اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ الَّذِیۡ جَعَلۡنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَۨ الۡعَاکِفُ فِیۡہِ وَ الۡبَادِ ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪۲۵﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے اور اس حرمت والی مسجد سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے۔
En
جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے اور مسجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت گاہ) بنایا ہے روکتے ہیں۔ خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے۔ اور جو اس میں شرارت سے کج روی (وکفر) کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
En
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں، جو بھی ﻇلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 25) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ {” وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ “} کے مقابلے میں ہے کہ اہل ایمان کو اللہ ({الْحَمِيْدِ}) کے راستے کی ہدایت عطا ہوئی، جب کہ کفار کا یہ حال ہے کہ وہ خود بھی راہ ہدایت اختیار کرنے کا انکار کر چکے ہیں اور لوگوں کو بھی اللہ کے راستے (اسلام) اور مسجد حرام سے مسلسل روک رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مومنوں کے لیے جنت اور کافروں کے لیے عذابِ الیم ہے۔ {” كَفَرُوْا “} ماضی ہے اور {” يَصُدُّوْنَ “} مضارع، یعنی وہ کافر تو گزشتہ زمانے سے ہو چکے، البتہ ان کا لوگوں کو اسلام سے اور مسجد حرام سے روکنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ماضی پر مضارع کے عطف کی ایک اور مثال اس آیت میں ہے: «{ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ }» [الرعد: ۲۸]کفار مسلمانوں کو ہجرت سے پہلے بھی مسجد حرام میں آنے، نماز پڑھنے اور طواف کرنے سے روکتے تھے، (علق: ۹، ۱۰) اور ہجرت کے بعد بھی جب وہ سن ۶ ہجری میں عمرہ کرنے کے لیے آئے تو کفار نے انھیں عمرہ کرنے سے منع کر دیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۲۵، ۲۶) اور بقرہ (۲۱۷) نتیجہ یہ کہ اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے کفار عذاب الیم کے حق دار ٹھہرے جب کہ مسلمان اللہ کے راستے ({صِرَاطِ الْحَمِيْدِ}) پر چلنے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے۔
➋ { وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ …:} اگرچہ اللہ کے راستے سے روکنے میں مسجد حرام سے روکنا بھی شامل تھا مگر اسے علیحدہ ذکر فرمایا۔ مقصود مسجد حرام کی عظمت کو نمایاں کرنا ہے اور اس مناسبت سے اس کی تعمیر، حج کی ابتدا، طواف اور دوسرے چند احکام، پھر قربانی، اس کی حکمت اور اہمیت کی طرف منتقل ہونا ہے۔
➌ { ” الْعَاكِفُ “} کا لفظی معنی ”اپنے آپ کو روک کر رکھنے والا“ ہے اور مراد مکہ کا باشندہ ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں {”الْبَادِ “} آ رہا ہے، یعنی ”بادیہ“ (باہر) سے آنے والا۔ کفار کے ظلم کا بیان ہے کہ وہ اس مسجد سے لوگوں کو روکتے ہیں جس میں عبادت، طواف، عمرہ اور حج کے لیے آنا سب لوگوں کا برابر حق ہے، خواہ مکہ کے رہائشی ہوں یا باہر سے آنے والے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ! لَا تَمْنَعُوْا أَحَدًا طَافَ بِهٰذَا الْبَيْتِ وَصَلَّی أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ] [ترمذي، الحج، باب ما جاء في الصلاۃ بعد العصر…: ۸۶۸] ”اے بنی عبد مناف! کسی شخص کو مت روکو جو رات یا دن کی کسی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنا چاہے یا (اس میں) نماز پڑھنا چاہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام میں نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی نماز اور طواف جائز ہے۔
➍ تیسیر القرآن میں ہے کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصے دار قرار دیا ہے اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے؟ جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج و عمرہ بجا لانے سے روکیں، کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصے دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لیے کھلے رہنے چاہییں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر موجود جس جگہ چاہیں آ کر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے؟ اس اختلاف کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ، مزدلفہ، مشعر حرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں، جب کہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد حرام کا ذکر کرکے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے، مثلاً ارشاد باری ہے: «{ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ}» [البقرۃ:۱۹۶] ”یہ (رعایت) اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔“ اور یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص مسجد حرام کے اندر رہائش پذیر نہیں ہوتا، یہاں لازماً مسجد حرام سے مراد حرم مکہ ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ }» [البقرۃ: ۲۱۷] ”اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک (ماہ حرام میں جنگ کرنے سے) زیادہ بڑا ہے۔“
