جس عورت کو نکاح کا پیغام دینا ہو، اس پر نظر ڈالنا
مسلمان جب شادی کا عزم کر لے اور کسی مخصوص عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کر لے تو نکاح کے سلسلہ میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے وہ اس عورت کو ایک نظر دیکھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس عورت پر نظر ڈالنا جائز ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنکھیں بند کر کے چل پڑے اور بعد میں پچھتانے لگے کہ اس مصیبت سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آنکھیں در حقیقت دل کی پیغامبر ہیں اور آنکھوں کے ذریعے دل متاثر ہوتے ہیں اور ارواح کے درمیان اُنسیت پیدا ہو جاتی ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے :
كنت عند النبى صلى الله عليه وسلم فأتاه رجل فأخبره إنه تزوج امرأة من الأنصار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنظرت إليها؟ قال لا – قال فاذهب فانظر إليها، فإن فى أعين الأنصار شيئا
”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ انصار کی ایک خاتون سے نکاح کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تم نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے کہا : نہیں۔ فرمایا : جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ نقص ہوتا ہے۔“
مسلم کتاب النکاح باب ندب من اراد نکاح امراة … ح : 1424
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بھی یہ بیان کرتے ہیں :
أنه خطب امرأة فقال النبى : أنظر إليها فأنه أحرى أن يودم بينكما فاتى أبويها فأخبرهما بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانهما كرها ذلك فسمعت ذلك المرأة وهى فى خدرها فقالت: إن كان رسول الله امرك أن تنظر فانظر…. قال المغيرة: فنظرت إليها فتزوجتها
”انہوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے دیکھ لو کہ ایسی صورت میں تمہارے درمیان موافقت پیدا ہو جانے کا قوی امکان ہے مغیرہ رضی اللہ عنہ عورت کے والدین کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ان کو مطلع کیا۔ انہوں نے نامناسب سا خیال کیا۔ لیکن جب عورت نے پردہ کے اندر سے سُنا تو کہا : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کے لیے کہا ہے تو دیکھ لیجئے مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ جواب سن کر میں نے اسے دیکھ لیا اور اس سے شادی کرلی۔“
مسند احمد : 246/4 – ترمذی كتاب النكاح باب ما جاء في النظر الى المخطوبة ح : 1087 – نسائی کتاب النكاح باب اباحة النظر قبل التزويج ح : 3237 – ابن ماجه کتاب النکاح باب النظر الى المرأة اذا ارادان يتزوجها ح : 1866 – سنن الدارمي : 134/2 – ح : 2176
مخطوبہ (وہ عورت جس کو شادی کا پیغام دیا جائے) کو کس حد تک دیکھا جا سکتا ہے؟ اس کی کوئی صراحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ چہرے اور ہتھیلیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں پیغام بھیجنے والے کی کیا خصوصیت ہوئی؟ ان اعضاء پر تو پیغام بھیجنے کے بغیر بھی نظر ڈالی جاسکتی ہے! پیغام کے لیے دیکھنے کا جو استثناء ہے، اس سے تو یہی مفہوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں جس حد تک دیکھنا جائز ہے، اس سے کچھ زیادہ ہی دیکھنا اس موقع پر جائز ہے۔ حدیث میں آیا ہے :
إذا خطب احدكم المرأة فقدر أن ينظر منها بعض ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل
”جب کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے اور اس کے لیے یہ ممکن ہو کہ اس کو کسی قدر دیکھ لے یعنی جس قدر دیکھنا نکاح کے لیے ضروری ہے تو وہ ایسا کر لے۔“
