ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 96

اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾
بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، یقینا وہی ہے جو بکہ میں ہے، بہت با برکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔ En
پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت
En
اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت وہدایت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 96) {اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ …:} یہ یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کی اولاد میں سے تمام انبیاء شام میں ہوئے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں نے اس قدیم قبلہ کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ بنا لیا ہے، پھر یہ ملتِ ابراہیم کے متبع کیسے ہو سکتے ہیں؟ قرآن نے بتایا کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ تو کعبہ ہے، جو بکہ میں ہے۔ بکہ مکہ ہی کا نام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرفِ قبولیت بخشا۔ اس پر بہت سے واضح دلائل موجود ہیں۔ جن میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ دورِ جاہلیت سے یہ محترم چلا آ رہا ہے کہ اگر کسی کے باپ کا قاتل بھی اس میں داخل ہو جائے تو وہ اس سے تعرض نہیں کرتا، نیز اس میں مقامِ ابراہیم، یعنی وہ پتھر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بانی ابراہیم علیہ السلام ہیں اور یہ کہ یہی ابراہیمی قبلہ ہے، کیونکہ بیت المقدس کی تعمیر کعبۃ اللہ سے چالیس برس بعد ہوئی۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ نے فرمایا: مسجد حرام۔ پوچھا: پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ نے فرمایا: چالیس سال۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، بابٌ: ۳۳۶۶]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

96۔ ا یہ یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا؟ اس کے جواب میں اور اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ بلا شبہ سب سے پہلا گھر (عبادت گاہ) جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے، اس گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں [84] کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا
[84] قبلہ اول کعبہ ہی ہے:۔
یہ یہود کے ایک دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ تمام انبیاء کا قبلہ بیت المقدس ہی رہا ہے اور تمام انبیاء نے وہاں ہجرت کی۔ لہٰذا یہ مقام کعبہ سے افضل ہے اب مسلمانوں نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو اپنا قبلہ بنایا ہے تو یہ ملت ابراہیمی سے روگردانی کی ہے۔ اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ لوگوں کی عبادت کے لیے سب سے پہلے جو گھر تعمیر ہوا۔ وہ بیت اللہ تھا۔ بیت المقدس نہیں تھا۔ کیونکہ بیت اللہ ہی وہ گھر ہے جسے حضرت ابراہیمؑ نے اللہ ہی کی عبادت کے لیے لوگوں کے مرجع کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا اور بیت المقدس کو تو حضرت سلیمانؑ نے حضرت موسیٰؑ کی وفات کے چار سو سال بعد تعمیر کیا تھا اور حضرت سلیمانؑ ہی کے عہد میں یہ قبلہ اہل توحید کے لیے بنایا گیا تھا۔ لہٰذا قبلہ اول تو در اصل کعبہ ہی ہے۔ تحویل قبلہ پر یہود کے اعتراض کا جواب سورۃ بقرہ [آيت 142 تا 150] میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔ مگر یہود چونکہ اپنے اس اعتراض کو اس کے بعد بھی بار بار دہراتے رہے۔ لہٰذا پھر سے ان کے اعتراض کا تاریخی پہلو سے بھی جواب دیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ذکر بیت اللہ اور احکامات حج ٭٭
یعنی لوگوں کی عبادت،قربانی،طواف، نماز،اعتکاف وغیرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے ہے،
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [مسند احمد وبخاری مسلم]‏‏‏‏۔[صحیح بخاری:3366]‏‏‏‏ ۱؎