پھر اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرم میں زمین اور مکان کی خرید و فروخت اور اس سے آگے ان کی ملکیت و وراثت بھی جائز ہے یا نہیں؟ تو یہ بات تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے ملکیت و وراثت اور بیچنے اور کرایہ پر دینے کے حقوق قائم تھے جو اسلام کے بعد بھی قائم رہے، اسلام نے انھیں منسوخ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد عقیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر قبضہ کر لیا، پھر اسے بیچ بھی دیا، چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَهَلْ تَرَكَ عَقِيْلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُوْرٍ] [بخاري، الحج، باب توریث دور مکۃ و بیعہا و شرائہا…: ۱۵۸۸] ”کیا عقیل نے ہمارا کوئی مکان چھوڑا بھی ہے (جس میں ہم رہیں)؟“ نیز عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نافع بن عبد الحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک گھر جیل خانہ بنانے کے لیے اس شرط پر خریدا کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہو گی، بصورت دیگر صفوان کو چار سو دینار مل جائیں گے۔ [بخاري، في الخصومات، باب الربط والحبس في الحرم، قبل ح: ۲۴۲۳] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خرید و فروخت جائز ہے (وہ چار سو دینار عمر رضی اللہ عنہ کا حکم آنے تک کے عرصے کا کرایہ شمار ہوں گے یا اتنی دیر تک فروخت سے روک رکھنے کا زر تلافی)۔ کچھ حضرات نے بخاری کی صحیح روایات کے مقابلے میں ضعیف روایات کے ساتھ مکہ کے مکانات کی خرید و فروخت اور انھیں کرایہ پر دینے کو حرام ٹھہرایا ہے، ان روایات میں سے ایک بھی صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، کوئی منقطع ہے، کوئی مرسل اور کسی میں کوئی راوی ضعیف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے قول سے دین کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مکہ کے مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے، تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خرید و فروخت اور وراثت وغیرہ جائز ہے، جیسا کہ عنوان {”بَابُ تَوْرِيْثِ دُوْرِ مَكَّةَ وَ بَيْعِهَا وَ شِرَائِهَا“} (اس بات کا بیان کہ مکہ میں موجود مکانات میراث ہو سکتے ہیں اور ان کی خرید و فروخت جائز ہے) سے معلوم ہو رہا ہے۔
➎ {وَ مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ …: ”اِلْحَادٌ“} سیدھے راستے سے ہٹ جانا۔ ظلم کا لفظ عام ہے جس میں سب سے پہلے کفر و شرک آتا ہے، پھر کوئی بھی کام کرنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، یا کوئی کام ترک کرنا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اس میں بدعت بھی شامل ہے اور گناہ کا کوئی اور کام بھی، مثلاً حرم کی حرمت کا خیال نہ رکھنا، یعنی حرم کے جانوروں کو ذبح کرنا، اس کے درختوں کو کاٹنا، کسی کی گم شدہ چیز اٹھانا، الا یہ کہ اسے استعمال نہ کرے اور اس کا اعلان ہمیشہ کرتا رہے، اس میں ذخیرہ اندوزی کرنا۔ غرض دوسری جگہوں میں ٹیڑھی راہ اختیار کرنا عذابِ الیم کا باعث ہے مگر حرم مکہ میں اس کا ارادہ بھی عذابِ الیم کا باعث ہے۔
➋ { وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ …:} اگرچہ اللہ کے راستے سے روکنے میں مسجد حرام سے روکنا بھی شامل تھا مگر اسے علیحدہ ذکر فرمایا۔ مقصود مسجد حرام کی عظمت کو نمایاں کرنا ہے اور اس مناسبت سے اس کی تعمیر، حج کی ابتدا، طواف اور دوسرے چند احکام، پھر قربانی، اس کی حکمت اور اہمیت کی طرف منتقل ہونا ہے۔
➌ { ” الْعَاكِفُ “} کا لفظی معنی ”اپنے آپ کو روک کر رکھنے والا“ ہے اور مراد مکہ کا باشندہ ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں {”الْبَادِ “} آ رہا ہے، یعنی ”بادیہ“ (باہر) سے آنے والا۔ کفار کے ظلم کا بیان ہے کہ وہ اس مسجد سے لوگوں کو روکتے ہیں جس میں عبادت، طواف، عمرہ اور حج کے لیے آنا سب لوگوں کا برابر حق ہے، خواہ مکہ کے رہائشی ہوں یا باہر سے آنے والے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ! لَا تَمْنَعُوْا أَحَدًا طَافَ بِهٰذَا الْبَيْتِ وَصَلَّی أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ] [ترمذي، الحج، باب ما جاء في الصلاۃ بعد العصر…: ۸۶۸] ”اے بنی عبد مناف! کسی شخص کو مت روکو جو رات یا دن کی کسی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنا چاہے یا (اس میں) نماز پڑھنا چاہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام میں نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی نماز اور طواف جائز ہے۔
