مضمون کے اہم نکات
سنن اور نوافل کی فضیلت
سنن اور نوافل پڑھنے سے بندہ رب کے قریب ہو جاتا ہے۔ جو رب سے تعلق قائم کرلے وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، جس سے دنیا اور آخرت کی سب بھلائیاں مل جاتی ہیں۔ اگر بندے سے کبھی لغزش ہو جائے پھر دوبارہ نوافل پڑھ کر اللہ سے معافی طلب کرے تو اللہ اپنے بندے کو اپنی رحمت میں لپیٹ لیتا ہے۔
① فجر کی سنتوں کی فضیلت :
عن عائشة رضي الله عنها عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی دورکعتیں (سنتیں ) دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہیں ۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر، رقم: 725.
صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دورکعتوں کو محبوب ترین عمل فرمایا ہے:
”لهما أحب إلى من الدنيا جميعا .“
”یقینا فجر کی دورکعتیں مجھے تمام دنیا سے محبوب ہیں ۔“
صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر: 725.
② ظہر سے پہلے اور بعد میں چار رکعتیں پڑھنے کا ثواب:
عن أم حبيبة رضي الله عنها تقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر ، وأربع بعدها حرمه الله على النار
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”جو ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار رکعت کی پابندی کرے، تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دیتے ہیں۔“
سنن ترمذي، كتاب مواقيت الصلاة، رقم : 428ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
③ عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے کا ثواب:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
رحم الله امرأ صلى قبل العصر أربعا
”اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو اس بندے پر جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔“
سنن ترمذی، کتاب مواقيت الصلاة، باب ما جاء في الاربع قبل العصر ، رقم: 430 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
④ روزانہ فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضیلت :
عن أم المؤمنين أم حبيبة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من عبد مسلم يصلي لله تعالى كل يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا ، غير فريضة إلا بنى الله له بيتا فى الجنة
سیده ام المومنین ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے فرض نمازوں کے علاوہ روزانہ بارہ رکعتیں نفل پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ یا (اس طرح فرمایا) اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے ۔
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن وبيان عدد هن، رقم: 728
⑤نماز اشراق کی فضیلت:
معاذة أنها سألت عائشة را كم كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يصلي صلاة الضحى؟ قالت: نعم ، أربع ركعات، ويزيد ما شاء الله
سیدہ معاذہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز چاشت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ چار رکعتیں پڑھتے اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا زیادہ پڑھ لیتے۔
صحیح مسلم ، کتاب صلوة المسافرين باب استحباب صلوة الضحى، رقم: 719
نماز چاشت اللہ سے سخت محبت کرنے والوں اور اہل اللہ کی نماز ہے، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحافظ على صلاة الضحى إلا أواب، قال: وهى صلاة الأوابين
”نماز چاشت کی پابندی تو وہی کرتا ہے جو اللہ سے بکثرت معافیوں کا خواستگار ہوتا ہے، نیز کہا کہ یہ تو بکثرت رجوع الی اللہ کرنے والوں کی نماز ہے ۔“
صحیح الجامع الصغیر، رقم: 7628 ۔
اللہ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے، اگر کوئی حج کی استطاعت نہیں رکھتا تو یہ اتنا آسان طریقہ اختیار کر کے حج و عمرہ کے ثواب کو پا سکتا ہے، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى الغداة فى جماعة ، ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ، ثم صلى ركعتين ، كانت له كأجر حبة وعمرة تامة تامة تامة
”جس نے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول بیٹھا رہا۔ پھر دو رکعت پڑھی، اسے ایک مکمل، مکمل اور مکمل حج و عمرہ کا ثواب عطا کیا جاتا ہے ۔“
سنن ترمذي، ابواب السفر، باب ذكر ما يستحب من الجلوس في المسجد، رقم: 586 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
⑥ گھر میں نفلی نماز کا پڑھنا:
عبد الله بن سعد ؛ أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم : عن الصلاة فى البيت، وعن الصلاة فى المسجد قال: فقد ترى ما أقرب بيتي من المسجد ولان أصلي فى بيتي أحب إلى من أن أصلي فى المسجد إلا أن تكون صلاة مكتوبة
سیدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں نماز پڑھنے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے گھر کو دیکھ رہے ہو کہ یہ مسجد کے کتنا قریب ہے لیکن گھر میں نماز پڑھنا مجھے مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے مگر یہ کہ فرض نماز ہو ۔ “
سنن ابن ماجه، کتاب اقامة الصلوة باب ما جاء فى التطوع في البيت، رقم: 1378 – مسند احمد 342/4 ـ صحیح الترغیب والترھیب، رقم: 439 ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجعلوا فى بيوتكم من صلاتكم، ولا تتخذوها قبورا
”اپنے گھروں میں کچھ نمازیں پڑھا کرو اور گھروں کو قبرستان نہ بنا لو۔“
صحیح بخاری، کتاب التهجد، باب التطوع في البيت، رقم: 1187۔
⑦وضو کے بعد نوافل پڑھنے کا ثواب:
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبلال ، عند صلاة الغداة: يا بلال حدثني بأرجي عمل عملته ، عندك، فى الإسلام منفعة ، فإني سمعت الليلة خشف نعليك بين يدي فى الجنة . قال بلال: ما عملت عملا فى الإسلام ارجى عندي منفعة ، من أني لا أتطهر طهورا تاما ، فى ساعة من ليل ولا نهار، إلا صليت بذلك الطهور ، ما كتب الله لي ان أصلي
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک روز) نماز فجر کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اے بلال! اسلام لانے کے بعد تمہارا وہ کون سا عمل ہے جس پر تمہیں بخشش کی زیادہ امید ہے، کیونکہ آج رات میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے چلنے کی آواز سنی ہے ۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں، اس سے زیادہ امید افزا عمل تو کوئی نہیں پاتا کہ دن یا رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دے نماز پڑھ لیتا ہوں۔
صحیح مسلم، کتاب فضائل اصحاب ﷺ ، باب فضائل بلال رضی الله عنه ، رقم: 245 .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من مسلم يتوضأ فيحسن وضوءه، ثم يقوم فيصلى ركعتين ، مقبل عليهما بقلبه ووجهه ، إلا وجبت له الجنة
”جو بھی مسلمان وضو کرے اور اچھے طریقے سے سنت کے مطابق کرے، پھر نہایت خشوع و خضوع اور دل و دماغ کو متوجہ کر کے دو رکعت پڑھے تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔“
صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب ذكر المستحب عقب الوضوء، رقم: 234 .
مندرجہ بالا حدیث حکم کے لحاظ سے عام ہے، بندہ اچھی طرح وضو کر کے خشوع و خضوع سے دو نفل اس طرح پڑھے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے محسوس کرے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ ان دو نفلوں کا اہتمام مساجد، گھروں کے علاوہ جہاں کہیں بھی ممکن ہو کر سکتا ہے، مگر جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے ۔