مسند أحمد : 360/3 واللفظ له ورواه ابوداود في كتاب النکاح باب في الرجل ينظر إلى المرأة ح : 2082
ایک طرف بعض علماء اس حد تک رخصت کے قائل ہیں اور دوسری طرف کچھ دوسرے علماء کا اس معاملہ میں مسلک بہت تنگ ہے۔ بہتر صورت توسط اور اعتدال کی ہے۔ بعض محققین کی رائے میں پیغام دینے والے شخص کو اس حد تک اجازت ہونی چاہیے کہ وہ مخطوبہ کو ایسے لباس میں دیکھے جس میں کہ وہ اپنے باپ بھائی اور دیگر محرموں کے سامنے بلا تکلف آتی ہے۔ بلکہ اس بات کی بھی اجازت ہونی چاہیے کہ مخطوبہ کے فہم ذوق اور امتیازی خصوصیات کا مشاہدہ کرنے کی غرض سے کسی محرم کی معیت میں اس کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں معمولاً اس مخطوبہ کی آمد و رفت رہتی ہو بشر طیکہ وہ مقام جائز نوعیت کا ہو اور مخطوبہ شرعی لباس میں ہو۔ اس لیے کہ یہ باتیں مذکورہ حدیث جس قدر دیکھنا نکاح کے لیے ضروری ہے۔ کے مفہوم میں شامل ہیں
المرأة بين البيت والمجتمع للاستاذ البهى الخولي ص : 24
پیغام دینے والا شخص مخطوبہ اور اس کے گھر والوں کو مطلع کر کے بھی اسے دیکھ سکتا ہے اور بغیر اطلاع کے بھی، بشرطیکہ ارادہ واقعی پیغام نکاح دینے کا ہو۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک درخت کے پیچھے چھپ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔
مسند احمد : 334
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان باپ کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ رسم و رواج کے نام پر اپنی بیٹی کو دیکھنے سے کسی ایسے شخص کو روکے جو واقعی اس کو نکاح کا پیغام دینا چاہتا ہو۔ ضروری ہے کہ رسم ورواج شریعت کے تابع رہیں۔ شریعت کو رسم و رواج کے تابع کرنا بڑی غلط بات ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی جائز نہیں ہے نہ باپ کے لیے اور نہ پیغام دینے والے کے لیے اور نہ ہی مخطوبہ کے لیے کہ وہ رخصت سے فائدہ اٹھا کر کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کو اس حد تک اجازت دیں کہ وہ پارکوں میں ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے پھریں اور پیغام کے نام پر تھیڑوں، تفریح گاہوں اور بازاروں کی سیر کریں اور ساتھ میں کوئی محرم رشتہ دار بھی نہ ہو۔ اگر محرم بھی ساتھ ہو تو تب بھی ایسی جگہوں پر گھومتے پھرنا جائز نہیں ، یہ شادی سے پہلے دیکھ لینے کی رخصت کا ناجائز استعمال ہوگا۔ جو کہ سراسر ممنوع اور گناہ کا باعث ہے۔ آج کل نسل نو مغربی تہذیب کے دلدادہ ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسندی خواہ وہ دائیں جانب ہو یا بائیں جانب، (افراط و تفریط) اسلام کے مزاج سے قطعاً مناسبت نہیں رکھتی۔
پیغام دینے کی حرام صورتیں
➊ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو نکاح کا پیغام دے جو طلاق یا شوہر کی وفات کی عدت گزار رہی ہو۔ چونکہ عدت کی مدت سابق رشتہ زوجیت کے احترام کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو تو دوران عدت اس کے ذہن میں یہ بات اشارے کنایہ میں ڈال سکتا ہے کہ وہ نکاح کے لیے آمادہ ہے۔ مگر صراحت کے ساتھ وہ پیغام نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاء
”اور اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ پیغام نکاح کی بات اشارہ و کنایہ میں کہو۔“
سورہ البقرة : 235
