مضمون کے اہم نکات
اہلِ مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرنے والے کے لیے سخت وعید
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [من أراد أهل المدينة بسوء أذابه الله كما يذوب الملح في الماء]
جو اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا، جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم: 1387]
اہلِ مدینہ کے خلاف سازش کرنے والا مٹ جاتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا يكيد أهل المدينة أحد إلا انماع ، كما ينماع الملح في الماء]
اہل مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک میں پانی گھل جایا کرتا ہے۔ [صحیح البخاری: 1877، صحیح مسلم: 1387]
اہلِ مدینہ کو خوف زدہ کرنے والے پر لعنت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [من أخاف أهل المدينة،أخافه الله عز وجل، وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا]
جو شخص اہلِ مدینہ کو ظلم کے ساتھ خوف زدہ کرے گا، اللہ اسے خوف زدہ کرے گا، اور اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ اس سے نہ فرض قبول کرے گا نہ نفل۔ [مسند احمد:M16557، مسند أحمد – ط الرسالة : ص91، ج27، رقم:2/16557 ، صحیح ابن حبان:3738]
مدینہ حرم ہے؛ اس میں ظلم، فساد اور بدعت کی وعید
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [المدينة، حرم ما بين عائر إلى كذا من أحدث فيها حدثا ، أو آوى محدثا فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس أجمعين، لا يقبل منه صرف، ولا عدل]
مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل۔
تنبیہ:
یہ حدیث مدینہ کی حرمت پر اصل بنیاد ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں فساد، ظلم، خونریزی، مجرموں کی پناہ، یا اہلِ مدینہ کو نقصان پہنچانا عام شہروں کے مقابلے میں زیادہ سنگین جرم ہے۔ [صحیح البخاری: 1870، صحیح مسلم: 1370]
مدینہ میں اسلحہ اٹھانے کی ممانعت
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [لا يحل لأحدكم أن يحمل بمكة السلاح]
تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں اسلحہ اٹھانا حلال نہیں۔
[تشریح و فوائد از: مولانا عبدالعزیز علوی]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جمہور علماء امت کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ اورحدود حرم میں کسی مسلمان کو دوسرے کے خلاف ہتھیاراٹھانا اور اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اگراس کے ہاتھ میں لینے سے کسی کو اذیت اور زخم لگنے کا خطرہ نہ ہو تو محض ہتھیار ہاتھ میں لے لینا نا جائز نہیں ہے۔ [صحیح مسلم: 1356]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [إن إبراهيم حرم مكة ، فجعلها حرما ، وإني حرمت المدينة حراما ما بين مأزميها ، أن لا يهراق فيها دم ، ولا يحمل فيها سلاح لقتال ، ولا تخبط فيها شجرة إلا لعلف]
اے اللہ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کی حرمت کا اعلان کیا، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں طرف کے دروں (پہاڑوں) کے درمیان کا علاقہ واجب الاحترام ہے، اس میں خون ریزی نہ کی جائے اور نہ اس میں کسی کے خلاف ہتھیار اٹھایا جائے، اور کسی درخت کے پتے جانوروں کی ضرورت کے سوا نہ جھاڑے جائیں۔ [صحیح مسلم:1374]
واقعۂ حرہ پر احادیثِ مدینہ کا اطلاق
احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ اہلِ مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرنے، ان کے خلاف سازش کرنے، یا انہیں ظلم کے ساتھ خوف زدہ کرنے والے کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اہلِ مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نمک کی طرح پگھلا دے گا، اور جو انہیں ظلم کے ساتھ خوف زدہ کرے گا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مزید برآں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے اس میں خون بہانے اور قتال کے لیے اسلحہ اٹھانے سے بھی منع فرمایا۔ لہٰذا واقعۂ حرہ میں اہلِ مدینہ پر لشکر کشی، ان کا قتل، انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کرنا، اور مدینہ کی حرمت پامال کرنا ان تمام نصوص کی روشنی میں ایک عظیم ظلم اور سنگین جرم تھا۔