مسجد نبوی کی تاریخِ توسیع
رسول اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں مدفون ہیں۔ تمام امہات المؤمنین کے مکانات مسجدِ نبوی سے مشرقی جانب واقع تھے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ میں ایک مکان بھی مسجد کے اندر نہ تھا بلکہ آپ مکان سے نکل کر مسجد کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے۔
جب ولید بن عبدالملک نے اقتدار سنبھالا تو اس نے مساجد کی تعمیر و توسیع میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔ اسے مساجد تعمیر کرنے کا خاصا شوق اور جذبہ تھا۔ چنانچہ اس نے مسجدِ نبوی، مسجدِ حرام اور مسجدِ دمشق وغیرہ میں توسیع کی۔ اس نے اپنے گورنر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مکانات جن جن کے پاس بطور ورثہ ہیں، قیمت کا خرید کر مسجد میں شامل کر دے۔ چنانچہ تمام مکانات کو خریدا گیا اور پھر انہیں مسجد میں شامل کر دیا گیا۔
یہ وہ وقت تھا جب خطۂ ارض پر صحابہ میں سے ایک بھی بقیدِ حیات نہ تھا۔ ابن عمر، ابن عباس، ابو سعید خدری اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم بھی اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے تھے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اس توسیع کو اچھا نہیں سمجھا۔ اکثر صحابہ اور تابعین نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تجدیدِ مسجدِ نبوی سے بھی اتفاق نہیں کیا تھا، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پتھر، چونا اور ساگون کی لکڑی سے مسجد کو مزین بنا دیا تھا۔ جب ولید نے مسجد کی توسیع کی تو اکثر تابعین نے اسے استحسان کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔
رہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مسجد کو وسیع کرنا، تو آپ نے دیواریں گارے سے، ستون کھجور کے تنوں کے اور چھت کھجور کی ٹہنیوں سے بنائی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر کسی صحابی نے تنقید نہیں کی۔ البتہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ولید کی توسیع پر اختلاف پیدا ہوا تھا۔
ولید کے سکریٹری کا بیان ہے۔
ان کا نام عبد اللہ بن یعقوب اسکندری تھا۔ (مترجم)
امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں مسجدِ نبوی کی دیواریں اینٹوں کی، چھت کھجور کی ٹہنیوں کی اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس پر کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے توسیع کی تو پھر مسجد کی شکل و صورت وہی رہی، جو آپ کے وقت تھی۔ البتہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے خاصی تبدیلیاں کی تھیں۔ آپ نے دیواریں اور ستون منقش پتھروں سے بنائے اور چھت کو ساگوان سے مزین کیا۔
❀ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
منبرِ رسول اور مسجد کی وہ دیوار جو قبلہ کی طرف تھی ان کے درمیان صرف اتنا فاصلہ تھا کہ ایک بکری گزر سکتی تھی۔ پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قبلہ رخ دیوار کو حدِ مقصود تک بڑھا دیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ قبلہ کی دیوار کو وہاں تک لے آئے جہاں اب واقع ہے۔ البتہ منبر کو اپنی جگہ پر ہی رہنے دیا۔
خارجہ بن زید جن کا شمار مدینہ منورہ کے سات معروف و مشہور فقہاء میں ہوتا ہے، فرماتے ہیں کہ:
رسول اللہ نے اپنی مسجد تعمیر کی جس کا طول 70 اور عرض 20 ہاتھ یا قدرے زیادہ تھا۔
❀ اہلِ سیر کا کہنا ہے:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مسجدِ نبوی کی توسیع کی تو اس وقت مسجد کا طول و عرض 160 ہاتھ مربع تھا۔ اور مسجد کے چھ دروازے بنائے گئے۔ جیسے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں تھے۔
اور جب ولید بن عبدالملک نے مسجد کی توسیع کی تو مسجد کا طول 200 ہاتھ اور عرض قبلہ کی طرف سے 200 اور پچھلی طرف سے 80 ہاتھ تک بڑھا دیا۔
پھر اس کے بعد مہدی نے اس کی لمبائی میں صرف شام کی جانب ایک سو گز کا مزید اضافہ کر دیا۔ باقی تین جہتوں سے تعرض نہیں کیا گیا۔ واللہ اعلم۔
