دوسرے شخص کی بیع، غیر موجود چیز کی فروخت اور ماں بچےاور بھائیوں میں جدائی کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کسی شخص کی دوسرے شخص کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبع بعضكم على بيع بعض
”تم میں سے کوئی شخص دوسرے شخص کی بیع پر بیع نہ کرے۔“
بخاری، کتاب البيوع 2139۔ مسلم، كتاب النكاح 1412/49۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبع الرجل على بيع أخيه حتى يبتاع أو يدر
”کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیچ نہ کرے حتی کہ وہ خرید لے یا چھوڑ دے۔“
نسائى ، البيوع 226/7۔

ایسی چیز کی بیع کی ممانعت جو پاس موجود نہ ہو

① سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کوئی آدمی بیع کے ارادے سے میرے پاس آتا ہے لیکن وہ چیز میرے پاس موجود نہیں جو اسے مطلوب ہے تو کیا میں اسے بازار سے خرید کر اسے لے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تبع ما ليس عندك
”جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے فروخت نہ کرو۔“
ابوداؤد، كتاب البيوع 3503 ،ترمذی، كتاب البيوع 1232۔

ماں اور بچے کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من فرق بين الوالدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة
”جو شخص والدہ اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دے تو روز قیامت اللہ اس کے اور اس کے محبوب ترین شخص کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔“
ترمذى، كتاب البيوع 1283 مسند احمد، باقی مسند الانصار 482/5، حديث 23560۔
② سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک باندی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا اور بیع لوٹا دی۔
ابوداؤد، کتاب الجهاد 2696۔

دو غلام بھائیوں کے مابین جدائی ڈالنے کی ممانعت

① سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام عطا کیے تو میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
ما فعل غلامك ؟ ”تیرے غلام نے کیا کیا؟“
میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رده رده
”اسے واپس لاؤ اسے واپس لاؤ۔“
ترمذی، کتاب البيوع 1384۔