لباس اور زینت
اسلام میں یہ بات نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے کہ مسلمان اللہ کی پیدا کردہ زینت پوشاک اور نفیس لباس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی وضع قطع اور شکل وصورت میں بعض علماء سلف نے تمباکو کی حرمت کے لیے سورۃ اعراف کی آیت (157) سے استدلال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ
اور وہ (رسول اللہ) ان کے لیے طیب (پاکیزہ) اشیاء کو حلال اور خبیث (گندی) چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔
(الاعراف : 157)
جبکہ دنیا بھر کے انسانوں کے نزدیک خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم تمباکو ایک خبیث اور مضر صحت جڑی بوٹی ہے۔ جسے کوئی ایک بھی سمجھدار انسان طیب یا پاکیزہ نہیں کہہ سکے گا لہذا آیت مبارکہ کی رو سے تمباکو قطعا حرام ہے۔
حسن و جمال پیدا کرے۔
اسلام کی نظر میں لباس سے مقصود دو چیزیں ہیں۔
◈ ایک ستر کو ڈھانپنا۔
◈ اور دوسرے زینت۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے پوشش اور زینت کا جو سامان مہیا کیا ہے، اس کو احسان سے تعبیر فرمایا ہے :
يٰبَنِيٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًا
اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے جو تمہاری ستر پوشی بھی کرتا ہے اور زینت بھی ہے۔
(الاعراف : 26)
لہذا ان دونوں باتوں، ستر پوشی اور تزیین میں بے اعتدالی اختیار کرنا اسلام کی شاہراہ سے انحراف کر کے شیطان کے راستہ پر جا پڑتا ہے۔ یہ نکتہ قرآن مجید کی ان دو آیتوں میں مضمر ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا ہے کہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی میں عریانیت اور ترکِ زینت کا طریقہ اختیار نہ کرے :
يٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا
”اے بنی آدم! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرم گاہیں اُن کے سامنے کھول دے۔“
(الاعراف : 31)
اسلام نے مسلمان پر واجب کیا ہے کہ وہ اپنے جسم کے پوشیدہ اعضاء کو جنہیں ایک مہذب انسان فطری طور پر کھولنے میں شرم محسوس کرتا ہے چھپائے اور ننگے جانوروں سے ممتاز ہو جائے۔ نیز اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ خلوت میں بھی ستر کو چھپائے رکھے تاکہ شرم و حیاء انسان کی عادت و خصلت بن جائے۔
بہز بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ :
قلت يا رسول الله! عوراتنا ما نأتي منها وما نذر؟ فقال: احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك. قلت يا رسول الله فإذا كان القوم بعضهم فى بعض؟ قال: فإن استطعت أن لا يراها أحد فلا يرينها. قلت فإذا كان أحدنا خاليا؟ قال: فالله تبارك وتعالى أحق أن يستحيی عنه
میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اپنے ستر کا کس حد تک خیال رکھیں اور کس حد تک نہیں؟ فرمایا : اپنے ستر کی حفاظت کر بجز اپنی بیوی اور لونڈی کے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ (سفر وغیرہ میں) ہوں تو؟ فرمایا: جہاں تک ہو سکے ستر پوشی ضرور کرو۔ میں نے کہا: جب ہم میں سے کوئی شخص تخلیہ میں ہو تو؟ فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ آدمی اس سے شرمائے۔
مسند احمد (3/4-5) ابو داود کتاب الحمام باب في التعری ح : 4017، ترمذی، کتاب الادب باب ماجاء في حفظ العورة ح : 2769، ابن ماجه کتاب النکاح باب التستر عند الجماع ح : 1920
نظافت اور جمال والا دین :
اسلام نے زیبائش سے پہلے نظافت کا اہتمام کرنا ضروری قرار دیا ہے کیونکہ نظافت ہر قسم کی زیب و زینت کے لیے اساس و بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
تنظفوا فإن الإسلام نظيف
”نظافت اختیار کرو کہ اسلام نظافت والا دین ہے۔“
ابن حبان في المجروحين (3/57) و ابن الجوزي في العلل المتناهية (2/224) وفيه نعیم بن موزع قال ابن حبان شيخ يروي عن الثقات العجائب لايجوز الاحتجاح به بحال، وقال البخاري منكر الحديث نقل عنه العقيلي طبراني في الأوسط (7307) كما في المجمع (1/236) والترغيب (1/169) وقال وافقه على ابن مسعود في الکبير باسناد حسن و هو الاشبه
