مضمون کے اہم نکات
سلف صالحین کا آثارِ نبوی سے تبرک
اس مضمون میں سلف صالحین صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے آثار سے حصولِ تبرک کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے مبارک بالوں سے تبرک:
عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[أرسلني أهلي إلى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بقدح من ماء، فيه شعر من شعر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان إذا أصاب الإنسان عين أو شيء بعث إليها مخضبه، فاطلعت في الجلجل، فرأيت شعرات حمرا.]
مجھے میرے گھر والوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا، جس میں نبی کریم ﷺ کے بال تھے۔ جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا، تو وہ پانی کا برتن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا کرتے (وہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک بال، جو کہ انہوں نے چاندی کی ڈبیا میں رکھے ہوئے تھے، نکال کر انہیں اس شخص کے لیے پانی میں ہلاتیں اور بیمار آدمی وہ پانی پی کر شفا یاب ہو جاتا)۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس ڈبیا میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اس میں سرخ بال دکھائی دیے۔
[صحیح البخاري: 5896]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[المراد أنه كان من اشتكى أرسل إناء إلى أم سلمة، فتجعل فيه تلك الشعرات، وتغسلها فيه، وتعيده، فيشربه صاحب الإناء، أو يغتسل به استشفاء بها، فتحصل له بركتها.]
اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو جاتا، تو وہ کوئی برتن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے مبارک بالوں کو اس میں رکھ کر ہلاتیں۔ بیمار شخص اپنے اس برتن سے پانی پیتا، بیماری سے شفا کے لیے غسل کرتا اور اسے ان مبارک بالوں کی برکت حاصل ہوتی تھی۔
[فتح الباري: 10/353]
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[قلت لعبيدة: عندنا من شعر النبي صلى الله عليه وسلم، أصبناه من قبل أنس، أو من قبل أهل أنس، فقال: لأن تكون عندي شعرة منه؛ أحب إلي من الدنيا وما فيها.]
میں نے عبیدہ (بن عمرو سلمانی، مخضرم تابعی) رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کے کچھ بال مبارک ہیں، جو ہمیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یا ان کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ یہ سن کر عبیدہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بھی ہو، تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو۔ (صحیح البخاري: 170)
ایک روایت میں ہے کہ عبیدہ مخضرم رحمہ اللہ نے فرمایا:
[لأن يكون عندي منه شعرة؛ أحب إلي من كل صفراء وبيضاء أصبحت على وجه الأرض وفي بطنها.]
اگر میرے پاس نبی کریم ﷺ کا ایک بال ہو، تو وہ مجھے زمین کے اندر اور باہر والے تمام سونے اور چاندی سے محبوب ہو۔
[مسند الإمام أحمد: 13685، السنن الکبریٰ للبیہقی:4233، حسنٌ]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
[هذا القول من عبيدة؛ هو معيار كمال الحب، وهو أن يؤثر شعرة نبوية على كل ذهب وفضة بأيدي الناس، ومثل هذا يقوله هذا الإمام بعد النبي صلى الله عليه وسلم بخمسين سنة، فما الذي نقوله نحن في وقتنا لو وجدنا بعض شعره بإسناد ثابت، أو شسع نعل كان له، أو قلامة ظفر، أو شقفة من إناء شرب فيه، فلو بذل الغني معظم أمواله في تحصيل شيء من ذلك عنده، أكنت تعده مبذرا أو سفيها؟ كلا.]
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ کا یہ قول کمالِ محبت کا معیار ہے کہ لوگوں کے پاس تمام سونے اور چاندی پر نبی کریم ﷺ کے ایک بال کو ترجیح دی جائے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کی وفات کے صرف پچاس سال بعد یہ تابعی امام فرما رہے ہیں۔ اب اگر ہمارے زمانے میں نبی کریم ﷺ کے بال، جوتے کے تسمے، ناخن یا برتن کا ٹکڑا، جس میں آپ ﷺ پانی نوش فرمایا کرتے تھے، صحتِ سند کے ساتھ مل جائے، تو ہم (محبت میں) اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ اور اگر کوئی امیر آدمی اس کے حصول کی خاطر کثیر زر خرچ کر دے، تو کیا ہم اسے فضول خرچ اور بیوقوف کہیں گے؟ نہیں! ہرگز نہیں۔
(سِیَر أعلام النُبلاء: 42/4)
تنبیہ ①:
ثابت بنانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
[هذه شعرة من شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فضعها تحت لساني، قال: فوضعتها تحت لسانه، فدفن وهي تحت لسانه.]