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورۃ البقرہ کی آیت «وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [2-البقرة:125]‏‏‏‏، کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حواء نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے
یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ مکہ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں فج سے تنعیم تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحاء تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو «بکہ» کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کوثا البلدہ البینۃ و الکعبہ۔
اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125]‏‏‏‏ کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت «‏‏‏‏اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [29۔ العنکبوت: 67]‏‏‏‏، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت «‏‏‏‏فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ‏‏‏‏ [106-قريش: 3، 4]‏‏‏‏، ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «‏‏‏‏وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» ‏‏‏‏ [2-البقرہ: 125]‏‏‏‏، کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آیاتِ بینات میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے باقی اور ہیں،[تفسیر ابن جریر الطبری:26/7]‏‏‏‏ ۱؎
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7]‏‏‏‏ ۱؎
کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67]‏‏‏‏کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔
اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4]‏‏‏‏ ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «‏‏‏‏وَعَھِدْنَا» ‏‏‏‏ [2-البقرة:125]‏‏‏‏ الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔
مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا،[سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎
اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎ لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔
آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي» [2-البقرة:196]‏‏‏‏، والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہو جاتا پھر بجا نہ لا سکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھرمار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ [مسند احمد:508/2:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد]‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف[صحیح مسلم:1337]‏‏‏‏ ۱؎ کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔[سنن ابوداود:1721،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎
ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» [5-المائدة:101]‏‏‏‏، یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی [مسند احمد:113/1:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ [ابن ماجہ]‏‏‏‏
ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا،[صحیح بخاری:2505]‏‏‏‏ ۱؎
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا،[سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔
ایک اور شخص نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری [سنن ترمذي:813،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا]‏‏‏‏ ۱؎، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97]‏‏‏‏ کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔[سنن ابن ماجہ:2897،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کر لیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے،[مسند احمد:214/1:حسن]‏‏‏‏ ۱؎ ابوداؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کر لینا چاہیئے۔[مسند احمد:225/1:حسن]‏‏‏‏ ۱؎
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے
پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے [سنن ترمذي:812،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏۱؎ اس کے راوی پر بھی کلام ہے،