النظافة تدعوا إلى الإيمان والإيمان مع صاحبه فى الجنة
”نظافت ایمان کی داعی ہے اور ایمان اپنے ساتھی کو لے کر جنت میں جائے گا۔“
و اخبار أصبهان (1/183) فيه ابراهيم بن حبان وقال ابن عدي احاديثه موضوعة
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن، لباس، گھر اور راستوں کی صفائی کی ترغیب دی ہے اور خاص طور سے اپنے دانت، ہاتھ اور سر وغیرہ کو صاف ستھرا رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ نظافت کی یہ اہمیت ایک ایسے دین میں تعجب خیز نہیں ہے جس نے طہارت کو نماز جیسی اولین عبادت کے لیے کلید کی حیثیت دی ہے چنانچہ ایک مسلمان کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک کہ اس کا بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ صاف نہ ہو۔ یہ نظافت غسل اور وضو سے حاصل ہونے والی طہارت کے علاوہ ہے۔
اہل عرب دیہات اور صحرائی ماحول میں رہتے تھے جس کے زیر اثر اکثر لوگ صفائی اور زیبائش کے معاملہ میں بے اعتنائی برتتے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اندر نظافت کا احساس برابر پیدا کرتے رہے اور ان کی تربیت اس طرح کی کہ وہ ترقی کر کے متمدن قوم بن گئے اور جس گھٹیا اور ابتر حالت میں تھے اس سے نکل گئے۔ اور ان کی حالت میں موزوں قسم کا جمال پیدا ہو گیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس کے سر اور ڈاڑھی کے بال پراگندہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بال درست کرنے کا حکم دے رہے ہیں، چنانچہ اس نے بال درست کر لیے اور پھر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا :
أليس هذا خيرا من أن يأتى أحدكم ثائر الرأس كأنه شيطان
یہ بہتر ہے یا تمہارا اس حال میں آنا کہ شیطان کی طرح بال پراگندہ ہوں؟
موطا امام مالك (949/2) كتاب الشعر: باب اصلاح الشعر مرسلاً قال الشيخ الالباني : ضعيف بهذا اللفظ ويغنى عنه الحديث الذي بعده (غاية المرام – ص 62)
اسی طرح ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے بال پراگندہ ہیں تو فرمایا :
أما وجد هذا ما يسكن به شعره ورای اخر علیہ ثیاب وسخۃ فقال أما كان هذا يجد ما يغسل به ثوبه؟
”کیا اسے بالوں کو درست کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور شخص کو جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا دیکھا تو فرمایا کیا اسے اپنے کپڑے دھونے کے لیے کچھ نہیں ملا؟“
ابو داود کتاب اللباس : باب في الخلقان وفى غسل الثوب ح: 4062 – نسائي : کتاب الزينة باب تسكين الشعر ح : 5238
ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے جسم پر خراب (میلے کچیلے) کپڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ألك مال؟ قال: نعم. قال: من أى المال؟ قال: من كل المال قد أعطاني الله تعالى. قال: فإذا آتاك الله مالا فلير أثر نعمة الله عليك وكرامته
”کیا تمہارے پاس مال ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا فرمایا ہے۔ فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال سے نوازا ہے تو وہ تم پر اپنی نعمت اور فضل کا اثر بھی دیکھنا چاہتا ہے۔“
ابو داود کتاب اللباس، باب في الخلقان ح: 4063 ۔ نسائي کتاب الزينة : باب الجلاجل، ح : 5226
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالخصوص جمعہ وعیدین جیسے اجتماعات کے موقعوں پر نظافت و زیبائش کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا :
ما على أحدكم إن وجد سعة أن يتخذ ثوبين ليوم الجمعة غير ثوبي مهنته
”اگر ممکن ہو تو کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے لیے ایک جوڑا کپڑے مخصوص کر لینے میں کیا مضائقہ ہے۔“
صحیح سنن ابی داود کتاب الصلاة باب اللبس للجمعة، رقم الحدیث : 1087، سنن ابن ماجه، کتاب الصلاة، باب ماجاء في الزينة يوم الجمعة، رقم الحدیث: 1095، صحیح أبن خزيمة رقم الحدیث: 1765، صحیح ابن حبان (16/15، 17)، رقم الحدیث: 2777، صحیح بشاهده