بکری کے جذعہ کی قربانی کا حکم احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

بکری کے جذعہ (کھیرا) کی قربانی کا حکم

بکری کے کھیرے کی قربانی کسی بھی صورت جائز نہیں۔ کیونکہ قربانی میں اونٹ، گائے، اور بکری کا دودانتا ہونا شرط ہے۔
البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند معین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بکری کے کھیرے کی قربانی کی رخصت دی تھی، یہ رخصت انہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے خاص تھی، باقی امت اس رخصت میں شامل نہیں اور نہ اس رخصت پر قیاس درست ہے۔ دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى خال لي يقال له أبو بردة، قبل الصلاة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: شاتك شاة لحم، فقال: يا رسول الله! إن عندي داجنا جذعة من المعز، قال: اذبحها ولا تصلح لغيرك
”میرے ماموں ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ عید سے قبل قربانی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کہا: تیری بکری گوشت کی بکری ہے (یعنی اس کے گوشت کا فائدہ ہے لیکن قربانی میں قبول نہیں)۔ انھوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس بکری کا پالتو جذعہ (کھیرا) ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کرو اور تیرے سوا کسی اور کے لیے (بکری کے کھیرے کی قربانی) درست نہیں۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لأبی بردة، ضح بالجذع من المعز ولن تجزی عن أحد بعدک: 5556۔ صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتها: 1961۔ سنن أبى داود، کتاب الضحایا، باب ما یجوز فی الضحایا من السن: 2801
② سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم أعطاه غنما يقسمها على صحابته ضحايا، فبقي عتود فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: ضح به أنت
بلا شبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں (عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو) کچھ بکریاں دیں کہ وہ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر بطور قربانی تقسیم کریں، (پھر) بکری کا ایک بچہ (کھیرا) باقی بچا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر لو۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب أضحیة النبی صلی اللہ علیہ وسلم بکبشین أقرنین: 5555۔ صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب من الأضحیة: 1965۔ جامع ترمذی، أبواب الأضاحی، باب ما جاء فی الجذع من الضأن فی الأضاحی: 1500۔ سنن نسائی، کتاب الضحایا، باب المسنة والجذعة: 4384۔ سنن ابن ماجه، کتاب الأضاحی، باب ما یجزئ من الأضاحی: 3138
③ سنن بیہقی کی درج ذیل روایت دلیل ہے کہ بکری کے جذعہ کی یہ رخصت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے لیے خاص تھی اور ان کے علاوہ کسی اور کو بکری کے جذعہ کی قربانی کی رخصت نہیں۔ چنانچہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم غنما أقسمها ضحايا بين أصحابي فبقي عتود منها قال: ضح بها أنت ولا أرخص لأحد فيها بعدك
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بکریاں دیں کہ میں انھیں قربانی کے لیے اپنے رفقاء میں تقسیم کروں۔ چنانچہ (تقسیم کے بعد) ان میں ایک بکری کا کھیرا باقی بچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی دو لیکن میں کسی اور کو اس (بکری کے جذعہ) کی قربانی کی رخصت نہیں دیتا۔“
صحیح : سنن بیهقی: 270/9
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إن كانت هذه الزيادة محفوظة كان هذا رخصة لعقبة كما رخص لأبي بردة
”اگر یہ زائد الفاظ (کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو بکری کے جذعہ کی خاص رخصت تھی) محفوظ ہوں تو یہ (بکری کے جذعہ کی) سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کو خاص رخصت ہے جیسے سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو اس کی خاص رخصت دی گئی تھی۔“
صحیح : سنن بیهقی: 270/9
چنانچہ مذکورہ حدیث کے کلمات محفوظ و ثابت ہیں، اس لیے بقول امام بیہقی رحمہ اللہ یہ رخصت ان دو صحابہ (سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ) کے لیے ہی خاص تھی اور کسی عام امتی کو قربانی میں بکری کا جذعہ (کھیرا) ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

فوائد:

① امام ترمذی رحمہ اللہ حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
وقد أجمع أهل العلم أن لا يجزي الجذع من المعز وقالوا: إنما يجزئ الجذع من الضأن
”اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ (قربانی میں) بکری کا جذعہ (کھیرا) کفایت نہیں کرتا اور (قربانی میں دودانتا میسر نہ آنے کی صورت میں) فقط بھیڑ کا کھیرا ہی کفایت کرتا ہے۔“
جامع ترمذی تحت حدیث: 1508
② امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قال البيهقي وسائر أصحابنا وغيرهم، كانت هذه رخصة لعقبة بن عامر كما كان مثلها رخصة لأبي بردة بن نيار
”بیہقی، تمام شافعیہ اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ یہ (بکری کے جذعہ کی) رخصت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کے لیے خاص تھی۔“
شرح النووی: 1913
③ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وفي الحديث أن الجذع من المعز لا يجزي وهو قول الجمهور
”حدیث براء میں بیان ہے کہ بکری کے جذعہ کی قربانی کافی نہیں اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔“
فتح الباری: 20/10