آثار و مشاہد کے تتبع پر سیدنا عمر کی تنبیہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس شخص کو سختی سے منع فرماتے جو ایسی جگہ جا کر نماز ادا کرنے کی کوشش کرتا جہاں رسول اللہ نے نماز پڑھی تھی۔ آپ کا مشہور قول ہے:
إنما هلك من كان قبلكم بهذا فإنهم اتخذوا آثار أنبيائهم مساجد من أدركته الصلوة فيه فليصل وإلا فليذهب
”تم سے پہلے لوگ اسی بناء پر ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء کے نشانات (آثار) کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے اور اگر کسی کو وہاں (اتفاقاً) نماز کا وقت آئے تو نماز ادا کرے ورنہ وہاں سے چل دیے۔“
(البدع والنهي عنها لمحمد بن وضاح ص : 41۔ 42)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وہی حکم دیا جو سنتِ نبوی کے مطابق تھا۔ آپ ان خلفائے راشدین میں سے ایک ہیں جن کی اتباع کرنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اتباع کی بطور خاص وصیت ہے، آپ کا فرمان ہے:
اقتدوا بالذين من بعدى أبى بكر وعمر
”میرے بعد ابوبکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔“
(سنن ترمذی کتاب المناقب : باب 16 حديث : 3662 ، سنن ابن ماجه المقدمة : باب فضل ابي بكر الصديق الحديث : 97)
بیت المقدس کی طرف کثرتِ سفر پر امام مالک کی ناپسندیدگی
اقتدا کا حکم امرِ سنت سے زیادہ اعلیٰ و ارفع ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ بیت المقدس کی طرف بار بار سفر کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ اس سفر کو لوگ سنت نہ سمجھ لیں۔
امام موصوف سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ وقت مقرر کر کے بیت المقدس کی طرف جانے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے تاکہ اس سفر کو لوگ سنت نہ سمجھ لیں جیسے کہ حج وغیرہ۔ کیونکہ وقت مقرر کر کے رسول مکرم نہ قبورِ شہداء گئے اور نہ ہی جنت البقیع کی طرف تشریف لے گئے جس طرح حج، جمعہ اور عیدین میں آپ کا معمول تھا لہذا اس فرق کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
آپ نے رات کے وقت بارہا جماعت سے نماز ادا کی، فزع، کسوف، عیدین اور جمعہ کے علاوہ پانچوں نمازوں کا وقت مقرر فرمایا۔ رہا صرف سلام عرض کرنے کے لیے قبرِ مکرم کے پاس جانا، تو یہ وظیفہ نماز کے اندر مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت مسنون دعاء پڑھنے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لہذا قبرِ مکرم کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ نماز کے بعد بار بار قبرِ مکرم کے پاس جانے سے یہ خطرہ ہے کہ قبرِ مکرم میلہ اور وثن نہ بن جائے جس سے آپ نے منع فرمایا ہے۔