مکہ و مدینہ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
مضمون کے اہم نکات

بسم الله الرحمن الرحيم

فضائلِ مکہ مکرمہ

مکہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شہر ہے

سیدنا عبد اللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

والله إنك لخير أرض الله، وأحب أرض الله إلى الله، ولولا أني أخرجت منك ما خرجت.

قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا۔ [سنن الترمذی: 3925، سنن ابن ماجہ: 3108، مسند احمد: 18715]

مکہ امن والا شہر ہے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ ہٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِیۡنِ]

اور اس امن والے شہر کی! [التين:3]

اور فرمایا: [اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا]

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے۔ [العنكبوت:67]

مکہ میں خانۂ کعبہ ہے، جو سب سے پہلا گھر ہے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ]

بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، یقینا وہی ہے جو بکہ میں ہے، بہت با برکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔  [آل عمران:96]

مکہ میں نماز کا ثواب بہت زیادہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [صلاة في مسجدي أفضل من ألف صلاة فيما سواه، إلا المسجد الحرام، وصلاة في المسجد الحرام أفضل من مائة ألف صلاة فيما سواه]

میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 1406، مسند احمد: 14694]

مکہ میں ظلم کا ارادہ بھی سخت وعید کا سبب ہے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ]

اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے۔ [الحج: 25]،[تفسیر: تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی]

حرم مکہ میں کون کون سے کام کرنا ممنوع ہیں:

حرم مکہ کو اللہ نے امن کی جگہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا وہاں:
[1] نہ وہاں فوج کشی جائز ہے نہ جدال و قتال حتیٰ کہ بلا ضرورت کوئی ہتھیار اٹھانا بھی ممنوع ہے۔ اگر کوئی مجرم بھی حرم میں پناہ لے لے تو جب تک حرم میں ہے۔ اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔
[2] حرم مکہ کے جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ نہ ان کا شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ انھیں شکار کے لئے ہانکا جا سکتا ہے۔ البتہ موذی جانور کو حرم میں بھی مارنے کی اجازت ہے۔
[3] حرم مکہ کے پودے درخت اور گھاس وغیرہ بھی محفوظ و مامون ہیں۔ البتہ بعض اقتصادی ضروریات کے پیش نظر اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت دی گئی۔
[4] حرم مکہ سے کوئی گری پڑی چیز بھی اٹھانا روا نہیں۔ الا یہ کہ اٹھانے والا مالک کو پہچانتا ہو اور وہ اسے پہنچا دے۔ مندرجہ بالا امور میں پیشتر کام ایسے ہیں جو دوسرے مقامات پر کرنے جائز ہیں مگر حرم مکہ میں کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کرنے جائز نہیں۔ پھر ایسے کام مثلاً الحاد، بے دینی اور شرارت کے کام جو دوسرے مقامات پر بھی ممنوع ہیں انھیں اگر حرم مکہ میں کیا جائے تو یہ جرم کتنا شدید ہو جائے گا؟ پھر اس نسبت سے اس کی سزا میں بھی اضافہ ہو گا۔

مکہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے

رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن فرمایا: [إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السموات والأرض فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة]

کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے ، اسی دن اس شہر (مکہ) کو حرم قرار دے دیا۔ پس یہ شہر اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہی رہے گا۔

[صحیح البخاری: 3189، صحیح مسلم: 1353]

فضائلِ مدینہ منورہ

مدینہ رسول اللہ ﷺ کا شہر اور ہجرت گاہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب وهي المدينة، تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد]

مجھے ایک ایسے شہر (میں ہجرت) کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا ۔ (یعنی سب کا سردار بنے گا) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں لیکن اس کا نام مدینہ ہے وہ (برے) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے ۔ [صحیح البخاری: 1871، صحیح مسلم: 1382]

مدینہ بھی حرم ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أن إبراهيم حرم مكة ودعا لها ، وحرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة]

ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا ، اور اس کے لیے دعا فرمائی ۔ میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں،جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ [صحیح البخاری: 2129، صحیح مسلم: 1360]

مدینہ ایمان کا مرکز ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا]

(قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔ [صحیح البخاری: 1876، صحیح مسلم: 147]

مدینہ پاکیزہ شہر ہے، برے لوگوں کو نکال دیتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [إنها طيبة يعني المدينة، وإنها تنفي الخبث، كما تنفي النار خبث الفضة]

بلاشبہ یہ طیبہ (پاک) ہے۔ آپ ﷺکی مراد مدینہ سے تھی۔ یہ میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتی ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ [صحیح مسلم: 1384]

مدینہ میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوں گے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [على أنقاب المدينة ملائكة، لا يدخلها الطاعون، ولا الدجال]

مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے نہ دجال۔ [صحیح البخاری: 1880، صحیح مسلم: 1379]

مدینہ میں صبر کرنے والے کے لیے شفاعت کی بشارت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا يصبر على لأوائها وشدتها أحد ، إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة]

جو بندہ مدینہ کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کرے گا، قیامت کے دن میں اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ [صحیح مسلم: 1377]

مدینہ میں موت کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [من استطاع أن يموت بالمدينة فليمت بها ، فإني أشفع لمن يموت بها]

جو مدینہ میں مر سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا۔ [سنن الترمذی: 3917، سنن ابن ماجہ: 3112، مسند احمد: 5437]