یہ نبی کریم ﷺ کا ایک بال مبارک ہے۔ آپ اسے میری زبان کے نیچے رکھ دیجیے۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے وہ بال مبارک ان کی زبان کے نیچے رکھ دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو جب دفن کیا گیا، تو وہ بال ان کی زبان کے نیچے ہی تھا۔
[الإصابة في تمييز الصحابة لابن حَجَر: 127/1]
روایت ضعیف و منقطع ہے۔
① ہبیرہ عیشی کی توثیق درکار ہے۔
② صفوان سے نیچے سند بھی غائب ہے۔
تنبیہ ②:
جعفر بن عبداللہ بن حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے:
[إن خالد بن الوليد فقد قلنسوة له يوم اليرموك، فقال: اطلبوها، فلم يجدوها، فقال: اطلبوها، فوجدوها، فإذا هي قلنسوة خلقة، فقال خالد: اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحلق رأسه، فابتدر الناس جوانب شعره، فسبقتهم إلى ناصيته، فجعلتها في هذه القلنسوة، فلم أشهد قتالا وهي معي إلا رزقت النصر.]
جنگِ یرموک کے موقع پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گم ہو گئی، تو انہوں نے کہا: تلاش کرو، مگر ہمیں نہ ملی۔ انہوں نے پھر حکم دیا: تلاش کرو، تو ہمیں وہ مل گئی۔ وہ ایک پرانی ٹوپی تھی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ ادا کیا اور سرِ مبارک منڈوایا، تو صحابہ کرام آپ ﷺ کے اطراف کے بالوں پر ٹوٹ پڑے۔ میں ان سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے والے بالوں تک پہنچ گیا اور انہیں میں نے اس ٹوپی میں رکھ لیا۔ جس بھی جنگ میں میں نے اس ٹوپی کو اپنے ساتھ رکھا، مجھے کامیابی نصیب ہوئی۔
[المُعجم الكبير للطبراني: 4/104، ح: 3804، مسند أبي يعلى: 7183، المستدرك للحاكم: 3/299، دلائل النبوّة للبيهقي: 6/249، دلائل النبوّة لأبي نعيم: 367، تاريخ ابن عساكر: 16/246، سير أعلام النبلاء للذهبي: 1/374، 130/16]
سند ضعیف ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[إسناده منقطع۔] "اس کی سند منقطع ہے۔” (تلخيص المستدرك: 3/299)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[رواه الطبراني، وأبو يعلى بنحوه، ورجالهما رجال الصحيح، وجعفر سمع من جماعة من الصحابة، فلا أدري سمع من خالد أم لا]
اس روایت کو امام طبرانی اور امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ دونوں کے راوی صحیح بخاری کے ہیں۔ جعفر نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے تو سنا ہے، مگر مجھے یہ نہیں معلوم کہ سیدنا خالد سے سنا ہے یا نہیں؟
[مجمع الزوائد: 349/9]
تنبیہ ③:
عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ سے مروی ہے:
[أوصى عمر بن عبد العزيز عند الموت، فدعا بشعر من شعر النبي صلى الله عليه وسلم وأظفار من أظفاره، وقال: إذا مت؛ فخذوا الشعر والأظفار، ثم اجعلوه في كفني، ففعلوا ذلك]
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے موت کے وقت نبی کریم ﷺ کے بال اور ناخن منگوا کر وصیت فرمائی: جب میں مر جاؤں تو ان بالوں اور ناخنوں کو میرے کفن میں رکھ دینا، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
[الطَّبقات الکبریٰ لابن سعد: 406/5]
یہ جھوٹی روایت ہے۔
① محمد بن عمر واقدی "متروک و کذاب” ہے۔
②،③ محمد بن مسلم بن جماز اور عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ کی توثیق درکار ہے۔
تنبیہ ④:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منسوب روایت (مناقب أحمد لابن الجوزي:545، سِیَر أعلام النُبلاء للذهبي: 337/11) بھی "ضعیف” ہے۔ اس میں عصمہ بن عصام کی توثیق نہیں مل سکی۔
آج کل بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب بالوں کی زیارت کراتے پھرتے ہیں، ان کے پاس کوئی بسندِ صحیح ایسی دلیل نہیں، جس سے ثابت ہوتا ہو کہ یہ واقعی آپ ﷺ ہی کے مبارک بال ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی چادر اور تہہ بند مبارک سے تبرک:
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[أخرجت إلينا عائشة إزارا وكساء ملبدا، فقالت: في هذا قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم.]
"سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک تہہ بند اور موٹی اونی چادر نکال کر ہمیں دکھائی اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات اس چادر میں ہوئی تھی۔”
[صحیح البخاري: 3108، صحیح مسلم: 2080]
صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
[دخلت على عائشة، فأخرجت إلينا إزارا غليظا، مما يصنع باليمن، وكساء من التي يسمونها الملبدة، قال : فأقسمت بالله، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض في هذين الثوبين.]
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے موٹے کپڑے کا ایک تہہ بند نکالا، جو یمن کا بنا ہوا تھا اور ایک چادر نکالی، جسے ’ملبدہ‘ کہا جاتا ہے۔ پھر سیدہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کی قسم اٹھا کر بتایا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات انہیں دو کپڑوں میں ہوئی تھی۔
نبی کریم ﷺ کے جبہ مبارک سے تبرک:
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک جبہ نکال کر فرمایا:
[هذه كانت عند عائشة حتى قبضت، فلما قبضت قبضتها، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها، فنحن نغسلها للمرضى يستشفى بها]
یہ تاوقتِ وفات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی، تو اسے میں نے حاصل کر لیا۔ نبی کریم ﷺ اسے زیبِ تن فرمایا کرتے تھے اور ہم اسے دھو کر پانی بیماروں کو پلاتے ہیں، تاکہ وہ صحت یاب ہو جائیں۔
[صحیح مسلم: 2069]
نبی کریم ﷺ کے پیالہ مبارک سے تبرک:
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسے مبارک برتن میں پانی پلانے کی پیشکش کی، جس میں نبی کریم ﷺ نے پانی نوش فرمایا تھا اور انہوں نے اسے اپنے پاس محفوظ کر لیا تھا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: [ألا أسقيك في قدح شرب النبي صلى الله عليه وسلم فيه]
کیا میں آپ کو اس مبارک پیالے میں پانی نہ پلاؤں، جس میں نبی کریم ﷺ
نے پانی نوش فرمایا تھا۔ [صحیح البخاري: 7341]
◈ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، تو انہوں نے فرمایا:
[انطلق إلى المنزل، فأسقيك في قدح شرب فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم]
میرے ساتھ گھر چلیے، میں آپ کو اس پیالے میں پانی پلاؤں گا، جس میں نبی کریم ﷺ نے پانی نوش فرمایا تھا۔ (صحیح البخاري: 7341)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[أقبل النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ حتى جلس في سقيفة بني ساعدة هو وأصحابه، ثم قال: اسقنا يا سهل، فخرجت لهم بهذا القدح، فأسقيتهم فيه، فأخرج لنا سهل ذلك القدح، فشربنا منه، قال: ثم استوهبه عمر بن عبد العزيز بعد ذلك، فوهبه له]
اس دن نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ بیٹھے، پھر فرمایا: سہل! پانی لاؤ۔ میں نے ایک پیالہ نکال کر سب کو اس میں پانی پلایا۔ سہل رضی اللہ عنہ ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ انہیں عنایت کر دیا۔
[صحیح البخاري: 5637، صحیح مسلم: 2007]
حجاج بن حسان بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[كنا عند أنس بن مالك، فدعا بإناء، وفيه ثلاث ضباب حديد، وحلقة من حديد، فأخرج من غلاف أسود، وهو دون الربع وفوق نصف الربع، فأمر أنس بن مالك، فجعل لنا فيه ماء، فأتينا به، فشربنا وصببنا على رؤوسنا ووجوهنا، وصلينا على النبي صلى الله عليه وسلم]
ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران انہوں نے ایک برتن منگوایا، جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک چھلا لگا ہوا تھا۔ انہوں نے وہ برتن ایک کالے غلاف سے نکالا تھا، جو چوتھائی سے کم اور نصف چوتھائی سے کچھ زیادہ تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حکم پر اس میں ہمارے لیے پانی ڈالا گیا۔ ہم نے وہ پانی نوش کیا، اپنے سر اور چہرے پر ڈالا اور نبی کریم ﷺ پر دورود و سلام پڑھا۔ (مسند الإمام أحمد:12948، وسنده حسن)
نبی کریم ﷺ کے پسینہ مبارک سے تبرک:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[إن أم سليم كانت تبسط للنبي صلى الله عليه وسلم نطعا، فيقيل عندها على ذلك النطع، قال: فإذا نام النبي صلى الله عليه وسلم أخذت من عرقه وشعره، فجمعته في قارورة، ثم جمعته في سك، قال: فلما حضر أنس بن مالك الوفاة، أوصى إلي أن يجعل في حنوطه من ذلك السك، قال: فجعل في حنوطه.]
