قیامت کی نشانی : دابّة الارض (زمین سے نکلنے والا جانور)

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : دابّة الارض (زمین سے نکلنے والا جانور)

ارشاد باری تعالی ہے :
وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ
”جب ان پر (عذاب الہی) کا وعدہ ثابت ہو جائے گا تو ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔“
(النمل : 82)

احادیث کی روشنی میں :

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ثلاث إذا خرجن لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت فى إيمانها خيرا : طلوع الشمس من مغربها والدجال ودابة الأرض
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تین علامات (قیامت) ظاہر ہو جائیں گی تو پھر کسی ایسے مؤمن کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی کا کام نہیں کیا تھا۔
(1) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
(2) دجال
(3) اور زمین سے جانور کا نکلنا
مسلم : كتاب الايمان : باب الزمن الذى لا يقبل فيه الايمان (249) احمد (588/2) ترمذی (3072) ابن ابی شیبة (669/8) أبو عوانة (4107/1)
عن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدابة
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں) شمار کیا ، ایک جانور نکلے گا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في الآيات التي تكون قبل الساعة (2901) ترمذی (2183) ابو داؤد (4311) شرح السنة (432/7) الحلمية (355/1) احمد (588/2)
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا لم أنسه بعد سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة على الناس ضحى وأيهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على إثرها قريبا
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو آج تک مجھے ازبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ علامات (قیامت) میں سب سے پہلے سورج مغرب سے طلوع ہوگا پھر بوقت چاشت ایک جانور نکلے گا۔ ان دونوں (نشانیوں) میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہوئی ، دوسری اس کے بالکل فوری بعد رونما ہو جائے گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال (2941) ابو داؤد (114/4) حاكم (590/4) شرح السنة (4186) ابن ماجة (4120) احمد (265/2)
عن أبى أمامة رضى الله عنه يرفعه إلى النبى صلى الله عليه وسلم قال : تخرج الدابة فتسم الناس على خراطيمهم ثم يغمرون فيكم حتى يشتري الرجل البعير فيقول : ممن اشتريته ؟ فيقول : اشتريته من أحد المخطمين
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جانور (دابہ) نکلے گا جو لوگوں کی پیشانیوں پر نشان لگائے گا اور وہ نشان زدہ لوگ بکثرت ہو جائیں گے حتی کہ آدمی اونٹ خریدے گا تو وہ پوچھے گا کہ کس سے یہ خریدا ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے یہ (اونٹ) کسی نشان زدہ سے خریدا ہے۔
احمد (336/5) مجمع الزوائد : کتاب الفتن : باب خروج الدابة (12573)
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بادروا بالأعمال ستا : أو الدابة
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية من أحاديث الدجال (2947) أحمد (428/2) (444/2) ابن حبان (6790) حاکم (561/4) طیالسی (2549) شرح السنة (431/7) ابو يعلى (397/11)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھ چیزوں سے پہلے اعمال (صالحہ) میں سبقت کرو : جانور نکلنے سے پہلے۔

فوائد :

➊ قبل از قیامت زمین سے ایک جانور (دابہ) نکلے گا جو لوگوں سے گفتگو کرے گا۔ یہ قیامت کی آخری بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
➋ یہ ایک بہت بڑا چوپایہ ہو گا جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
دیکھئے ابن كثير (598/3 – 599) النهاية فى الفتن (108/1)
➌ دابة الارض کی کیفیت و ماہیت شکل و صورت وغیرہ کی حتمی تعیین قرآن وسنت میں مذکور نہیں اس لیے اس مسئلہ میں بحث و تمحیص کرنا مختلف تاویلات کا سہارا لینا، یا غیر مستند اسرائیلی روایات پر اعتماد کرنا لا یعنی و سعی لا حاصل ہے۔
➍ بعض غیر مستند روایات میں مذکورہ جانور کی عجیب و غریب تصویر کشی کی گئی ہے کہ اس کے بال، کھر اور داڑھی ہوگی مگر دم نہیں ہوگی ، اس کا سر بیل کے سر کے مشابہہ ہوگا ، آنکھیں خنزیر کی آنکھوں جیسی ہوں گی ، کان ہاتھی کے کانوں جیسے اور سینگ والی جگہ اونٹ کی طرح ہوگی ، شیر جیسا سینہ ہوگا، چیتے جیسا رنگ، بلی جیسی کمر مینڈھے جیسی دم ، اونٹ جیسے پاؤں ہوں گے. حالانکہ یہ روایات بھی باہم متعارض و متضاد ہیں۔
➎ توبہ کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ اس جانور کو ظاہر کریں گے جو لوگوں میں تمیز و تفریق کرتے ہوئے لوگوں کی پیشانیوں پر مسلمان یا کافر کی مہر لگائے گا۔
یا اللہ ہمیں ایمان پر زندہ رکھ اور ایمان پر موت دے۔ آمين