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [حافظ ابوبکر اسماعیلی]‏‏‏‏ [الحلیہ لابی نعیم:252/9]‏‏‏‏۱؎
مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کعبہ شریف کا شرف بیان فرما رہا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے اس مقصد کے لیے مقرر کیا ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی عبادت کریں اور ان کے گناہ معاف ہوں۔ اور انھیں وہ نیکیاں حاصل ہوں جن کی وجہ سے انھیں رب کی رضا حاصل ہو، اور وہ ثواب حاصل کرکے اللہ کے عذاب سے بچ جائیں، اس لیے فرمایا: ﴿مُبٰرَؔكًا برکت والا ہے اس میں بہت سی برکتیں، اور دینی و دنیوی فوائد موجود ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَ یَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (الحج:22؍28) تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں، اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام یاد کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں ﴿وَّهُدًى لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ اور ہدایت ہے جہان والوں کے لیے ہدایت کی دو قسمیں ہیں:علمی ہدایت اور عملی ہدایت۔ عملی ہدایت تو ظاہر ہے کہ اللہ نے ایسی عبادتیں مقرر کی ہیں جو اس مقدس گھر کے ساتھ مخصوص ہیں۔ علمی ہدایت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے حق کا علم حاصل ہوتاہے کیونکہ اس میں آیات بینات موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ اس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں یعنی مختلف علوم الٰہی اور بلند مطالب پر واضح دلائل اور قطعی براہین موجود ہیں۔ مثلاً اللہ کی توحید کے دلائل، اس کی رحمت، حکمت، عظمت، جلالت، اس کے کامل علم اوربے حد و حساب جودوسخا کے دلائل، اور انبیاء و اولیاء پر ہونے والے اللہ کے احسانات کی نشانیاں۔ ان نشانیوں میں سے ایک ﴿مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ بھی ہے۔ اس سے وہ پتھربھی مراد ہوسکتا ہے جس پر کھڑے ہوکر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی عمارت بناتے رہے تھے۔ پہلے یہ کعبہ کی دیوار سے متصل تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسے موجودہ مقام پر منتقل کیا۔ اس پتھر میں نشان سے مراد ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان ہیں کہ سخت چٹان میں نشان پڑگئے جو امت محمدیہ کے ابتدائی زمانے تک باقی رہے۔ یہ ایک خرق عادت معجزہ ہے۔ دوسرے قول کے مطابق نشان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت، شرف اور احترام کے جذبات رکھ دیے ہیں۔ مقام ابراہیم کی دوسری تشریح یہ ہوسکتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہے جسے ابراہیم کی طرف مضاف کیا گیا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ تمام مقامات ہیں جن سے آپ کا تعلق ہے یعنی وہ تمام مقامات جہاں حج کے مناسک ادا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے حج کے تمام مناسک بھی آیَاتِ بَیِّنَات میں شامل ہیں، مثلاً طواف، سعی اور ان کے مقامات، عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنا، رمی کرنا اور دوسرے شعائر۔ اس میں نشانی یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت و احترام نقش کردیا ہے۔ لوگ یہاں تک پہنچنے کے لیے مال و دولت خرچ کرتے اور ہر قسم کی مشقت برداشت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں عجیب و غریب اسرار اور اعلیٰ معنویات پوشیدہ ہیں۔ اس کے افعال میں وہ حکمتیں اورمصلحتیں ہیں کہ مخلوق ان میں سے تھوڑی سی حکمتیں شمار کرنے سے بھی عاجز ہے۔ اس کی کھلی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کو اللہ تعالیٰ امن عطا فرماتا ہے۔ اور اسے شرعی حکم بھی قرار دے دیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے پیغمبر ابراہیم علیہ السلام نے، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے احترام کا حکم دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے، اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ اسے وہاں سے نکالا نہیں جاسکتا۔ یہ حرمت حرم کے شکار، درختوں اور نباتات کو بھی حاصل ہے۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کوئی جرم کرلے، پھر حرم میں آجائے تو اسے بھی امن حاصل ہوگا۔ جب تک وہ اس سے باہر نہیں آتا اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔ اللہ کے قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق اس مقام کے امن ہونے کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں، حتیٰ کہ مشرکوں اور کافروں کے دلوں میں بھی اس کا احترام ڈال دیا۔ مشرکین عرب انتہائی لڑاکا طبیعت والے، غیرت والے اور کسی کا طعنہ برداشت نہ کرنے والے تھے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو اپنے باپ کا قاتل بھی حرم کی حدود میں مل جاتا تھا تو وہ اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کے حرم ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو اسے نقصان پہنچانا چاہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے۔ جیسے ہاتھی والوں کے ساتھ ہوا۔
اس موضوع پر میں نے ابن قیم رحمہ اللہ کا بہت اچھا بیان پڑھا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اسے یہاں ذکر کردوں، کیونکہ اس کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فائدہ: ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا اس آیت میں (حِجُّ الْبَیْتِ) مبتدا ہے۔ اس کی خبر اس سے پہلے دو جارو مجرور میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے۔ معنی کے لحاظ سے (عَلَى النَّاسِ) کو خبر بنانا بہتر ہے کیونکہ یہ وجوب کے لیے ہے۔ اور وجوب کے لیے (عَلَى) ہونا چاہیے۔ ممکن ہے لِلّٰہِ خبر ہو۔ کیونکہ اس میں وجوب اور استحقاق کا مفہوم ہے۔ اس قول کو اس امر سے بھی ترجیح حاصل ہوتی ہے کہ فائدہ کا اصل مقام خبر ہے۔ اس مقام میں اس کو لفظاً مقدم کیا گیا ہے لیکن معنی کے لحاظ سے وہ موخر ہے۔ اس وجہ سے (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ) کہنا بہتر ہوا۔ پہلے قول کی تائید میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وجوب کے لیے (حِجُّ الْبَیْتِ عَلَی النَّاسِ) بیت اللہ کا حج لوگوں پر واجب ہے کا انداز زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ بہ نسبت یوں کہنے کہ ﴿حِجُّ الْبَیْتِ لِلہِ بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے۔
اس تشریح کے مطابق پہلے مجرور کو مقدم کرنا، حالانکہ وہ خبر نہیں، دو فوائد کا حامل ہے:
پہلا فائدہ: یہ حج کو واجب کرنے والے (اللہ) کا نام ہے۔ لہٰذا وجوب کے ذکر سے پہلے اس کا ذکر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے۔ یعنی آیت میں تین اشیا کا ذکر ہے جو وقوع کے لحاظ سے بالترتیب ذکر ہوئی ہیں:
(۱)اس فریضہ کو واجب کرنے والا۔ اس کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔ (۲) واجب کو ادا کرنے والا، جس پر وہ فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ ہیں لوگ (۳) وہ حق جس کے ساتھ اللہ کا تعلق واجب کرنے کا اور بندوں کا تعلق واجب ہونے اور ادا کرنے کا ہے، وہ ہے حج۔
دوسرا فائدہ: مجرور اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ہونے کی وجہ سے اہمیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا اس کے واجب کیے ہوئے فریضہ کے احترام کی عظمت کا لحاظ رکھے ہوئے، اس فریضہ کو ضائع کرنے سے منع کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کا واجب کیا ہوا کام کسی اور کے واجب کیے ہوئے کی طرح نہیں، بلکہ زیادہ اہم اور لازم ہے۔
