حکم البراء عن المنــافقین
منافقین سے براء ت کا حکم
منافقوں سے قطع تعلق کا حکم ہے۔
[وَ یَقُوۡلُوۡنَ طَاعَۃٌ ۫ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ غَیۡرَ الَّذِیۡ تَقُوۡلُ ؕ وَ اللّٰہُ یَکۡتُبُ مَا یُبَیِّتُوۡنَ ۚ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا]
اور (منافق) کہتے ہیں ہم آپ کے فرمانبردار ہیں لیکن جب (آپ کی مجلس سے اٹھ کر) باہر جاتے ہیں تو ان کا ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے جو مشورے وہ کرتے ہیں اللہ ان سب کو لکھ رہا ہے تم ان سے منہ پھیر لو اور اللہ پر توکل کرو، کارسازی کے لئے وہی کافی ہے۔ (سورۃ النساء:81)
منافقین سے اللہ تعالیٰ کی بیزاری، دشمنی اور نفرت۔
① [اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ]آپ ان (منافقین) کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں (برابر ہے) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعا مغفرت کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں فرمائے گا یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ التوبہ:80)
②[سَیَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَکُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَیۡہِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡہُمۡ ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ رِجۡسٌ ۫ وَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ]
جب تم جنگ سے پلٹ کر ان کے پاس آؤ گے تو وہ تمہارے پاس آ کر اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، ان سے منہ موڑ لو یہ ناپاک ہیں ان کا ٹھکانہ آگ ہے ان کرتوتوں کے بدلہ میں جو وہ کرتے رہے ہیں۔ (سورۃ التوبہ:95)
③[یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ لِتَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ ۚ فَاِنۡ تَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرۡضٰی عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ]
منافق تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، اگر تم راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان فاسقوں سے راضی نہیں ہوگا۔ (سورۃ التوبہ:96)
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے منافق سے فوراً براءت کی۔
[عن موسى بن عقبة: قال ابن شهاب: سمع زيد بن أرقم رجلا من المنافقين يقول والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب: لئن كان هذا صادقا لنحن شر من الحمير. فقال زيد: قد والله صدق، ولأنت شر من الحمار. ورفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فجحده القائل، فأنزل الله على رسوله: {يحلفون بالله ما قالوا} الآية، فكان مما أنزل الله في هذه الآية تصديقا لزيد]
سیدنا موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابن شہاب نے کہا سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے منافقین میں سے ایک کو یہ کہتے ہوئے سنا اگر یہ شخص (یعنی) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر ہم سب گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے (سنتے ہی فوراً) جواب دیا: اللہ کی قسم! بالکل سچی بات ہے کہ تو گدھے سے بھی بدترہے۔ یہ بات جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو بات کہنے والا (منافق) اپنی بات سے پھر گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: یہ لوگ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی حالانکہ انہوں نے یہ کفر کا کلمہ کہا ہے۔ (سورۃ التوبہ:74) اس آیت میں جو بات نازل فرمائی اس سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی بات سچ ثابت ہوگئی۔ [فتح الباري:8/651]