مسلمان ہو کر صرف جہاد کا موقع ملا تو بھی آخرت کی کامیابی یقینی ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

مسلمان ہونے کے بعد سوائے جہاد کے کسی اور عمل کا موقع نہیں ملا تو بھی آخرت کی کامیابی یقینی ہے

عن أبى اسحاق قال سمعت البراء رضى الله عنه يقول أتي النبى صلى الله عليه وسلم رجل مقنع بالحديد فقال يا رسول الله أقاتل أو أسلم قال أسلم ثم قاتل فأسلم ثم قاتل فقتل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عمل قليلا وأجر كثيرا.
”ابو اسحاق سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص زرہ پہنے ہوئے آیا، کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے مسلمان ہو پھر میدان قتال میں شریک ہو۔ “ چنانچہ وہ پہلے اسلام لایا، پھر جنگ میں شریک ہوا اور اس کے بعد وہ جنگ میں ہی شہید ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب عمل صالح قبل القتال، واللفظ لہ، الرقم: 2808 / مسلم، کتاب الإمارة، باب ثبوت الجنة للشہید، الرقم: 1900)

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر نیک کام کی قبولیت کے لیے پہلے مسلمان ہونا شرط ہے، غیر مسلم اگر کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو دنیا میں اسے اس کا بدلہ دیا جاتا ہے مگر آخرت میں اس کے لیے کچھ بھی نہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص نے صدق دل سے اسلام قبول کیا ہے اگر اس کے بعد اسے نیکی کرنے حتی کہ فرائض کی ادائیگی کا بھی موقع نہیں ملا تو اللہ کے ہاں اس کا اجر واجب ہو گیا۔