تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اب مسلمانوں کا حال بھی بنی اسرائیل جیسا ہو گیا، اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ جو شخص خود عمل نہ کرے وہ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم نہ دے، کیونکہ یہود کو اس بات پر عار دلائی ہے کہ وہ عمل نہیں کرتے، اس پر نہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور جو شخص دعوت دے کر خود عمل نہ کرے اسے دوسروں سے زیادہ سزا ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور اس کی انتڑیاں آگ میں نکل کر ڈھیر ہو جائیں گی، وہ ان کے گرد ایسے گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے۔ آگ والے اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! تیرا کیا معاملہ ہے؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا، میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود وہ کام نہیں کرتا تھا اور تمھیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔“ [بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنہا مخلوقۃ: ۳۲۶۷، عن أسامۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انسان پورا سمجھ دار نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگوں کو اللہ کے خلاف کام کرتے ہوئے دیکھ کر ان کا دشمن نہ بن جائے اور اپنے نفس کا ان سے بھی زیادہ۔ ان لوگوں کو اگر رشوت وغیرہ نہ ملتی تو حق بتا دیتے لیکن خود عامل نہ تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی۔
طبرانی کی معجم کبیر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عالم لوگوں کو بھلائی سکھائے اور خود عمل نہ کرے اس کی مثال چراغ جیسی ہے کہ لوگ اسی کی روشنی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن وہ خود جل رہا ہے۔ [طبرانی کبیر:1681:جید] یہ حدیث غریب ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ معراج والی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو کہا گیا کہ یہ آپ کی امت کے خطیب اور واعظ اور عالم ہیں جو لوگوں کو بھلائی سکھاتے تھے مگر خود نہیں کرتے تھے علم کے باوجود سمجھتے نہیں تھے۔ [مسند احمد:12879:صحیح بالشواھد]
ایک ضعیف حدیث طبرانی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کو کسی قول و فعل کی طرف بلائے اور خود نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے غضب و غصہ میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ خود آپ عمل کرنے لگ جائے۔ [ابو نعیم فی الحلیة7/2:ضعیف] ابراہیم نخعی رحمہ اللہ [تفسیر قرطبی:367/1] نے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی تینوں آیتیں پیش کر کے فرمایا ہے کہ میں ان کی وجہ سے قصہ گوئی پسند نہیں کرتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أتأمرون الناس بالبر}؛ أي: بالإيمان والخير، {وتنسون أنفسكم}؛ أي: تتركونها عن أمرها بذلك والحال، {وأنتم تتلون الكتاب أفلا تعقلون}؛ وسُمِّي العقل عقلاً؛ لأنه يعقل به ما ينفعه من الخير، وينعقل به عما يضره، وذلك أن العقل يحث صاحبه أن يكون أول فاعل لما يأمر به، وأول تارك لما ينهى عنه، فمن أمر غيره بالخير ولم يفعله أو نهاه عن الشر فلم يتركه دل على عدم عقله وجهله، خصوصاً إذا كان عالماً بذلك، قد قامت عليه الحجة، وهذه الآية وإن كانت نزلت في سبب بني إسرائيل، فهي عامة لكل أحد لقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون كبر مقتاً عند الله أن تقولوا ما لا تفعلون}؛ وليس في الآية أن الإنسان إذا لم يقم بما أُمِر به أنه يترك الأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر؛ لأنها دلت على التوبيخ بالنسبة إلى الواجبَيْنِ، وإلا فمن المعلوم أن على الإنسان واجبين: أمر غيره ونهيه، وأمر نفسه ونهيها، فترك أحدهما لا يكون رخصة في ترك الآخر، فإن الكمال أن يقوم الإنسان بالواجبَيْنِ، والنقص الكامل أن يتركهما، وأما قيامه بأحدهما دون الآخر فليس في رتبة الأول وهو دون الأخير، وأيضاً فإن النفوس مجبولة على عدم الانقياد لمن يخالف قولَه فعلُه، فاقتداؤهم بالأفعال أبلغ من اقتدائهم بالأقوال المجردة.