نفع و نقصان کے معاملہ میں پیغمبر بھی بے بس ہیں
رب کریم نے مخلوق میں سے افضل ترین شخص کو یہ کہا کہ وہ خود اعلان کرے کہ میں تو اپنی جان کو نفع دے سکتا ہوں نہ نقصان۔ ارشادِ الہی ہے:
قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّه
”اے نبی! ان سے کہو کہ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔“
(7-الأعراف:188)
قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ﴿٢١﴾ قُلْ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا ﴿٢٢﴾ إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ
”کہو میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا۔ کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔“
(72-الجن:21-23)
یعنی اگر میں رب کریم کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی پناہ دینے والا اور اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ ارشاد ربانی ہے:
قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
”کہو اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔“
(6-الأنعام:15)
ولن أجد من دونه ملتحدا
”یعنی میری پناہ گاہ کوئی نہیں۔“
إلا بلاغا من الله ورسالاته
”یعنی اللہ کی اطاعت کے سوا مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور یہ کہ میں اس کے احکام لوگوں تک پہنچا دوں۔“
یعنی یہی وہ عمل خالص ہے جس کی بدولت امن اور پنا مل سکتی ہے۔
لا أملك لكم ضرا ولا رشدا
”کا ایک مفہوم یہ بھی منقول ہے کہ میں تبلیغ رسالت کے علاوہ کسی چیز کا مالک و متصرف نہیں۔“
قرآن کریم میں اس کی امثلہ بے شمار ہیں۔