➍ تیسیر القرآن میں ہے کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصے دار قرار دیا ہے اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے؟ جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج و عمرہ بجا لانے سے روکیں، کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصے دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لیے کھلے رہنے چاہییں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر موجود جس جگہ چاہیں آ کر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے؟ اس اختلاف کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ، مزدلفہ، مشعر حرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں، جب کہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد حرام کا ذکر کرکے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے، مثلاً ارشاد باری ہے: «{ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ}» [البقرۃ:۱۹۶] ”یہ (رعایت) اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔“ اور یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص مسجد حرام کے اندر رہائش پذیر نہیں ہوتا، یہاں لازماً مسجد حرام سے مراد حرم مکہ ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ }» [البقرۃ: ۲۱۷] ”اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک (ماہ حرام میں جنگ کرنے سے) زیادہ بڑا ہے۔“
پھر اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرم میں زمین اور مکان کی خرید و فروخت اور اس سے آگے ان کی ملکیت و وراثت بھی جائز ہے یا نہیں؟ تو یہ بات تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے ملکیت و وراثت اور بیچنے اور کرایہ پر دینے کے حقوق قائم تھے جو اسلام کے بعد بھی قائم رہے، اسلام نے انھیں منسوخ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد عقیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر قبضہ کر لیا، پھر اسے بیچ بھی دیا، چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَهَلْ تَرَكَ عَقِيْلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُوْرٍ] [بخاري، الحج، باب توریث دور مکۃ و بیعہا و شرائہا…: ۱۵۸۸] ”کیا عقیل نے ہمارا کوئی مکان چھوڑا بھی ہے (جس میں ہم رہیں)؟“ نیز عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نافع بن عبد الحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک گھر جیل خانہ بنانے کے لیے اس شرط پر خریدا کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہو گی، بصورت دیگر صفوان کو چار سو دینار مل جائیں گے۔ [بخاري، في الخصومات، باب الربط والحبس في الحرم، قبل ح: ۲۴۲۳] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خرید و فروخت جائز ہے (وہ چار سو دینار عمر رضی اللہ عنہ کا حکم آنے تک کے عرصے کا کرایہ شمار ہوں گے یا اتنی دیر تک فروخت سے روک رکھنے کا زر تلافی)۔ کچھ حضرات نے بخاری کی صحیح روایات کے مقابلے میں ضعیف روایات کے ساتھ مکہ کے مکانات کی خرید و فروخت اور انھیں کرایہ پر دینے کو حرام ٹھہرایا ہے، ان روایات میں سے ایک بھی صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، کوئی منقطع ہے، کوئی مرسل اور کسی میں کوئی راوی ضعیف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے قول سے دین کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مکہ کے مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے، تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خرید و فروخت اور وراثت وغیرہ جائز ہے، جیسا کہ عنوان {”بَابُ تَوْرِيْثِ دُوْرِ مَكَّةَ وَ بَيْعِهَا وَ شِرَائِهَا“} (اس بات کا بیان کہ مکہ میں موجود مکانات میراث ہو سکتے ہیں اور ان کی خرید و فروخت جائز ہے) سے معلوم ہو رہا ہے۔
➎ {وَ مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ …: ”اِلْحَادٌ“} سیدھے راستے سے ہٹ جانا۔ ظلم کا لفظ عام ہے جس میں سب سے پہلے کفر و شرک آتا ہے، پھر کوئی بھی کام کرنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، یا کوئی کام ترک کرنا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اس میں بدعت بھی شامل ہے اور گناہ کا کوئی اور کام بھی، مثلاً حرم کی حرمت کا خیال نہ رکھنا، یعنی حرم کے جانوروں کو ذبح کرنا، اس کے درختوں کو کاٹنا، کسی کی گم شدہ چیز اٹھانا، الا یہ کہ اسے استعمال نہ کرے اور اس کا اعلان ہمیشہ کرتا رہے، اس میں ذخیرہ اندوزی کرنا۔ غرض دوسری جگہوں میں ٹیڑھی راہ اختیار کرنا عذابِ الیم کا باعث ہے مگر حرم مکہ میں اس کا ارادہ بھی عذابِ الیم کا باعث ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 روکنے والوں سے مراد کفار مکہ ہیں جنہوں نے 6 ہجری میں مسلمانوں کو مکہ جاکر عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، اور مسلمانوں کو حدیبیہ سے واپس آنا پڑا تھا۔ 25۔ 2 اس میں اختلاف ہے کہ مسجد حرام سے مراد خاص مسجد (خانہ کعبہ) ہی ہے یا پورا حرم مکہ۔ کیونکہ قرآن میں بعض جگہ پورے حرم مکہ کے لیے بھی مسجد حرام کا لفظ بولا گیا ہے۔، یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔ جو شخص بھی کسی جگہ سے حج یا عمرے کے لئے مکہ جائے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے ٹھہر جائے، وہاں رہنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹھہرانے سے نہ روکیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مکانات اور زمینیں ملک خاص ہوسکتی ہیں اور ان میں مالکانہ تصرفات یعنی بیچنا، کرائے پر دینا جائز ہے۔ البتہ وہ مقامات جن کا تعلق مناسک حج سے ہے، مثلاً منی، مزدلفہ اور عرفات کے میدان یہ وقف عام ہیں۔ ان میں کسی کی ملکیت جائز نہیں۔ یہ مسئلہ قدیم فقہاء کے درمیان خاصہ مختلف فیہ رہا ہے۔ تاہم آجکل تقریباً تمام کے تمام علماء ہی ملکیت خاص کے قائل ہوگئے ہیں۔ اور یہ مسئلہ سرے سے اختلافی ہی نہیں رہا۔ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم نے بھی امام ابوحنیفہ اور فقہاء کا مسلک مختار اسی کو قرار پایا ہے۔ (ملاحظہ ' معارف القرآن جلد 6 صفحہ 253) 25۔ 3 الحاد کے لفظی معنی تو کج روی ہے ہیں یہاں یہ عام ہے، کفر و شرک سے لے کر ہر قسم کے گناہ کے لئے حتٰی کہ بعض عملا الفاظ قرآنی کے پیش نظر اس بات تک قائل ہیں کہ حرم میں اگر کسی گناہ کا ارادہ بھی کرلے گا، (چاہے اس پر عمل نہ کرسکے) تو وہ بھی اس وعید میں شامل ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ محض ارادے پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، جیسا کہ دیگر آیات سے واضح ہے۔ تاہم ارادہ اگر عزم مصمم کی حد تک ہو تو پھر گرفت ہوسکتا ہے۔ (فتح القدیر) 25۔ 4 یہ بدلہ ہے ان لوگوں کا جو مذکورہ گناہوں کے مرتکب ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ بلا شبہ جو لوگ کافر ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام (کی زیارت) [30] سے روکتے ہیں۔ وہ مسجد حرام جس میں ہم نے وہاں کے باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر رکھے ہیں [31] اور جو کوئی از راہ ظلم مسجد حرام میں کجروی [32] اختیار کرے گا (ایسے سب لوگوں کو) ہم دردناک عذاب چکھائیں گے۔
[30] مسلمانوں پر کعبہ میں داخلہ کی پابندیاں فتح مکہ تک قائم رہیں:۔
مراد کفار مکہ ہیں، جنہوں نے مسلمانوں پر یہ پابندیاں لگا رکھی تھیں کہ وہ نہ بیت اللہ میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ نہ طواف کر سکتے ہیں اور نہ حج و عمرہ کے ارکان بجا سکتے ہیں۔ ایک تو وہ خود مشرک اور کافر تھے۔ کعبہ کو بھی بتوں کی نجاستوں سے بھر رکھا تھا۔ پھر مزید یہ کہ توحید پرستوں پر سب راہیں مسدود کر رکھی تھیں۔ چودہ سو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں عمرہ کرنے آئے۔ تو ان سے جنگ کی ٹھان لی۔ اور حدیبیہ کے مقام تک پہنچ کر ان سے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا اور مسلمانوں پر یہ پابندیاں فتح مکہ تک بدستور بحال رہیں۔ فتح مکہ کے بعد جب کفر کا زور ٹوٹ گیا تو یہ پابندیاں از خود ہی ختم ہو گئیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق ہی ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں انھیں دردناک عذاب کا مزا چکھنا ہو گا۔
[31] یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصہ دار قرار دیا ہے۔ اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے۔ جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج و عمرہ بجا لانے سے روکیں۔ کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لئے کھلے رہنے چاہئیں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر جس جگہ چاہیں آکر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے؟ اور اس اختلاف کی وجہیں دو ہیں۔ ایک یہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ، مزدلفہ، عرفات، مشعر الحرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں جبکہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد الحرام کا ذکر کر کے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے۔ مثلاً ارشاد باری ہے:
[31] یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصہ دار قرار دیا ہے۔ اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے۔ جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج و عمرہ بجا لانے سے روکیں۔ کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لئے کھلے رہنے چاہئیں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر جس جگہ چاہیں آکر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے؟ اور اس اختلاف کی وجہیں دو ہیں۔ ایک یہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ، مزدلفہ، عرفات، مشعر الحرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں جبکہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد الحرام کا ذکر کر کے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے۔ مثلاً ارشاد باری ہے:
حرم مکہ میں بیرونی مسافروں کے حقوق:۔
﴿ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اهَْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [196: 2] یعنی یہ رعایت اس شخص کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص مسجد الحرام کے اندر رہائش پذیر نہیں ہوتا۔ یہاں لازماً مسجد الحرام سے مراد حرم مکہ ہی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّهِ﴾ [217: 2] ”مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا ماہ حرام میں جنگ کرنے سے بڑا گناہ ہے“ پھر اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرم میں زمین اور مکان کی خرید و فروخت اور اس سے آگے ان کی ملکیت و وراثت بھی جائز ہے یا نہیں۔ اور یہ بات تو احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے حقوق ملکیت و وراثت اور حقوق بیع و اجارہ قائم تھے جو اسلام کے بعد بھی قائم رہے اور اسلام نے انھیں منسوخ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد عقیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر قبضہ کر لیا۔ پھر اسے بیچ بھی دیا۔ چنانچہ حجۃ الوداع کے دوران آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیل نے ہمارے لئے مکان چھوڑا کب ہے کہ اس میں رہیں۔ [بخاري۔ كتاب المناسك۔ باب توريث دور مكه و بيها شرائها]
