عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا حکمران بھی طاغوت ہیں؟
جواب: وہ جابر اور ظالم حکمران جو فیصلے کے لیے کتاب و سنت کا پابند نہ ہو بلکہ انسان پر انسانوں کے بنائے قوانین نافذ کرے، وہ یقیناً طاغوت ہے۔ ایسے حکمران کے بارے میں فرمایا: [وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ] اور جو اللہ کے نازل کیے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے، وہ کافر ہیں۔ (المائدة: 44)
سوال: حکمرانوں کو اختلاف کی صورت میں کس چیز کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہیے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا] پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔(النساء:59)
معلوم ہوا کہ جھگڑا کسی چیز میں ہو، جتنا بھی ہو، جیسا بھی ہو، اس میں فیصلے کے لیے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی کی طرف رجوع کرنا ہو گا اور اس بات کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان کی شرط قرار دیا اور اس کو دنیا و آخرت میں بھلائی کا سبب قرار دیا۔ پھر جو لوگ اس قانون کی بجائے بشری قوانین کے ذریعے اپنے معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں وہ کیسے مومن ہیں۔
یہ بھی فرمایا: [فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا] (اے محمد!) تیرے رب کی قسم! یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ پھر جو کچھ تم فیصلہ کر دو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر تسلیم خم کر لیں۔ (النساء:65)
اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر اور نفی کے الفاظ کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے جھگڑوں میں نبیِ رحمت ﷺ کو حاکم و فیصل نہ بنانے والوں کو خارج از ایمان قرار دیا ہے اور آپ کے فیصلے کے سامنے غیر مشروط طور پر سر تسلیم خم کرنے کا حکم دیا۔
سوال: اللہ اور رسول ﷺ کی بجائے کسی اور سے فیصلہ کروانے کا جرم کتنا بڑا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزۡعُمُوۡنَ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ وَ قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا]
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ (ﷺ) پر اور آپ (ﷺ) سے پہلے نازل ہوا اس سب پر ایمان رکھتے ہیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ طاغوت کے پاس لے جا کر فیصلہ کروائیں، حالانکہ ان کو اس سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور شیطان ان کو دور کی گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے۔(النساء:60)
یقیناً جو حکمران ان قوانین کو ملک کے عوام پر نافذ کرتے ہیں جو انسانوں نے بنائے ہیں (چاہے وہ مارشل لاء ہو یا اسمبلی کا پاس کردہ قانون یا کسی ایک شخص کا بنایا ہوا کوئی آئین) وہ طاغوت ہے اور جو شخص طاغوت سے فیصلہ کروانا چاہتا ہے ،،يُزْعُمُوْنَ،، کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ان کے دعویٰ ایمان کو جھٹلا دیا کہ یہ ایمان دار بنتے ہیں لیکن یہ طرزِ عمل اور ایمان ایک بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے۔ [قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ] فرما کر مسلم پر لازم کر دیا کہ وہ طاغوت سے دشمنی کرے۔ یہ طاغوت چاہے دیہاتوں میں قبیلوں کے سرداروں کی پنچائیت، ثالثی کمیٹی یا جرگہ ہو، جو کتاب و سنت کی بجائے رسم و رواج کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، یا وہ عدالتیں ہیں جو اسلامی ممالک میں موجود ہیں، یہ عدالتیں اسمبلی کے بنائے ہوئے آئین کے مطابق کتاب و سنت سے آزاد لوگوں میں فیصلہ کرتی ہیں جن پر پولیس اور فوج زبردستی عمل درآمد کرواتی ہے تو اس کفر سے بڑھ کر اور کفر کیا ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَمَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ] اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔ (المائدة:44)
[وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ] اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (المائدة:45)
[وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ] اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ (المائدة:47)
یہ محال ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو کافر کہے اور وہ کافر نہ ہوں، ہرگز نہیں یہ لوگ پکے کافر ہیں اور جب ان سے فیصلہ کروانے والے منافقین کے دعویٰ ایمانی (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار) کی اللہ تعالیٰ نے نفی کی ہے تو خود فیصلہ کرنے والوں کے کلمہ کا کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ جب صحابہ نے منکرین زکوۃ اور خوارج کے کلمہ کا اعتبار نہ کیا اور ان کو قتل کیا تو بشری قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والے بھی کافر ہیں، خواہ وہ کلمہ پڑھتے ہوں۔
سوال: بعض لوگ قصۂ یوسف (علیہ السلام) سے یہ بات نکالتے ہیں کہ فرعون (طاغوت) کی حکومت میں ایک مسلمان کا اسمبلی ممبر بننا یا وزیر بننا جائز ہے؟
جواب: اس بات میں تو کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ جو حاکم بھی شریعت سے بے پروا ہو کر قانون و دستورِ حکمرانی مقرر کرے وہ طاغوت ہے اور اس کے بنائے ہوئے قانون کا انکار ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے لیے بھی شرطِ ایمان ہے۔ جب حقیقت حال یہ ہے تو کیا ایک کریم ابن کریم ہستی یوسف علیہ السلام کے بارے میں ایسا سوچنا بھی جائز ہو گا کہ وہ فرعونی نظامِ دستور کے نفاذ میں ایک واسطہ ہوں؟ معاذ اللہ! یہ تو صریح ظلم و زیادتی ہے۔ تفصیلات کچھ بھی ہوں یقیناً وہ نبی کی حیثیت سے طاغوت کے سب سے بڑھ کر انکار کرنے والے اور اللہ کے حکم کے سب سے زیادہ فرماں بردار اور اسے قائم کرنے والے تھے، لہذا ان لوگوں کے لیے جو آج کی طاغوتی حکومتوں کی چاکری میں مصروف ہیں اور ان کے بنائے ہوئے دساتیر و قوانین کی حلف برداریاں کرتے پھرتے ہیں اور اکثریت کی حاکمیت و اختیار کو تسلیم کرتے ہیں ان کے لیے برگزیدہ نبی (علیہ السلام) کے قصے میں ہرگز کوئی گنجائش موجود نہیں، جو اپنے وعظ میں ڈنکے کی چوٹ فرماتے تھے: [اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ] حاکمیت کا حق صرف اللہ کے لیے ہے۔ (یوسف:40)