لفظ مَنْ بدل ہے۔ بعض لوگوں نے اسے مصدر کا فاعل قرار دینا پسند کیا ہے گویا آیت کا مفہوم یوں ہے: أَنْ یَّحُجَّ الْبَیْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِيْلًا کہ جو شخص اس کی طرف راستے کی طاقت رکھتا ہے وہ بیت اللہ کا حج کرے یہ قول کئی وجہ سے ضعیف ہے۔ (۱)حج فرض عین ہے۔ اگر آیت کا مفہوم یہ ہوتا جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے تو اس سے حج کا فریضہ فرض کفایہ ہوتا۔ یعنی جب استطاعت والوں نے حج کرلیا تو دوسروں کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔ اس صورت میں معنی یوں بن جاتا ہے وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتَ مُسْتَطِیعِہِمْ لوگوں کے ذمے اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے استطاعت رکھنے والے کے لیے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب استطاعت رکھنے والوں نے ادا کرلیا تو استطاعت نہ رکھنے والوں پر واجب نہیں رہا۔ حالانکہ صحیح صورت حال یہ نہیں۔ بلکہ حج ہر شخص پر فرض عین ہے۔ طاقت والا حج کرے یا نہ کرے وہ اس کے ذمے ہے۔ لیکن طاقت نہ رکھنے والے کو اللہ نے معذور قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب وہ حج کرے گا تو خود اس کا اپنا فرض ادا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ طاقت رکھنے والوں کے حج کرنے کی وجہ سے طاقت نہ رکھنے والوں سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہو۔ اس کی مزید وضاحت اس مثال سے ہوتی ہے کہ جب کوئی کہے (وَاجِبٌ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ النَّاحِیَۃِ أَنْ یُّجَاہِدَ مِنْہُمُ الطَّائِفَۃُ الْمُسْتَطِیعُونَ لِلْجِہَادِ) اس علاقے والوں کا فرض ہے کہ ان میں سے جہاد کی طاقت رکھنے والی جماعت ضرور جہاد کرے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جب طاقت رکھنے و الے جہاد کریں تو دوسرے لوگوں سے وجوب کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یوں کہا جائے (واجب علی الناس کلہم ان یجاہد منہم المستطیع) سب لوگوں کا فرض ہے کہ ان میں سے طاقت رکھنے والا جہاد کرے تو وجوب کا تعلق تو ہر فرد سے ہوگا، لیکن طاقت نہ رکھنے والے معذور سمجھے جائیں گے۔ لہٰذا (للہ حج البیت علی المستطیعین) کے بجائے آیت مبارکہ کے انداز سے ارشاد فرمانے میں یہ نادر نکتہ ہے۔ لہٰذا اسے غور کرکے سمجھنا چاہیے۔
دوسری وجہ: جملہ میں فاعل کی موجودگی میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرف کرنا مفعول کی طرف اضافت کرنے کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اس اصول سے گریز صرف کسی منقول دلیل کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ آیت مبارکہ میں اگر مَنْ کو فاعل تسلیم کیا جائے تو اس کا تقاضا ہے کہ مصدر کو اس کی طرف مضاف کرکے یوں کہا جائے: وللہ علی الناس حِجُّ مَنِ اسْتَطَاعَ اسے (یُعْجِبُنِیْ ضَرْبُ زیدٍ عَمْرًا) جیسی مثال پر یا مصدر اور اس کے مضاف الیہ فاعل کے درمیان مفعول یا ظرف کے فاصلے کی صورت پر محمول کرنا گویا مکتوب پر محمول کرنا ہے جو مرجوح ہے۔ جیسے ابن عامر کی یہ قراء ت مرجوح ہے (کذلک زُیِّن لکثیر من المشرکین قَتْلُ اولادھم شرکاۂم۔) لہٰذا یہ قول درست نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ من استطاع میں من بدل بعض ہے تو ضروری ہے کہ کلام میں کوئی ضمیر موجود ہو جو الناس کی طرف راجع ہو۔ یعنی عبارت گویا یوں ہے من استطاع منہم اکثر مقامات پر اس ضمیر کا حذف کرنا بہتر نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اس کا حذف کرنا اچھا ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں: (۱)من کا لفظ اس کے مبدل منہ کی طرح غیر عاقل پر واقع ہوا ہے، اس لیے اس سے ربط قائم ہوگیا ہے۔ (۲)یہ اسم موصول ہے جس کا صلہ اس سے اخص ہے۔ اگر صلہ اعم ہوتا تو ضمیر حذف کرنا قبیح ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ کہیں: (رأیت إخوتک من ذہب إلی السوق منہم) میں نے تیرے بھائیوں کو، ان میں سے جو بازار گیا، دیکھا تو یہ قبیح ہوگا۔ کیونکہ (ذاھب الی السوق) اعم ہے اخوۃ سے۔اسی طرح اگر یوں کہا جائے: البس الثیاب ماحسن کپڑے پہن جو اچھے ہیں مطلب یہ ہو گا کہ (ماحسن منہا) ان میں سے جو اچھے ہیں تو ضمیر ذکر نہ کرنا زیادہ غلط ہوگا۔ کیونکہ لفظ ما میں الثیاب کی نسبت عموم پایا جاتا ہے۔ اور بدل بعض کو مبدل منہ سے زیادہ خاص ہونا چاہیے۔ اگر وہ زیاہ عام ہو، پھر اسے مبدل منہ کی طرف لوٹنے والی چیز کی طرف مضاف کردیا جائے یا اس ضمیر کے ساتھ مقید کردیا جائے تو عموم ختم ہوجائے گا اور خصوص کا مفہوم باقی رہ جائے گا۔ (۳)یہاں مضاف کو حذف کرنا اس لیے بھی بہتر ہے کہ صلہ اور موصول کے ساتھ کلام زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔
لفظ لِلہِ کے مجرور کے بارے میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ وہ من سبیل کے محل میں ہو۔ گویا ہ وہ نکرہ کی صفت ہے جو نکرہ سے مقدم ہے۔ کیونکہ اگر اسے موخر کیا جاتا تو وہ سبیل کی صفت کی جگہ ہوتا۔ دوم یہ کہ سبیل کا متعلق ہو۔ اگر آپ کہیں کہ یہ اس کا متعلق کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس (سبیل) میں فعل کا معنی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں سبیل کا مفہوم الموصل الی البیت کعبہ تک پہنچانے والی چیز یعنی سامان سفر وغیرہ ہے۔ لہٰذا س میں فعل کا تھوڑا سا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہاں سبیل سے وہ راستہ مراد نہیں جس پر چلتے ہیں، اس لیے جار مجرور اس کے متعلق ہوسکتا ہے۔ اور حسن نظم اور اعجاز لفظی کے لحاظ سے جار مجرور کو مقدم کرنا بہتر تھا، اگرچہ اس کا اصل مقام موخر ہی ہے، کیونکہ یہ ضمیر بیت کی طرف راجع ہے۔ اور اصل اہمیت بیت (کعبہ) ہی کو دینا مقصود ہے۔ اور اہل عرب کلام میں اہم چیز کو مقدم کرتے ہیں۔ یہ سہیلی کے کلام کی وضاحت ہے۔ لیکن یہ قول بہت بعید ہے۔ بلکہ جار مجرور کے متعلق ان دونوں سے بہتر ایک قول ہے، وہی درست ہے۔ اور اس آیت سے وہی مفہوم مناسبت رکھتا ہے۔ وہ ہے وجوب جو آیت کے لفظ علی الناس سے سمجھ میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یجب للہ علی الناس الحج) لوگوں پر اللہ کے لیے حج کرنا واجب ہے۔ یعنی وہ اللہ کا وجوبی حق ہے۔ اسے سبیل کے متعلق قرار دے کر اس کا حال بنانا بہت ہی بعید ہے۔ آیت سے یہ مفہوم بالکل ذہن میں نہیں آتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں (للہ علیک الصلاۃ والزکاۃ والصیام) آپ پر اللہ کے لیے نماز، زکاۃ اور روزہ ضروری ہے۔
آیت میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ایسے کام کا ذکر کرتا ہے، جسے واجب یا حرام قرار دینا مقصود ہو، تو وہ اکثر اوقات امرونہی کے الفاظ سے مذکور ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس مقصد کے لیے ایجاب، کتابۃ اور تحریم کے الفاظ بھی وارد ہوتے ہیں۔ مثلاً ﴿ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ (البقرہ:2؍183) تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے۔ ﴿ حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ (المائدۃ:5؍3) تم پر مردار حرام کیا گیا ہے ﴿ قُ٘لْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ (الانعام:6؍151) کہہ دیجیے! آؤ میں تمھیں پڑھ کر سناؤں کہ اللہ نے تم پر کیا پابندیاں لگائی ہیں۔ حج کے بارے میں جو لفظ استعمال ہوا ہے (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ) اس سے دس انداز سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کو مقدم فرمایا ہے۔ اور اس پر ل داخل کیا ہے، جس سے استحقاق اور اختصاص ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جن پر واجب ہے ان کے لیے عموم کا صیغہ استعمال کیا ہے، اور اس پر عَلٰی داخل کیا ہے، جس سے اہل استطاعت کو بدل بنایا ہے۔ پھر سبیل نکرہ ہے جو سیاق شرط میں واقع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حج ہر قسم کے سبیل میسر ہونے سے واجب ہوجاتا ہے، مثلاً خوراک اور مال۔ یعنی وجوب کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جسے سبیلکہا جاسکے۔ پھر اس کے بعد سب سے عظیم تہدید ذکر فرمائی اور فرمایا ﴿ وَمَنْ كَفَرَ یعنی جس نے اس واجب پر عمل نہ کرکے اور اسے ترک کرکے کفر کا ارتکاب کیا۔ پھر اس کی عظمت شان کے لیے وعید کو موکد فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی ہے۔ اسے کسی کے حج کی ضرورت نہیں۔ یہاں استغنا کے ذکر کا مقصد ناراضی، غصے اور بے اعتنائی کا اظہار ہے، جو بہت عظیم اور بلیغ وعید ہے۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ یہاں العالمین کا عام لفظ بولا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا: (فان اللہ غنی عنہ) اللہ اس سے مستغنی ہے کیونکہ جب وہ تمام جہانوں سے مستغنی اور بے پروا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے اور ہر اعتبارسے کامل و مکمل استغنا حاصل ہے۔ اس طرح اس کے واجب کردہ حق کو ترک کرنے والے پر اس کی ناراضی زیادہ تاکید سے ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس مفہوم کو لفظ ان کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے جوبذات خود تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ یہ دس وجوہ ہیں جن سے اس فرض عظیم کا ضروری اور موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں آیت مبارکہ میں بدلمیں پوشیدہ نکتہ پر بھی غور کیجیے۔ بدل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسناد دوبارہ ذکر ہوئی ہے۔ ایک دفعہ اس کی اسناد عمومی طورپر سب لوگوں سے ہے اور دوسری بار خاص طورپر استطاعت رکھنے والوں سے۔ اور بدل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اسناد کی تکرار سے معنی میں قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بدل عامل کی تکرار اور دہرانے کا مفہوم رکھتا ہے۔
پھر غور کیجیے کہ آیت میں کس طرح ابہام کے بعد توضیح اور اجمال کے بعد تفصیل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اہمیت دیتے ہوئے اور اس کی شان کی تاکید فرماتے ہوئے کلام کو دو صورتوں میں وارد کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی غور کیجیے کہ کس طرح وجوب کا ذکر کرنے سے پہلے کعبہ شریف کی خوبیوں اور عظمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے دلوں میں اس کی زیارت اور حج کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز خود مقصود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ … الخ﴾ چنانچہ کعبہ شریف کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ (۱) وہ دنیا میں عبادت کے لیے مقرر کیا جانے والا سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے۔ (۲) برکت والا ہے۔ برکت کا مطلب خیر کا دوام اور کثرت ہے۔ دنیا میں اتنی برکت والا، اس قدر کثیر اور دائمی خیر والا، اور مخلوق کے لیے اس قدر فوائد کا حامل کوئی گھر موجود نہیں۔ (۳) وہ ہدایت ہے۔ ہدایت دینے والے کے بجائے ہدایت (مصدر) کا لفظ بولنے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا یہ خود سراپا ہدایت ہے۔ (۴) اس میں آیات بینات (واضح نشانیاں) موجود ہیں۔ جن کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ (۵) اس میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔ اگر یہی صفات ذکر کردی جائیں اور اس کی زیارت کا حکم نہ دیا جاتا، تب بھی ان صفات کی وجہ سے دلوں میں اس کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوتی، خواہ کتنی دور سے آنا پڑتا۔ یہاں تو یہ صفات ذکر کرنے کے بعد صراحت کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس قدر تاکیدات لائی گئی ہیں، جن سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس گھر کی بے حد اہمیت ہے۔ اور اس کے نزدیک اس کی شان و عظمت کی کوئی حد نہیں۔ اگر اس میں یہی شرف ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے اسے (بیتی) (میرا گھر) فرمایا ہے، تو یہ نسبت ہی اتنی بڑی فضیلت اور اتنا بڑا شرف ہے کہ صرف اس کی وجہ سے جہان والوں کے دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتے، اور اس کی زیارت کے لیے دور دراز سے کھنچے آتے۔ محبت کرنے والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ اس کے پاس اکٹھے ہوکر آتے ہیں، اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ جتنی زیادہ زیارت کرتے ہیں، اتنا ہی محبت اور شوق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ دور جانے سے محبت کی لو مدہم ہوتی ہے نہ وصال سے ان کی پیاس بجھتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:
میں اس کا طواف کرتا ہوں اور دل پھر بھی شوق سے بھرپور ہے
کیا طواف کے بعد مزید قرب بھی ہوسکتا ہے؟
میں اس کے حجر اسود کو چومتا ہوں، اور اس طرح دل میں موج زن
محبت اور پیاس کو ٹھنڈک پہنچانا چاہتا ہوں
قسم ہے اللہ کی! میری محبت ہی میں اضافہ ہوتا ہے
اور دل اور زیادہ دھڑکنے لگتا ہے۔
اے جنت ماویٰ! اے مقصود تمنا!