➋ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے پیغام پر پیغام نکاح دینا حرام ہے جبکہ ان کی بات چیت کامیابی کے مرحلہ میں پہنچ گئی ہو۔ کیونکہ جس شخص نے پہلے پیغام دیا ہے اس کو ایک قسم کا حق حاصل ہو گیا ہے، جس کا خیال رکھنا چاہیے۔ نیز لوگوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور خلاف مروّت کام کرنے سے احتراز کے پیش نظر بھی ایسا کرنا ضروری ہے ورنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پہلے شخص کا حق چھین لیا گیا اور یہ ایک طرح کی زیادتی ہوگی۔ لیکن اگر پہلا شخص جس نے پیغام دیا ہے، اپنا ارادہ ترک کر دے یا خود ہی دوسرے شخص کو پیغام کی اجازت دے دے تو ایسی صورت میں دوسرے شخص کے پیغام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
المؤمن أخو المؤمن فلا يحل للمؤمن أن يبتاع على بيع آخيه ولا يخطب على خطبة أخيه
”مومن مومن کا بھائی ہے کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور نہ یہ بات جائز ہے کہ اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام دے۔“
مسلم كتاب النكاح باب تحريم الخطبة على خطبة اخيه ح : 1414
نیز فرمایا :
لا يخطب الرجل على خطبة الرجل حتى يترك الخاطب قبله أو يأذن له
”کوئی شخص کسی کے پیغام پر پیغام نہ دے تا وقتیکہ جس نے پیغام دیا ہے وہ اپنا ارادہ ترک نہ کرے یا دوسرے شخص کو اجازت نہ دے۔“
بخاري كتاب النكاح باب لا يخطب على خطبة اخيه ح : 5142 مسلم حواله سابق ح : 1412
کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور جبر نہ کیا جائے
جوان لڑکی اپنے نکاح کے معاملہ میں اولین اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی رائے کو کوئی اہمیت نہ دینا اور اس کی رضا مندی کی پروا نہ کرنا اس کے باپ یا ولی کے لیے جائز نہیں ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
الثيب احق بنفسها من وليها والبكر تستأذن فى نفسها واذنها صماتها
”شوہر دیدہ عورت ولی کے مقابلہ میں اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے۔ اور کنواری عورت سے اس کے نفس کے معاملہ میں اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے۔“
مسلم كتاب النكاح باب استيذان الثيب فى النكاح بالنطق ح : 1421
وجاءت فتاة إلى النبى صلى الله عليه وسلم فاخبرته أن أباها زوجها من ابن أخيه وهى له كارهة فجعل النبى الأمر إليها فقالت: قد أجزت ما صنع أبى ولكن أردت أن أعلم النساء أن ليس للآباء من الأمر شيء
”ایک لڑکی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے لیکن یہ رشتہ اسے پسند نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا۔ اس نے کہا : میرے والد نے جو رشتہ کر دیا ہے میں اسے برقرار رکھتی ہوں۔ دراصل میں عورتوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ باپ کو لڑکی کی مرضی کے بغیر رشتہ کر دینے کا اختیار نہیں ہے۔“
ابن ماجه كتاب النكاح باب من زوج بسنته وهي كارهة ح 1874 واسناده ضعيف
باپ کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ لڑکی کا نکاح کسی ایسے شخص کا پیغام آجانے پر مؤخر کر دے جو دیندار با اخلاق اور اس کی برابری کا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
ثلاث لا تؤخرها الصلاة إذا أتت والجنازة إذا حضرت والأيم إذا وجدت لها كفؤا
”تین چیزوں کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے نماز جبکہ وقت ہو جائے جنازہ جبکہ حاضر ہو اور مجرد عورت کا نکاح جبکہ اس کی برابری کا رشتہ مل جائے۔“
ترمذی کتاب الجنائز باب ماجاء في تعجيل الجنازة ح 1075 و اسناده ضعیف
نیز فرمایا :
إذا آتاكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه إلا تفعلوه تكن فى الأرض فتنة و فساد كبير
”جب ایسا رشتہ سامنے آجائے جس کے دین و اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کر دو ورنہ زمین میں بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوگا۔“
ترمذی كتاب النكاح باب ماجاء فيمن ترضون دينه فزوجوه ح 1085