ذبائح، قربانی کے جانوروں کے احکامات اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الأضحية

ذبائح کے متعلق احکامات

① سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے دو چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته
”یقینا اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے۔ پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، جب تم ذبح کرو تو اچھے انداز سے ذبح کرو اور تم اپنی چھری تیز کر لو اور اپنے ذبیح کو آرام و راحت پہنچاؤ۔“
مسلم، کتاب الصید والذبائح ومايؤكل من الحيوان 1955۔ ابوداؤد، كتاب الضحايا 2814۔

قربانی کے جانوروں کے متعلق احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم ، وإنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها ، وإن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يعق على الأرض ، فطيبوا بها نفسا
”قربانی والے دن اللہ کو آدمی کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ وہ اس دن خون بہائے (قربانی کرے)۔ وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں, بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا۔ اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے۔ پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔“
ترمذی، کتاب الاضاحی 1493۔ اس کی سند میں ابو المثنی راوی ضعیف ہے۔ لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے سفیدی کے ساتھ سیاہی کی آمیزش والے (چتکبرے) اور سینگوں والے دو مینڈھے قربان کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اللہ کا نام لیا، تکبیر پڑھی (بسم اللہ اللہ اکبر) اور اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا۔
بخاری، کتاب الاضاحی 1712۔ مسلم، كتاب الاضاحی 1966۔

غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کی ممانعت

① سیدنا عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چار کلمات خصوصی طور پر مجھے بتائے۔ اس شخص نے کہا: امیر المؤمنین! وہ کون سے کلمات ہیں۔ فرمایا:
لعن الله من لعن والديه ، ولعن الله من ذبح لغير الله ، ولعن الله من آوى محدثا ، ولعن الله من غير منار الأرض
”اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے والدین پر لعن طعن کرتا ہے، جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح کرتا ہے تو اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔ جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے، جو شخص زمین کے نشانات (حدود) بدلتا ہے اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔“
مسلم، کتاب الاضاحی 43 / 1978۔ النسائي ، الضحايا 7 / 205،204۔