عہدِ صحابہ میں جو شخص رسول اللہ پر سلام عرض کرنا چاہتا وہ حجرہ کی مغربی جانب سے قبلہ رخ ہو کر یا حجرہ کی طرف منہ کر کے سلام کہتا۔ اب جہتِ قبلہ سے بھی آنا ممکن ہے۔ اکثر علماء کا کہنا ہے کہ سلام عرض کرنے والے کو مستحب یہ ہے کہ وہ حجرہ کی طرف منہ کر کے سلام کہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر سلام کہے۔
ولید نے اپنے باپ عبدالملک کی وفات کے بعد 80 سے 90 ھ کے درمیان عنانِ حکومت سنبھالی تو اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے چند ایک کے سوا کوئی بقیدِ حیات نہ تھا۔ جیسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ وہ بھی بصرہ میں تھے۔ آپ کی وفات 90 سے 100ھ کے درمیان ولید بن عبدالملک کے دور میں ہوئی۔ مدینہ منورہ میں تمام صحابہ کے بعد فوت ہونے والوں میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما تھے جو 87ھ میں فوت ہوئے۔ آپ کی وفات کے تقریباً دس سال بعد ولید بن عبدالملک نے رسول اللہ کے مکانات کو خرید کر مسجد میں داخل کیا اور مسجد کی توسیع ان کی وفات کے بعد عمل میں آئی۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں مسجد کی توسیع ضرور کی لیکن رسول اللہ کے مکانات میں سے معمولی حصہ بھی مسجد میں داخل نہیں کیا۔ وہ مسجد سے باہر ہی رہے جیسے رسول اللہ اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت میں تھا۔ اس لیے کہ امہات المؤمنین ان میں رہائش پذیر تھیں۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت تک آپ وہیں رہیں۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کے بعد آپ کا انتقال ہوا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین سے حجرہ مبارک میں دفن ہونے کی اجازت طلب کی۔ چنانچہ آپ نے بخوشی اجازت عطا فرما دی۔ لیکن دوسرے صحابہ نے اچھا نہ سمجھا کیونکہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جیسے صحابی حجرہ میں دفن نہ ہوئے تو دوسرا بھی دفن نہیں ہو سکتا۔ دوسری بات یہ بھی زیرِ غور تھی کہ کہیں اس پر کوئی فتنہ کھڑا نہ ہو جائے۔
جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے آثار نمودار ہوئے تو آپ نے بطورِ خاص وصیت فرمائی کہ مجھے حجرہ کی بجائے جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ مسجد کی توسیع کے سلسلے میں ولید بن عبدالملک نے جو کچھ کیا؟ اس کے متعلق تابعین کے سوا کسی نے اظہارِ خیال نہ کیا، جیسے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور ان ہی جیسے دیگر تابعینِ کرام نے اس عمل کو اچھا نہیں سمجھا۔
امام موصوف سے سوال ہوا کہ وہ علقمہ اور اسود سے بھی افضل ہیں؟ آپ نے کہا:
ہاں! سعید بن مسیب ان سے افضل ہیں۔
یہ بھی یاد رکھئے کہ علقمہ اور اسود مسجد کی اس توسیع سے کافی عرصہ پہلے فوت ہو چکے تھے۔
حجرہ مبارک کو مسجد میں داخل کرنے سے پہلے ہی مسجد نبوی کی فضیلت مسلم تھی۔ مسجد نبوی کی فضیلت تو اس لیے ہے کہ اسے رسول اللہ نے اپنے اور مومنین کے لیے تعمیر کیا تھا کہ اس میں نماز ادا کیا کریں گے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی فضیلت بیان فرمائی۔
ہم یہاں مسجد نبوی کی فضیلت کے بارے میں امام مالک رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: ”مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ کو جبریل علیہ السلام ہی نے جہتِ قبلہ سے آگاہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک اسی مسجد میں جمعہ اور نماز باجماعت کا اہتمام فرمایا اور سفر و حضر میں اس مسجد کے سوا کہیں جمعہ ادا نہیں کیا، ہاں البتہ آپ نماز باجماعت ہر جگہ پر ادا کر لیا کرتے تھے جہاں بھی موقع ملتا۔“
لہذا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کے مکلف ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ آپ کی ہر بات کی تصدیق کریں اور جو حکم دیں اس پر عمل کریں کیونکہ آپ کی تصدیق اور اطاعت کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے۔ رسول مکرم کے جمیع افعال کی اقتداء کرنا ہمارے لیے مسنون ہے۔