اور اے میری آرزو! ہر امان سے قریب تر!
غلبہ ہائے شوق تیرے قرب پر اصرار کرتے ہیں
تجھ سے فراق میرے بس میں نہیں!
میں اگر تجھ سے دور ہوا تو اس کی وجہ بے اعتنائی نہیں
اس کا گواہ میری (اشک بار) آنکھیں اور (نالہ وشیون کرتی) زبان ہے۔
تجھ سے دور ہونے کے بعد میں نے صبر کو بھی آواز دی اور گریہ کو بھی
گریہ نے (فوراً) لبیک کہا (اور آگیا) اور صبر نے میری بات نہ مانی (صبر نہ آیا)
لوگ گمان کرتے ہیں کہ جب محب دور چلا جائے
تو لمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس کی محبت کمزور ہوجاتی ہے۔
اگر یہ خیال درست ہوتا، تو یقیناً
ہر زمانے کے لوگوں کے لیے محبت کا علاج ہوتا
ہاں ہاں محب کمزور ہوجائے گا اور محبت
اسی حال میں ہوگی، اسے رات دن کے گزرنے نے کمزور نہیں کیا ہوگا۔(امام ابن قیم رحمہ اللہ کا یہ کلام ان کی کتاب بدائع الفوائد سے منقول ہے۔ اس میں یہ شعر اس طرح درج ہے: (بلیٰ انہ یبلی التصبر و الہوی...علی حالہ لم یبلہ الملوان) ہاں صبر تو کمزور ہوجاتا ہے لیکن محبت اپنے حال پر رہتی ہے، وہ رات دن کے گزرنے سے کمزور نہیں ہوتی)
یہ محبت کرنے والا ہے، جسے شوق اور عشق لیے جاتا ہے
بغیر کسی لگام اور باگ کے جو اسے کھینچے لے جاتی ہو۔
زیارت گاہ دور ہونے کے باوجود، وہ تیرے در پر آپہنچا ہے
اگر اس کی سواری کمزور ہوجاتی تو اس کے قدم ہی اسے لے آتے۔
یہاں امام ابن قیم رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بعظمة بيته الحرام، وأنه أول البيوت التي وضعها الله في الأرض لعبادته وإقامة ذكره، وأن فيه من البركات وأنواع الهدايات وتنوع المصالح والمنافع للعالمين شيء كثير وفضل غزير، وأن فيه آيات بينات تُذَكِّر بمقامات إبراهيم الخليل وتنقلاته في الحج ومن بعده تذكر بمقامات سيد الرسل وإمامهم، وفيه الأمن الذي من دخله كان آمناً قدراً مؤمناً شرعاً وديناً.

فلما احتوى على هذه الأمور التي هذه مجملاتها وتكثر تفصيلاتها، أوجب الله حجّه على المكلفين المستطيعين إليه سبيلاً، وهو الذي يقدر على الوصول إليه بأي مركوب يناسبه وزاد يتزوده، ولهذا أتى بهذا اللفظ الذي يمكنه تطبيقه على جميع المركوبات الحادثة والتي ستحدث، وهذا من آيات القرآن حيث كانت أحكامه صالحة لكل زمان وكل حال ولا يمكن الصلاح التام بدونها. فمن أذعن لذلك وقام به فهو من المهتدين المؤمنين، ومن كفر فلم يلتزم حج بيته فهو خارج عن الدين، {ومن كفر فإن الله غني عن العالمين}.