یہود و نصاریٰ کی روش اور امتِ مسلمہ کے لیے تنبیہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تقلید کے گڑھ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم کی حقیقت بیانی:

جامع مسجد منصورہ میں قاضی حسین احمد اور نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ کی موجودگی میں مولانا محمد قاسم کے پڑپوتے قاری محمد طیب صاحب کے بیٹے، مرکزی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد سالم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے اندر اختلافات کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین کی تبلیغ کی بجائے مذہب و مسلک کی تبلیغ شروع کر دی ہے۔ فطری بات یہ ہے کہ ہر خطے اور ہر طبقے کے اہل فکر اور اہل علم کی سوچ کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یہ اجتہادی رائے قابل ترجیح تو ہو سکتی ہے قابل تبلیغ نہیں ہوتی۔ حجت صرف اللہ کا دین ہو سکتا ہے۔ مذہب و فقہ اور مسلک حجت نہیں بن سکتا۔ اسے قبول کرنے کا حق بھی ہے اور رد کرنے کا بھی۔ (ہدایہ عوام کی عدالت میں، ص 71، بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور ص 4، مورخہ 27-11-1987)

کیا تقلید کے شیدائی، دیوبندیت کے دعویدار اپنے مرکزی رہنما کا مشورہ مان لیں گے؟ یا خلاف کر کے تعلق دیوبندیت کو مشکوک بنا دیں گے؟ دیکھا جائے گا۔

یہود و نصاریٰ قرآن وحدیث اور حنفی فقہ کی روشنی میں:

یاد رہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے اور ان کے باطل عقائد کی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار تردید فرمائی ہے:

[1] سورہ البقرہ، آیات:40-147

[2] سورہ آل عمران، آیات:1تا83- 107

[3] سورہ النساء، آیات:44تا 95-153تا157 تا 199

[4] سورہ المائدہ، آیات:12تا26-41تا120

[5] سورہ الاعراف، آیات:160تا179

[6] سورہ التوبہ، آیات:3، 7، 9-29تا35

[7] سورہ بنی اسرائیل:57، 111

[8] سورہ مریم، آیات: 30تا60

قبروں کے بارے میں احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ یہودیوں اور نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ آپ یہ فرما کر (اپنی امت کو) ایسے کام سے ڈراتے تھے۔

[بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب: 435]،[مسلم، کتاب المساجد، باب النهی عن بناء المسجد علی القبور…… الخ: 529 تا 532]

تو کیا امت مسلمہ ڈری؟

یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو اہل کتاب کا طرز عمل اختیار کرنے سے منع فرمایا:

[اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ]

کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے اور اس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ہے اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں ان سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔ (الحديد: 16)

ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے یہاں تک کہ وہ اگر کسی سانڈے کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا:پھر اور کون؟

[بخاری، كتاب الإعتصام بالكتاب والسنة، باب قول النبی ﷺ: ((لتتبعن سنن من كان قبلكم)): 7320]،[مسلم، کتاب العلم، باب اتباع سنن اليهود والنصارىٰ: 2669]

اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو قرآن مجید میں گمراہ قرار دیا اور یہود کو مغضوب (جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا) قرار دیا اور قرآن میں ان کو جگہ جگہ مختلف جرائم میں ملوث مجرم قرار دیا اور مسلمانوں کو ان کے طرز عمل اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے اور حکم دیا کہ دین کا علم تمھارے پاس آنے کے بعد تم ان کی پیروی نہ کرنا ورنہ نہ کوئی تمھارا حمایتی ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا:

[وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ] (البقرۃ:145)

اور اگر آپ ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا تو بے شک آپ بھی ظالموں میں سے ہوں گے۔

مقصدِ امت کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن وحدیث کا علم آجانے کے بعد یہود و نصاریٰ اور اہل بدعت کے پیچھے لگنا اپنے اوپر ظلم ہے اور یہ سراسر گمراہی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مندرجہ بالا حدیث میں فرمایا کہ تم ان کی اتباع کرو گے۔

لہٰذا ہم یہاں قرآن وحدیث کی روشنی میں یہود و نصاریٰ کے جرائم کی ایک فہرست مرتب کریں گے اور موجودہ کلمہ گو صاحبان کے طریقوں کا یہود و نصاریٰ کے طریقوں سے تقابلی جائزہ پیش کریں گے، تاکہ اگر ہم یہود و نصاریٰ کا کوئی طرز عمل اختیار کر رہے ہیں تو اس سے دور رہیں۔ یہ سب کچھ ہمدردی اور احساس کی خاطر کیا جا رہا ہے، تنقید کی خاطر نہیں۔

