میت کی ہڈی توڑنے، میت پر نوحہ کرنے اور میت کا اعلان کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

میت کی ہڈی توڑنے کی ممانعت

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مومن کی حالتِ میت میں ہڈی توڑنا گناہ کے لحاظ سے ایسے ہی ہے جیسے اس کی زندگی میں اس کی ہڈی توڑی جائے۔
ابوداؤد، كتاب الجنائز 3207۔ ابن ماجه، ما جاء في الجنائز 1616۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 117/6، حدیث 4793۔

میت پر نوحہ کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اثنتان فى الناس هما بهم كفر: الطعن فى النسب، والنياحة على الميت
”لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا.“
مسلم، کتاب الایمان 67/120۔
② سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران ودرع من جرب
”نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے پہلے توبہ نہ کرے تو وہ روزِ قیامت اس حالت میں اٹھائی جائے گی کہ اس پر تارکول کا پاجامہ اور خارش زدہ قمیص ہوگی۔“
مسلم، كتاب الجنائز 29 / 934۔ ابن ماجه، ما جاء في الجنائز 1581۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 402/5، حدیث 2269۔
③ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الميت يعذب فى قبره بما نيح عليه
”میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔“
بخاري، كتاب الجنائز 1292۔ مسلم، کتاب الجنائز 927/17۔
④ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت فرمائی۔
ابوداؤد، کتاب الجنائز 3128۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 80/3، حدیث 11628۔

میت کا اعلان کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میت کا اعلان کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والنعي فإنه من عمل الجاهلية
”میت کا اعلان کرنے سے بچو کیونکہ وہ عملِ جاہلیت میں سے ہے۔“
ترمذی، کتاب الجنائز 986۔
② سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے متعلق کسی کو اطلاع نہ دینا، میں ڈرتا ہوں کہ یہ موت کے اعلان میں شامل نہ ہو جائے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میت کا اعلان کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
ترمذی الجنائز، حديث 986، یہ روایت ضعیف ہے ۔