مغرب کو عشاء کا نام دینے کی ممانعت
① سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم المغرب ، و يقول الأعراب: هي العشاء
”دیہاتی تمہاری نماز مغرب کے نام پر تم پر غالب نہ آ جائیں، دیہاتی کہتے ہیں وہ عشاء ہے“۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 563۔
مغرب اور عشاء کے مابین نماز
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له عبادة اثنتي عشرة سنة
”جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتا ہے اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہیں کرتا تو اسے بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب ملتا ہے۔“
ترمذي، كتاب الصلوة 435۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1374۔ یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔ سند میں عمر بن عبداللہ بن ابی خشعم منکر الحدیث ہے۔
بچوں کو نماز کی تلقین کرنا
① سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مروا الصبي بالصلاة إذا بلغ سبع سنين فإذا بلغ عشر سنين فاضربوه عليها
”جب بچہ سات برس کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دو اور جب دس برس کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو پھر اس کی اس وجہ سے پٹائی کرو۔“
ابو داؤد، كتاب الصلوة 494۔ ترمذى، كتاب الصلوة 407۔ یہ روایت صحیح ہے۔
② سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
علموا الصبي الصلاة ابن سبع و اضربوه عليها ابن عشر
”جب بچہ سات برس کا ہو جائے تو اسے نماز کی تعلیم دو اور جب دس برس کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو پھر اس کی اس وجہ سے پٹائی کرو۔“
ترمذی، کتاب الصلوة 407۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين واضربوهم عليها وهم أبناء عشر وفرقوا بينهم فى المضاجع
”جب بچے سات برس کے ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہو جائیں اور نماز نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو اور اس عمر میں ان کے بستر الگ کر دو۔“
ابوداؤد، كتاب الصلوة 495۔ مسند احمد، مسند المكثرين من الصحابه 2 / 187۔ روایت صحیح ہے۔