قرآن نے یہود و نصاریٰ کو مشرک قرار دیا:

انھیں شرک فی الحکم کا مرتکب قرار دیا۔

(التوبہ:31) اور فرمایا انھوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات ماننے کی بجائے اپنے مولویوں اور درویشوں کے احکامات مانے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرک قرار دیا، جیسا کہ فقہ کی مشہور کتاب میں ہے کہ یہود و نصاریٰ اپنے مولویوں اور درویشوں کا کہنا مانتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرک فرمایا، مومنوں کو حکم دیا کہ لوگوں کے قول مت پوچھو بلکہ یہ پوچھو کہ اللہ اور رسول ﷺ کا کیا حکم ہے؟ (مقدمہ عالمگیری:1/ 14)

اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا حکم مان رہے ہیں یا اور لوگوں کا بھی حکم مان رہے ہیں۔

(مزید تشریح کے لیے فصل توحید فی الحکم اور شرک فی الحکم دیکھیے)۔

انھیں شرک فی الذات کا مرتکب قرار دیا:

انھیں شرک فی الذات کا مرتکب قرار دیا نیز فرمایا: اور یہودی کہتے ہیں کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں، لگے اگلے کافروں کی سی باتیں بنانے۔ اللہ ان کو غارت کرے، کہاں بہک گئے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں اور مسیح مریم کے بیٹے کو اللہ کے سوا اپنے رب بنا لیا ہے، حالانکہ ان کو یہی حکم ہوا تھا کہ ایک اللہ کی پرستش کریں، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔ (التوبہ:31،30)

اور فرمایا: [لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ] اس جیسا کوئی نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے۔ (الشوریٰ:11)

اور فرمایا: وہ کافر اور مشرک ہیں جنھوں نے کہا مریم کا بیٹا مسیح ہی اللہ ہے۔ (المائدہ:17، 72تا77)

اور فرمایا: [وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ] اور انھوں نے اللہ کے بندوں کو اسی کا جزو قرار دیا، بے شک آدمی کھلم کھلا کافر ہو گیا۔ (الزخرف: 15)

اور فرمایا: مریم اور عیسیٰ علیہ السلام کس طرح اللہ ہو سکتے ہیں، وہ تو کھانا کھاتے تھے اور عیسیٰ مریم کا بیٹا تھا اور مریم کے شکم میں رہے۔

(المائدہ:75)،(آل عمران:45تا60)،(مریم:20تا32)

اور فرمایا: اللہ کو موت نہیں باقی سب کو موت ہے۔ (الانبیاء:34، 35)

مزید تفصیل کے لیے توحید فی الذات اور شرک فی الذات کی بحث دیکھیے۔

انھیں شرک فی العبادت کا مرتکب قرار دیا:

(التوبہ:29تا33)،(المائدہ:72تا77) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرک قرار دیا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کر رہے ہیں اور (المائدۃ:116تا120) میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان گفتگو کا ذکر ہے جو قابلِ غور ہے۔ آج کل امتِ مسلمہ کے کچھ لوگ بھی بزرگوں کی عبادت کر رہے ہیں۔

اور فرمایا: کہ نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کو پکارتے ہیں۔ (بنی اسرائیل:57)،(الجن:18تا20)،(الاعراف:35تا42) دیکھیے قرآن کا ترجمہ مع تفسیر از احمد رضا خاں صاحب اور یہاں لفظ ،،یدعون،، وغیرہ ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے توحید فی العبادت اور شرک فی العبادت کی بحث ملاحظہ فرمائیں۔

انھیں شرک فی التصرف اور شرک فی العلم کا مرتکب قرار دیا:

(المائدۃ:76، 116، 117) یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا: کہ کیا تو نے نصاریٰ کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانا؟ تو عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ جب تک میں ان میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا پھر جب تو نے مجھے اپنے پاس اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان رہا اور سب چیزیں تیرے سامنے ہیں (یعنی جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تو عیسیٰ علیہ السلام کو پتا نہیں کہ ان کی امت کیا کر رہی ہے) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب میرے کچھ ساتھی قیامت کے دن پکڑے جائیں گے تو میں بھی عیسیٰ علیہ السلام والا جواب دوں گا۔

