قربانی میں کون سا جانور افضل ہے؟ احادیث اور علماء کے اقوال

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

کس جانور کی قربانی افضل ہے؟

اگر انسان انفرادی طور پر اونٹ ذبح کرے تو اونٹ کی قربانی افضل ہے، پھر انفرادی طور پر گائے ذبح کرنا افضل، اس کے بعد پھر بھیڑ اور پھر بکری کی قربانی افضل ہے، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكأنما قرب بدنة، ومن راح فى الساعة الثانية فكأنما قرب بقرة ومن راح فى الساعة الثالثة فكأنما قرب كبشا أقرن
”جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کیا پھر صبح سویرے (مسجد کا رخ کیا) تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، جو شخص دوسری گھڑی میں مسجد کی طرف جائے گویا اس نے گائے ذبح کی اور جو شخص تیسری ساعت میں مسجد کی طرف جائے گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا ذبح کیا۔“
صحیح بخاری کتاب الجمعة، باب فضل الجمعة: 881۔ صحیح مسلم، کتاب الجمعة، باب الطیب والسواک یوم الجمعة: 850۔ سنن أبى داود، کتاب الطهارة باب فی الغسل للجمعة: 351۔ جامع ترمذى، أبواب الجمعة، باب ما جاء فی التکبیر إلی الجمعة: 499۔ سنن نسائى كتاب الجمعة، باب وقت الجمعة : 1389

فوائد:

① قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ذهب الجمهور إلى أن أفضل الأنواع للمنفرد البدنة، ثم البقرة، ثم الضأن، ثم المعز، واحتجوا بأن البدنة تجزي عن سبعة أو عشرة على الخلاف، والبقرة تجزي عن سبعة، وأما الشاة فلا تجزي عن واحد بالاتفاق وما كان يجزي عن الجماعة إذا ضحى به الواحد كان أفضل مما يجزئ عن الواحد فقط
”جمہور علماء کا مذہب ہے کہ قربانی کی افضل قسم انفرادی طور پر اونٹ کی قربانی دینا ہے، پھر گائے، پھر بھیڑ پھر بکری کی قربانی افضل ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ اونٹ علی الاختلاف سات یا دس افراد کو کافی ہے، گائے سات افراد کو قربانی میں کفایت کرتی ہے اور بھیڑ اور بکری بالاتفاق ایک فرد ہی کو کافی ہے، سو قربانی کا جو جانور ایک جماعت کو کافی ہے جب اکیلا شخص اس کی قربانی دے گا تو وہ اس جانور سے افضل ہوگی، جو صرف ایک فرد سے کفایت کرتا ہے۔“
نیل الأوطار: 121/5
② امام نووی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
ومذهبنا ومذهب الجمهور، أن أفضل الأنواع البدنة ثم البقرة، ثم الضأن ثم المعز
”ہمارا (شافعیہ) اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ قربانی کی افضل قسم اونٹ، پھر گائے، ازاں بعد بھیڑ پھر بکری ہے۔“
شرح النووی: 118/13
③ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وأفضل الأضاحي البدنة، ثم البقرة، ثم الشاة، ثم شرك فى البقرة وبهذا قال أبو حنيفة والشافعي
” افضل قربانی اونٹ کی ہے، پھر گائے، پھر بھیڑ بکری کی، پھر گائے میں شراکت افضل ہے، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔“
نیز قربانی کے جانوروں میں سے اونٹ کی قربانی اس لیے افضل ہے کہ ہدی (حج کی قربانی کی طرح) اس ذبیحہ سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، نیز یہ باقی جانوروں سے زیادہ قیمتی ہے اور اس کا گوشت باقی جانوروں سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔
المغنی لابن قدامہ والشرح الکبیر: 99/11

قربانی کے جانوروں کی فضیلت کے بارے میں ضعیف روایات:

امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھیڑ کے جذعے (کھیرے) کی قربانی (اونٹ، گائے اور بکری سے) افضل ہے، پھر گائے اور بعد ازاں اونٹ کی قربانی افضل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی میں دو مینڈھے ذبح کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ افضل عمل ہی سر انجام دیتے تھے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی اور جانور کی قربانی مینڈھے سے افضل ہوتی تو اللہ تعالیٰ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ کے لیے مینڈھے کی بجائے کوئی اور جانور عطا فرماتے۔
المغنی لابن قدامہ والشرح الکبیر: 99/11
امام مالک رحمہ اللہ کا یہ استدلال کئی اعتبار سے باطل ہے۔
① نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی افضل اعمال محض اس لیے ترک کر دیتے تھے کہ وہ اعمال امت کے لیے مشقت کا باعث نہ بنیں، پھر حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سو اونٹوں کی قربانی بھی تو ثابت ہے۔
② گزشتہ روایت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً ثابت ہے کہ اونٹ کی قربانی باقی جانوروں سے افضل ہے۔ پھر جن روایات سے مینڈھے کے افضل ہونے کی دلیل لی جاتی ہے، وہ روایات ضعیف ہیں، ان روایات کی مفصل وضاحت گزشتہ صفحات پر ”دو دانتا جانور کے با آسانی میسر آنے کی صورت میں بھیڑ کا کھیرا جائز نہیں۔“ کے تحت بیان ہوئی ہے، مزید دلیل درج ذیل روایات ہیں:
① سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خير الكفن الحلة، وخير الأضحية الكبش الأقرن
”بہترین کفن حلہ (تین کپڑوں کا مجموعہ) اور بہترین قربانی سینگوں والا مینڈھا ہے۔“
ضعیف : سنن أبى داؤد، کتاب الجنائز، باب کراهیة المغالاة فی الکفن: 3156۔ مستدرک حاکم: 328/4، 7625۔ سنن بیهقی: 403/3۔ حاتم بن ابی نصر اور نسی الکندی مجہول راوی ہیں۔
② سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خير الأضحية الكبش، وخير الكفن الحلة
”بہترین قربانی مینڈھا اور بہترین کفن حلہ (تین کپڑوں پر مشتمل) ہے۔“
ضعیف : جامع ترمذی، کتاب الأضاحی، باب خیر الأضحیة الکبش: 1517۔ سنن ابن ماجه، کتاب الأضاحی، باب ما یستحب من الأضاحی: 3130۔ سنن بیهقی: 273/9۔ طبرانی کبیر: 7581۔ ابو عائد عفیر بن معدان ضعیف راوی ہے ۔