حرم مکہ میں جائیداد کی خرید و فروخت کا جواز:۔
سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں نافع بن عبد الحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک گھر جیل خانہ بنانے کے لئے اس شرط پر خریدا کہ اگر حضرت عمرؓ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہو گی۔ بصورت دیگر صفوان کو چار سو دینار کرایہ کے مل جائیں گے۔ [بخاري۔ كتاب فى الخصويات۔ باب الربط والحبس فى الحرم]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور کرایہ لینا بھی۔ ان سب امور کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور منیٰ میں مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے۔ تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے۔ اور امام بخاری کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خریدو فروخت اور وراثت وغیرہ سب کچھ جائز ہے جیسا کہ عنوان باب توریث دور مکہ و بیعہا و سزانہار سے معلوم ہو رہا ہے۔
[32] یعنی جو شخص جان بوجھ کر مکہ میں بے دینی یا شرارت کی کوئی بات کرے گا یا اس کے احترام کو ملحوظ نہیں رکھے گا جو اس کو کسی دوسرے مقام پر یہی جرائم کرنے کی نسبت سے دوگنی سزا ملے گی۔ مکہ کی حرمت کے پیش نظر وہاں جو کام کرنے ممنوع ہیں وہ ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور کرایہ لینا بھی۔ ان سب امور کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور منیٰ میں مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے۔ تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے۔ اور امام بخاری کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خریدو فروخت اور وراثت وغیرہ سب کچھ جائز ہے جیسا کہ عنوان باب توریث دور مکہ و بیعہا و سزانہار سے معلوم ہو رہا ہے۔
[32] یعنی جو شخص جان بوجھ کر مکہ میں بے دینی یا شرارت کی کوئی بات کرے گا یا اس کے احترام کو ملحوظ نہیں رکھے گا جو اس کو کسی دوسرے مقام پر یہی جرائم کرنے کی نسبت سے دوگنی سزا ملے گی۔ مکہ کی حرمت کے پیش نظر وہاں جو کام کرنے ممنوع ہیں وہ ہیں۔
حرم مکہ میں کون کون سے کام کرنا ممنوع ہیں:۔
حرم مکہ کو اللہ نے امن کی جگہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا وہاں:
1۔ نہ وہاں فوج کشی جائز ہے نہ جدال و قتال حتیٰ کہ بلا ضرورت کوئی ہتھیار اٹھانا بھی ممنوع ہے۔ اگر کوئی مجرم بھی حرم میں پناہ لے لے تو جب تک حرم میں ہے۔ اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔
2۔ حرم مکہ کے جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ نہ ان کا شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ انھیں شکار کے لئے ہانکا جا سکتا ہے۔ البتہ موذی جانور کو حرم میں بھی مارنے کی اجازت ہے۔
3۔ حرم مکہ کے پودے درخت اور گھاس وغیرہ بھی محفوظ و مامون ہیں۔ البتہ بعض اقتصادی ضروریات کے پیش نظر اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت دی گئی۔
4۔ حرم مکہ سے کوئی گری پڑی چیز بھی اٹھانا روا نہیں۔ الا یہ کہ اٹھانے والا مالک کو پہچانتا ہو اور وہ اسے پہنچا دے۔ مندرجہ بالا امور میں پیشتر کام ایسے ہیں جو دوسرے مقامات پر کرنے جائز ہیں مگر حرم مکہ میں کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کرنے جائز نہیں۔ پھر ایسے کام مثلاً الحاد، بے دینی اور شرارت کے کام جو دوسرے مقامات پر بھی ممنوع ہیں انھیں اگر حرم مکہ میں کیا جائے تو یہ جرم کتنا شدید ہو جائے گا؟ پھر اس نسبت سے اس کی سزا میں بھی اضافہ ہو گا۔
1۔ نہ وہاں فوج کشی جائز ہے نہ جدال و قتال حتیٰ کہ بلا ضرورت کوئی ہتھیار اٹھانا بھی ممنوع ہے۔ اگر کوئی مجرم بھی حرم میں پناہ لے لے تو جب تک حرم میں ہے۔ اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔
2۔ حرم مکہ کے جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ نہ ان کا شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ انھیں شکار کے لئے ہانکا جا سکتا ہے۔ البتہ موذی جانور کو حرم میں بھی مارنے کی اجازت ہے۔
3۔ حرم مکہ کے پودے درخت اور گھاس وغیرہ بھی محفوظ و مامون ہیں۔ البتہ بعض اقتصادی ضروریات کے پیش نظر اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت دی گئی۔
4۔ حرم مکہ سے کوئی گری پڑی چیز بھی اٹھانا روا نہیں۔ الا یہ کہ اٹھانے والا مالک کو پہچانتا ہو اور وہ اسے پہنچا دے۔ مندرجہ بالا امور میں پیشتر کام ایسے ہیں جو دوسرے مقامات پر کرنے جائز ہیں مگر حرم مکہ میں کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کرنے جائز نہیں۔ پھر ایسے کام مثلاً الحاد، بے دینی اور شرارت کے کام جو دوسرے مقامات پر بھی ممنوع ہیں انھیں اگر حرم مکہ میں کیا جائے تو یہ جرم کتنا شدید ہو جائے گا؟ پھر اس نسبت سے اس کی سزا میں بھی اضافہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسجدالحرام سے روکنے والے ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کے اس فعل کی تردید کرتا ہے جو وہ مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکتے تھے وہاں انہیں احکام حج ادا کرنے سے باز رکھتے تھے «وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [8-الانفال:34] ’ باوجود اس کے اولیاء اللہ کے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اولیاء وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہو ‘۔ اس سے معلوم ہوتا کہ یہ ذکر مدینے شریف کا ہے۔
جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:217]، میں ہے یہاں فرمایا کہ ’ باوجود کفر کے پھر یہ بھی فعل ہے کہ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے مسلمانوں کو روکتے ہیں جو درحقیقت اس کے اہل ہیں ‘۔
یہی ترتیب اس آیت کی ہے «لَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّـهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ» ۱؎ [13-الرعد:28] یعنی ’ ان کی صفت یہ ہے کہ ان کے دل ذکر اللہ سے مطمئن ہو جاتے ہیں ‘۔
مسجد الحرام جو اللہ نے سب کے لیے یکساں طور پر باحرمت بنائی ہے مقیم اور مسافر کے حقوق میں کوئی کمی زیادتی نہیں رکھی۔ اہل مکہ مسجد الحرام میں اترسکتے ہیں اور باہر والے بھی۔ وہاں کی منزلوں میں وہاں کے باشندے اور بیرون ممالک کے لوگ سب ایک ہی حق رکھتے ہیں۔
اس مسئلے میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تو فرمانے لگے مکے کی حویلیاں ملکیت میں لائی جا سکتی ہیں۔ ورثے میں بٹ سکتی ہیں اور کرائے پر بھی دی جا سکتی ہیں۔ دلیل یہ دی کہ { اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ کل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی مکان میں اتریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { عقیل نے ہمارے لیے کون سی حویلی چھوڑی ہے؟ پھر فرمایا کافر مسلمان کا ورث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4282]
جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:217]، میں ہے یہاں فرمایا کہ ’ باوجود کفر کے پھر یہ بھی فعل ہے کہ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے مسلمانوں کو روکتے ہیں جو درحقیقت اس کے اہل ہیں ‘۔
یہی ترتیب اس آیت کی ہے «لَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّـهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ» ۱؎ [13-الرعد:28] یعنی ’ ان کی صفت یہ ہے کہ ان کے دل ذکر اللہ سے مطمئن ہو جاتے ہیں ‘۔
مسجد الحرام جو اللہ نے سب کے لیے یکساں طور پر باحرمت بنائی ہے مقیم اور مسافر کے حقوق میں کوئی کمی زیادتی نہیں رکھی۔ اہل مکہ مسجد الحرام میں اترسکتے ہیں اور باہر والے بھی۔ وہاں کی منزلوں میں وہاں کے باشندے اور بیرون ممالک کے لوگ سب ایک ہی حق رکھتے ہیں۔
اس مسئلے میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تو فرمانے لگے مکے کی حویلیاں ملکیت میں لائی جا سکتی ہیں۔ ورثے میں بٹ سکتی ہیں اور کرائے پر بھی دی جا سکتی ہیں۔ دلیل یہ دی کہ { اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ کل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی مکان میں اتریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { عقیل نے ہمارے لیے کون سی حویلی چھوڑی ہے؟ پھر فرمایا کافر مسلمان کا ورث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4282]
اور دلیل یہ ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صفوان بن امیہ کامکان چار ہزار درہم میں خرید کر وہاں جیل خانہ بنایا تھا۔ طاؤس اور عمرو بن دینار بھی اس مسئلے میں امام صاحب کے ہم نوا ہیں۔
امام اسحاق بن راہویہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ورثے میں بٹ نہیں سکتے نہ کرائے پر دئیے جا سکتے ہیں۔ اسلاف میں سے ایک جماعت یہ کہتی ہے مجاہد اور عطا رحمہ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ اس کی دلیل ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے { سیدنا علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدیقی اور فاروقی خلافت میں مکے کی حویلیاں آزاد اور بے ملکیت استعمال کی جاتی رہیں اگر ضرورت ہوتی تو رہتے ورنہ اوروں کو بسنے کے لیے دے دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3107،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نہ تو مکہ شریف کے مکانوں کا بیچنا جائز ہے نہ ان کا کرایہ لینا۔ عطا رحمہ اللہ بھی حرم میں کرایہ لینے کو منع کرتے تھے۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ شریف کے گھروں کے دروازے رکھنے سے روکتے تھے کیونکہ صحن میں حاجی لوگ ٹھیرا کرتے تھے۔ سب سے پہلے گھر کا دروازہ سہیل بن عمرو نے بنایا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی وقت انہیں حاضری کا حکم بھیجا انہوں نے آ کر کہا مجھے معاف فرمایا جائے میں سوداگر شخص ہوں میں نے ضرورتاً یہ دروازے بنائے ہیں تاکہ میرے جانور میرے بس میں رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر خیر ہم اسے تیرے لیے جائز رکھتے ہیں۔