(بخاری، کتاب التفسير،(سورة الأنبياء)، باب:(كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا): 4740)

مزید تفصیل کے لیے توحید فی العلم اور شرک فی التصرف کی بحث دیکھیں۔

چونکہ اہل کتاب مشرک ہیں اس لیے ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں۔ (التوبہ:29) اور ہر مشرک کا یہی حکم ہے جیسے مشرکینِ مکہ (الانعام: 150) حالانکہ وہ اللہ کو مانتے تھے۔ (یونس:18تا23، 31) اہل کتاب کے مولوی اور درویش لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ (التوبہ: 34) غور کریں آج کیا ہو رہا ہے۔ آج کل بھی اکثر مولوی اور درویش جاہل ہیں اور لوگوں کو قرآن و حدیث سنانے کی بجائے ،،اللہ ھو،، ،،اللہ ھو،، کی تعلیم دیتے ہیں حالانکہ اس کا معنی کوئی نہیں ہے۔

اہل کتاب کا غلو:

غلو کا مطلب ہے اعتدال کا راستہ چھوڑ دینا، یہ افراط و تفریط دونوں صورتوں میں ہے۔ غلو کے لیے دیکھیے (النساء:171تا175)،(المائدہ: 72تا77) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے اہل کتاب! غلو نہ کرو اور اللہ پر وہی بات کہو جو سچ ہو، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کا وہی مالک ہے اور وہی کافی ہے کارساز اور سب اس کے عبادت گزار ہیں اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمھارا ولی ہے نہ کوئی مددگار۔ (النساء: 171تا173) اور فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) نے کہا اے بنی اسرائیل! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اللہ نے اس پر جنت کو حرام قرار دیا۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اللہ سے استغفار کرو۔ اللہ کے سوا ایسے کی بندگی نہ کرو (عیسیٰ علیہ السلام) جو تمھارے نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اے اہل کتاب! غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے خیال پر مت چلو جو پہلے گمراہ ہو چکے اور بہتوں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بہک گئے۔(المائدۃ:72تا77)

قرآن مجید کے مندرجہ بالا مقامات پر اگر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ اہل کتاب غلو کی وجہ سے مشرک ہوئے، اسی لیے ہمارے پیارے رسول ﷺ نے ہمیں اس قسم کے رویے سے سختی سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم مجھے نصاریٰ کی طرح نہ بڑھانا جیسا کہ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں کیا۔ میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ [بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب: 3445]

رسول اللہ ﷺ بلکہ ان سے کمتر بزرگوں کے معاملے میں بھی ہمیں امت مسلمہ میں لاؤڈ سپیکروں پر ہر طرف غلو سنائی دے رہا ہے، یہ معاملہ انتہائی خطرناک ہے، اس طرز عمل کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ہم نے احمد رضا خان کا ترجمہ مع تفسیر گہری نظر سے کئی ماہ لگا کر پڑھا۔ اس میں ہر طرف غلو ہی غلو نظر آیا۔ (غلو کے معنی ہیں کسی ہستی کو اس کے جائز مقام سے بڑھانا یا گھٹانا) رسول اللہ ﷺ کو حاضر و ناظر لکھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ بھی ناظر ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کو بلکہ تمام انبیاء کو اس صفت میں اللہ کے برابر قرار دیا۔ انبیاءِ کرام ﷺ کو بشر کہنا کفار کا شیوہ قرار دیا، یہ غلو کی انتہا ہے۔ غیراللہ کو پکارنے کے اپنے عقیدہ کو درست ثابت کرنے کے لیے قرآنی ترجمہ مع تفسیر میں بار بار تحریف کی۔ صرف اپنا عقیدہ غلو ثابت کرنے کے لیے امام ابو حنیفہ کو امامِ اعظم لکھا، حالانکہ امامِ اعظم ہمارے پیارے رسول ﷺ ہیں۔

