مغنیات کی بیع کی ممانعت
① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تبيعوا القينات المغنيات ولا تشتروهن ولا تعلموهن ، ولا خير فى تجارة فيهن وثمنهن حرام، وفي مثل هذا أنزلت: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾
”مغنیات کو بیچو نہ خریدو اور نہ ہی انہیں تعلیم دو ان کی تجارت میں کوئی خیر نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو گانا بجانا اور اس کے آلات خریدتے ہیں۔“
ترمذی، کتاب البيوع 1282 ابن ماجه، کتاب التجارات 21688۔
پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صلاحیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا:
حتى تذهب عاهته
”حتی کہ اس کی آفت گزر جائے۔“
بخاری، کتاب البيوع 2199۔ مسلم، كتاب البيوع 1526/35۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے اور گیہوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سفید ہو جائے اور آفت سے بچ جائے ۔ آپ نے بائع اور مشتری دونوں کو اس سے منع فرمایا۔
مسلم، كتاب البيوع 50 / 1535۔ ابوداؤد، كتاب البيوع 3368۔
③ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ پھلوں کو بیچا جائے حتی کہ وہ سرخ اور زرد ہو کر کھانے کے قابل ہو جائیں۔
مسلم، كتاب البيوع 1536/84۔ بخارى، كتاب البيوع 2196.
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سیاہ ہو جائے اور اناج کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ پک کر تیار ہو جائے۔
ابوداؤد، کتاب البیوع 3371، ترمذی، کتاب البيوع 1228۔ ابن ماجه كتاب التجارات 2217۔
کسی مقامی شخص کا کسی بیرونی شخص کے لیے بیع کرنا منع ہے
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبع حاضر لباد ودعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض
”کوئی مقامی شخص کسی بیرونی شخص کے لیے بیچ نہ کرے لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو اللہ بعض کو بعض کے ذریعے رزق فراہم کرتا ہے۔“
مسلم، كتاب البيوع 1522/20۔ ابوداؤد، كتاب البيوع 3442۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی مقامی شخص کسی بیرونی شخص کے لیے بیچ کرے خواہ وہ اس کا ماں اور باپ دونوں کی طرف سے (حقیقی سگا) بھائی ہو۔
بخاری، کتاب البیوع 2161۔ مسلم، كتاب البيوع 21 / 1523۔
خرید و فروخت کی خاطر شہر سے باہر اہل قافلہ سے ملنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال فروخت کو راستے میں جا کر ملنے (خریدنے) سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث بخاری ومسلم میں اس سیاق کے علاوہ ہے۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تلقوا السلع حتى يهبط بها إلى الأسواق
”تم مال تجارت کو شہر سے باہر جا کر راستے میں نہ ملو حتی کہ اسے بازاروں میں اتار لیا جائے۔“
بخاری، کتاب البیوع 2165۔ مسلم، كتاب البيوع 1517/14۔