اور روایت میں حکم فاروقی رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں مروی ہے کہ اہل مکہ اپنے مکانوں کے دروازے نہ رکھو تاکہ باہر کے لوگ جہاں چاہیں ٹھیریں۔ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہری اور غیروطنی ان میں برابر ہیں جہاں چاہیں اتریں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکے شریف کے لوگ گھروں کا کرایہ کھانے والا اپنے پیٹ میں آگ بھرنے والا ہے۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے ان دونوں کے درمیان کا مسلک پسند فرمایا یعنی ملکیت کو اور ورثے کو تو جائز بتایا ہاں کرایہ کو ناجائز کہا ہے اس سے دلیلوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام اسحاق بن راہویہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ورثے میں بٹ نہیں سکتے نہ کرائے پر دئیے جا سکتے ہیں۔ اسلاف میں سے ایک جماعت یہ کہتی ہے مجاہد اور عطا رحمہ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ اس کی دلیل ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے { سیدنا علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدیقی اور فاروقی خلافت میں مکے کی حویلیاں آزاد اور بے ملکیت استعمال کی جاتی رہیں اگر ضرورت ہوتی تو رہتے ورنہ اوروں کو بسنے کے لیے دے دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3107،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نہ تو مکہ شریف کے مکانوں کا بیچنا جائز ہے نہ ان کا کرایہ لینا۔ عطا رحمہ اللہ بھی حرم میں کرایہ لینے کو منع کرتے تھے۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ شریف کے گھروں کے دروازے رکھنے سے روکتے تھے کیونکہ صحن میں حاجی لوگ ٹھیرا کرتے تھے۔ سب سے پہلے گھر کا دروازہ سہیل بن عمرو نے بنایا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی وقت انہیں حاضری کا حکم بھیجا انہوں نے آ کر کہا مجھے معاف فرمایا جائے میں سوداگر شخص ہوں میں نے ضرورتاً یہ دروازے بنائے ہیں تاکہ میرے جانور میرے بس میں رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر خیر ہم اسے تیرے لیے جائز رکھتے ہیں۔
اور روایت میں حکم فاروقی رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں مروی ہے کہ اہل مکہ اپنے مکانوں کے دروازے نہ رکھو تاکہ باہر کے لوگ جہاں چاہیں ٹھیریں۔ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہری اور غیروطنی ان میں برابر ہیں جہاں چاہیں اتریں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکے شریف کے لوگ گھروں کا کرایہ کھانے والا اپنے پیٹ میں آگ بھرنے والا ہے۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے ان دونوں کے درمیان کا مسلک پسند فرمایا یعنی ملکیت کو اور ورثے کو تو جائز بتایا ہاں کرایہ کو ناجائز کہا ہے اس سے دلیلوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«بِإِلْحَادٍ» میں“با“ زائد ہے جیسے «تَـنْـبُتُ بِالدُّهُنِ» ۱؎ [23-المؤمنون:20] میں۔ اور اعشی کے شعر «ضَمَنَتْ بِرِزْقِ عِیَالِناً اًرْحُنَا» ، میں یعنی ہمارے گھرانے کی روزیاں ہمارے نیزوں پر موقوف ہیں الخ، اور شعروں کے اشعار میں ”با“ کا ایسے موقعوں پر زائد آنا مستعمل ہوا ہے لیکن اس سے بھی عمدہ بات یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہاں کا فعل «يَهُمُّ» کے معنی کا متضمن ہے اس لیے ”با“ کے ساتھ متعدی ہوا ہے۔
الحاد سے مراد کبیرہ شرمناک گناہ ہے۔ «بِظُلْمٍ» سے مراد قصداً ہے تاویل کی روسے نہ ہونا ہے۔ اور معنی شرک کے غیر اللہ کی عبادت کے بھی کئے گئے ہیں۔ یہ بھی مطلب ہے کہ حرم میں اللہ کے حرام کئے ہوئے کام کو حلال سمجھ لینا جیسے گناہ قتل بے جا ظلم وستم وغیرہ۔ ایسے لوگ درد ناک عذابوں کے سزاوار ہیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو بھی یہاں برا کام کرے یہ حرم شریف کی خصوصیت ہے کہ غیروطنی لوگ جب کسی بدکام کا ارادہ بھی کر لیں تو بھی انہیں سزا ہوتی ہے چاہے اسے عملاً نہ کریں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص عدن میں ہو اور حرم میں الحاد وظلم کا ارادہ رکھتا ہو تو بھی اللہ اسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھائے گا۔
شعبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس نے تو اس کو مرفوع بیان کیا تھا لیکن میں اسے مرفوع نہیں کرتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:141/17:صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ] اس کی اور سند بھی ہے جو صحیح ہے اور موقوف ہونا بہ نسبت مرفوع ہونے کے زیادہ ٹھیک ہے عموماً قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کسی پر برائی کے صرف سے برائی نہیں لکھی جاتی لیکن اگر دور دراز مثلا عدن میں بیٹھ کر بھی یہاں کے کسی شخص کے قتل کا ارادہ کرے تو اللہ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہاں یا نہیں کہنے پر یہاں قسمیں کھانا بھی الحاد میں داخل ہے۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ اپنے خادم کو یہاں گالی دینا بھی الحاد میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے امیر شخص کا یہاں آ کر تجارت کرنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکے میں اناج کا بیچنا۔ ابن حبیب بن ابوثابت فرماتے ہیں گراں فروشی کے لیے اناج کو یہاں روک رکھنا۔
الحاد سے مراد کبیرہ شرمناک گناہ ہے۔ «بِظُلْمٍ» سے مراد قصداً ہے تاویل کی روسے نہ ہونا ہے۔ اور معنی شرک کے غیر اللہ کی عبادت کے بھی کئے گئے ہیں۔ یہ بھی مطلب ہے کہ حرم میں اللہ کے حرام کئے ہوئے کام کو حلال سمجھ لینا جیسے گناہ قتل بے جا ظلم وستم وغیرہ۔ ایسے لوگ درد ناک عذابوں کے سزاوار ہیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو بھی یہاں برا کام کرے یہ حرم شریف کی خصوصیت ہے کہ غیروطنی لوگ جب کسی بدکام کا ارادہ بھی کر لیں تو بھی انہیں سزا ہوتی ہے چاہے اسے عملاً نہ کریں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص عدن میں ہو اور حرم میں الحاد وظلم کا ارادہ رکھتا ہو تو بھی اللہ اسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھائے گا۔
شعبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس نے تو اس کو مرفوع بیان کیا تھا لیکن میں اسے مرفوع نہیں کرتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:141/17:صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ] اس کی اور سند بھی ہے جو صحیح ہے اور موقوف ہونا بہ نسبت مرفوع ہونے کے زیادہ ٹھیک ہے عموماً قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کسی پر برائی کے صرف سے برائی نہیں لکھی جاتی لیکن اگر دور دراز مثلا عدن میں بیٹھ کر بھی یہاں کے کسی شخص کے قتل کا ارادہ کرے تو اللہ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہاں یا نہیں کہنے پر یہاں قسمیں کھانا بھی الحاد میں داخل ہے۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ اپنے خادم کو یہاں گالی دینا بھی الحاد میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے امیر شخص کا یہاں آ کر تجارت کرنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکے میں اناج کا بیچنا۔ ابن حبیب بن ابوثابت فرماتے ہیں گراں فروشی کے لیے اناج کو یہاں روک رکھنا۔
ابن ابی حاتم میں بھی فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی منقول ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2020،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یہ آیت عبداللہ بن انیس کے بارے میں اتری ہے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجر اور ایک انصار کے ساتھ بھیجا تھا ایک مرتبہ ہر ایک اپنے اپنے نسب نامے پر فخر کرنے لگا اس نے غصے میں آ کر انصاری کو قتل کر دیا اور مکے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا اور دین اسلام چھوڑ بیٹھا۔ تو مطلب یہ ہو گا کہ جو الحاد کے بعد مکہ کی پناہ لے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف]
ان آثار سے گویہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کام الحاد میں سے ہیں لیکن حقیقتاً یہ ان سب سے زیادہ اہم بات ہے بلکہ اس سے بڑی چیز پر اس میں تنبیہہ ہے۔ اسی لیے جب ہاتھی والوں نے بیت اللہ شریف کی خرابی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیج دئے «تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ» ۱؎ [105-الفیل:4،5] جنہوں نے ان پر کنکریاں پھینک کر ان کا بھس اڑا دیا اور وہ دوسروں کے لیے باعث عبرت بنا دئے گئے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { ایک لشکر اس بیت اللہ کے غزوے کے ارادے سے آئے گا جب وہ بیدا میں پہنچیں گے تو سب کے سب مع اول آخر کے دھنسادئے جائیں گے }۔ [صحیح بخاری:2118] الخ۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { آپ یہاں الحاد کرنے سے بچیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہاں ایک قریشی الحاد کرے گا اس کے گناہ اگر تمام جن و انس کے گناہوں سے تولے جائیں تو بھی بڑھ جائیں دیکھو خیال رکھو تم وہی نہ بن جانا }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/2:حسن] اور روایت میں یہ بھی ہے کے نصیحت آپ نے انہیں حطیم میں بیٹھ کر کی تھی۔ ۱؎ [مسند احمد:196/2:حسن]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یہ آیت عبداللہ بن انیس کے بارے میں اتری ہے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجر اور ایک انصار کے ساتھ بھیجا تھا ایک مرتبہ ہر ایک اپنے اپنے نسب نامے پر فخر کرنے لگا اس نے غصے میں آ کر انصاری کو قتل کر دیا اور مکے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا اور دین اسلام چھوڑ بیٹھا۔ تو مطلب یہ ہو گا کہ جو الحاد کے بعد مکہ کی پناہ لے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف]
ان آثار سے گویہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کام الحاد میں سے ہیں لیکن حقیقتاً یہ ان سب سے زیادہ اہم بات ہے بلکہ اس سے بڑی چیز پر اس میں تنبیہہ ہے۔ اسی لیے جب ہاتھی والوں نے بیت اللہ شریف کی خرابی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیج دئے «تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ» ۱؎ [105-الفیل:4،5] جنہوں نے ان پر کنکریاں پھینک کر ان کا بھس اڑا دیا اور وہ دوسروں کے لیے باعث عبرت بنا دئے گئے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { ایک لشکر اس بیت اللہ کے غزوے کے ارادے سے آئے گا جب وہ بیدا میں پہنچیں گے تو سب کے سب مع اول آخر کے دھنسادئے جائیں گے }۔ [صحیح بخاری:2118] الخ۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { آپ یہاں الحاد کرنے سے بچیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہاں ایک قریشی الحاد کرے گا اس کے گناہ اگر تمام جن و انس کے گناہوں سے تولے جائیں تو بھی بڑھ جائیں دیکھو خیال رکھو تم وہی نہ بن جانا }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/2:حسن] اور روایت میں یہ بھی ہے کے نصیحت آپ نے انہیں حطیم میں بیٹھ کر کی تھی۔ ۱؎ [مسند احمد:196/2:حسن]