اور حد تو یہ ہے کہ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کو سورۂ مریم (96، ف 156) میں غوثِ اعظم لکھا، حالانکہ غوثِ اعظم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ (النمل: 62- الانفال: 19 اور الاحقاف: 17) یہ ظاہر غلو اور شرک ہے۔ غیر اللہ کو پکارنے والے باب میں ہم اس کا بڑی تفصیل کے ساتھ قرآنی حوالوں کے ساتھ ذکر کر چکے ہیں۔ ان ساری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ جیسا کوئی نہیں، اللہ کے برابر کوئی نہیں، کیونکہ وہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق۔ رسول اللہ ﷺ ایسی ہستی ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا صحابی، کوئی بڑے سے بڑا امام، کوئی بڑے سے بڑا بزرگ، کوئی بڑے سے بڑا نبی ان کی برابری نہیں کر سکتا۔ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے۔

شرک کے علاوہ قرآن نے اہل کتاب کو مندرجہ ذیل جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے:

[1] یعنی [سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا] کے اقرار سے پھر گئے، وعدہ یہ کیا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی لیکن ایسا نہ کیا اور دوسرا اقرار یہ تھا کہ اللہ نے عالم ارواح میں ہر انسان سے سوال کیا کہ کیا میں تمھارا رب یعنی داتا نہیں ہوں؟ تو روحوں نے جواب دیا کہ ہاں! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن یہ نہ کہنا کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے کیا، کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے؟ اس بات سے اہل کتاب پھر گئے یعنی صرف اللہ کو رب یعنی داتا ماننے کی بجائے پیغمبروں کو داتا بنا لیا اور یہی حال آج کل کے کلمہ گو صاحبان کا ہے، بلکہ انھوں نے تو ہزاروں داتا بنا لیے۔ اگر لاہور والا داتا ہے تو سب صحابہ داتا ہو گئے کیونکہ وہ ان سے افضل ہیں۔ اگر صحابی داتا ہو گئے تو سب انبیاء داتا ہو گئے کیونکہ وہ صحابہ سے افضل ہیں۔ اس طرح لاکھوں داتا بن گئے تو اللہ کی توحید کدھر گئی؟

[2] اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد نہ رکھے۔ (البقرة:47) آسمانی ہدایت کو یاد نہ رکھا، اس سے پھر گئے تو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی انعامات بھی چھین لیے۔ یہی کچھ امتِ مسلمہ نے کیا، یہی کچھ ان کے ساتھ ہوا۔

[3] حق کو باطل کے ساتھ ملا دیا، حق کو چھپا لیا (البقرة:42، 146، 159، 174) اور آسمانی ہدایت کے ساتھ اور لوگوں کے احکامات بھی ملا دیے، یہی کچھ امتِ مسلمہ نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ ذلیل وخوار ہو رہی ہے۔

 [4] اہل کتاب کے مزید جرائم کے لیے البقرة (40تا147) اور آل عمران (1تا83) دیکھیں اور فرمایا: اللہ سے ملاقات یاد رکھو۔ (البقرة: 46) اور فرمایا: شرک نہ کرو۔ (البقرة: 51، 62) اور فرمایا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ (البقرة: 52) اور فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم نہ بدلو۔ (البقرة: 59) اور فرمایا اللہ کی آیتوں کا انکار نہ کرو۔ (البقرة: 61، 94) اور فرمایا کہ ہمارا یہ امی نبی اہل کتاب سے وہ بوجھ اور پھندے اتارتا ہے جو ان کے علماء نے خود ساختہ دین کے ذریعے پیدا کر لیے تھے۔ (الأعراف: 157، 158) یہود ونصاریٰ کے مندرجہ بالا طرزِ عمل کو سامنے رکھ کر ہر کلمہ گو کو اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہمارے علماء نے بھی خود ساختہ بوجھ اور پھندے ہمارے گلے میں تو نہیں ڈال دیے۔ یہ وہ بوجھ اور پھندے ہیں جن کا اصل دین میں وجود تک نہیں (یعنی شرک اور بدعات کے بوجھ اور پھندے) اور پھر اپنا طرزِ عمل درست کرنا چاہیے اور سب سے بڑا جرم اہل کتاب نے یہ کیا کہ اللہ کی کتاب کے کچھ حصے کو مان لیا اور کچھ کو نہ مانا۔ (البقرة: 85) اور اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ جو ایسا کرے گا اس کو ہم دنیا میں بھی ذلیل کریں گے اور قیامت کے دن بھی اور یہی کچھ آج کل امتِ مسلمہ کر رہی ہے کہ قرآن کے کچھ حصے کو مانتی ہے اور کچھ کا انکار کرتی ہے بلکہ پاکستان میں اکثر لوگ تو قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہی نہیں۔