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے لیے چمڑے کی چٹائیاں بچھا دیا کرتی تھیں اور نبی کریم ﷺ ان کے یہاں انہیں چٹائیوں پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ سو جاتے تو سیدہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کا پسینہ مبارک اور (جھڑے ہوئے) بال مبارک لے لیتیں۔ پسینے کو ایک شیشی میں جمع کرتیں، پھر سُک (ایک خوشبو) میں ملا لیتیں۔ راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ اس سُک (جس میں نبی کریم ﷺ کا پسینہ ملا ہوا ہے) میں سے کچھ حصہ ان کو کفن پر دی جانے والی خوشبو میں ملا دیا جائے۔ چنانچہ وہ ان کی خوشبو میں ملایا گیا۔
[صحیح البخاري: 6281]
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[استوهبت من أم سليم من ذلك السك، فوهبت لي منه، قال أيوب: فاستوهبت من محمد من ذلك السك، فوهب لي منه، فإنه عندي الآن، قال: فلما مات محمد؛ حنط بذلك السك، قال: وكان محمد يعجبه أن يحنط الميت بالسك.]
میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے سُک ملی ہوئی خوشبو مانگی (جس میں نبی کریم ﷺ کا پسینہ مبارک ملا ہوا تھا)۔ انہوں نے مجھے وہ عطا فرما دی۔ ایوب سختیانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے بھی محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس کا کچھ حصہ مانگا، تو انہوں نے بھی عنایت فرما دیا۔ وہ اب بھی میرے پاس موجود ہے۔ ایوب سختیانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین رحمہ اللہ فوت ہوئے، تو انہیں یہی خوشبو لگائی گئی۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی یہ خواہش تھی کہ ان کی میت کو یہی خوشبو لگائی جائے۔
[طبقات ابن سعد: 428/8، المُعجم الكبير للطبراني: 19/25، وسنده صحيح]
حُمید طویل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[توفي أنس بن مالك، فجعل في حنوطه سكة، أو سك، ومسكة فيها من عرق رسول الله صلى الله عليه وسلم]
جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو ان (کے کفن) کو ایسی خوشبو دی گئی، جس میں نبی کریم ﷺ کا پسینہ مبارک شامل تھا۔
[المُعجم الكبير للطبراني:715، السنن الكبرى للبيهقي:6709، وسنده حسن]
نبی کریم ﷺ کے نعلین کریمین سے تبرک:
عیسیٰ بن طہمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[أخرج إلينا أنس نعلين جرداوين لهما قبالان، فحدثني ثابت البناني بعد ، عن أنس، أنهما نعلا النبي صلى الله عليه وسلم.]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بالوں کے بغیر چمڑے والے دو جوتے لائے، ان کے دو تسمے تھے۔ بعد میں مجھے ثابت بنانی رحمہ اللہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ نعلین کریمین نبی کریم ﷺ کے تھے۔
[صحیح البخاري: 3107]
نبی کریم ﷺ کی مبارک چھڑی سے تبرک:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[إنه كانت عنده عصية لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فمات، فدفنت معه بين جيبه وقميصه]
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم ﷺ کی ایک چھوٹی سے چھڑی تھی۔ جب وہ فوت ہوئے، تو چھڑی ان کے ساتھ ان کی قمیص اور پہلو کے درمیان دفن کر دی گئی۔
[مسند البزار (کشف الأستار: 395/1، ح:840)، وسنده حسن]
فائدہ: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہے:
[إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على أم سليم، وفي البيت قربة معلقة، فشرب من فيها وهو قائم، قال: فقطعت أم سليم فم القربة، فهو عندنا]
نبی کریم ﷺ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے۔ ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (تبرکاً) مشکیزے کا منہ کاٹ لیا، جو کہ اب بھی ہمارے پاس موجود ہے۔
[مسند الإمام أحمد:12188، الشمائل المُحمدية للترمذي: 215، المنتقي لابن الجارود : 868، مسند الحارث: 1190]
سند ضعیف ہے۔
① عبد الکریم بن مالک جزری نے براء بن زید سے سماع نہیں کیا۔
امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[عبد الكريم الجزري لم يسمع من البراء]
عبدالکریم جزری نے براء سے سماع نہیں کیا۔
[المراسيل لابن أبي حاتم: 134، وسنده صحيح]
سنن ابن ماجہ (3423) میں ہے:
[تبتغي بركة موضع في رسول الله صلى الله عليه وسلم]
سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے منہ لگانے والی جگہ سے برکت حاصل کرنا چاہتی تھیں۔
معجم کبیر طبرانی (ج25 ص15) میں یہ الفاظ ہیں:
[ألتمس البركة بذلك.]
مجھے اس کے ذریعے برکت حاصل کرنے کی خواہش تھی۔
یہ دونوں الفاظ سفیان بن عیینہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہیں۔