاہ کیا اور بعض دفعہ خود بھی پوچھ لیا کرتے تھے۔
4۔ کتاب کے ساتھ انہیں حکمت بھی سکھلائے، حکمت بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک نظری دوسرے عملی، یعنی انہیں آیات اللہ کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کرے اور احکام الٰہی کو عمل میں لانے کا طریقہ یا طریقے بھی بتلائے اور خود کر کے دکھلائے۔ بالفاظ دیگر حکمت سے سنت بھی مراد لی جا سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه المنَّةُ التي امتنَّ الله بها على عباده أكبر النعم بل أصلها، وهي الامتنان عليهم بهذا الرسول الكريم الذي أنقذهم الله به من الضلالة، وعصمهم به من الهلكة فقال: {لقد منَّ الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولاً من أنفسهم}؛ يعرفون نسبه وحاله ولسانه من قومهم وقبيلتهم ناصحاً لهم مشفقاً عليهم يتلو عليهم آيات الله؛ يعلمهم ألفاظها ومعانيها {ويزكيهم}؛ من الشرك والمعاصي والرذائل وسائر مساوئ الأخلاق {ويعلمهم الكتاب}؛ إما جنس الكتاب الذي هو القرآن فيكون قوله: {يتلو عليهم آياته}؛ المراد به الآيات الكونية، أو المراد بالكتاب هنا الكتابة فيكون قد امتنَّ عليهم بتعليم الكتاب والكتابة التي بها تدرك العلوم وتحفظ {والحكمة}؛ هي: السنة التي هي شقيقة القرآن، أو وضع الأشياء مواضعها ومعرفة أسرار الشريعة فجمع لهم بين تعليم الأحكام وما به تُنَفَّذ الأحكام وما به تدرك فوائدها وثمراتها ففاقوا بهذه الأمور العظيمة جميع المخلوقين، وكانوا من العلماء الربانيين {وإن كانوا من قبل}؛ بعثة هذا الرسول {لفي ضلال مبين}؛ لا يعرفون الطريق الموصل إلى ربهم، ولا ما يزكي النفوس، ويطهرها، بل ما يزين لهم جهلهم فعلوه، ولو ناقض ذلك عقول العالمين!