کیا قربانی رات کو ذبح کی جا سکتی ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کی راتوں میں ذبح کا حکم

قربانی کی راتوں میں جانور ذبح کرنا جائز، مکروہ یا ممنوع ہے، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ ابو حنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور اور جمہور علماء رحمهم اللہ کا موقف ہے کہ ایامِ قربانی کی راتوں میں قربانیاں ذبح کرنا مع کراہت جائز ہے اور امام مالک، اصحابِ مالک اور احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ قربانی کی راتوں میں جانور ذبح کرنا جائز نہیں اور رات کے وقت ذبح شدہ جانور گوشت کی بکری ہے (قربانی کے لیے کافی نہیں)۔
نیل الأوطار: 133/5

راجح موقف:

راجح موقف یہ ہے کہ ماسوائے دس ذوالحجہ کی رات کے، قربانی کی راتوں میں قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ عند الاطلاق دن میں رات شامل ہوتی ہے اور بلا تخصیص رات کا دن سے خارج کرنا درست نہیں۔
قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قربانی کی راتوں میں قربانی کی ممانعت اور کراہت کا دعویٰ محتاجِ دلیل ہے (چنانچہ ممانعت و کراہت کی کوئی دلیل ثابت نہیں، لہذا قربانی کی راتوں میں قربانی ذبح کرنا جائز ہے) اور حدیثِ الباب میں مذکور ایامِ قربانی کے ذکر سے اگرچہ ظاہری مفہوم سے ان دنوں کی راتوں کو دنوں سے خارج کیا جاتا ہے، لیکن ایام کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ایام سے دن اور رات دونوں مراد لیے جاتے ہیں۔
نیل الأوطار: 133/5
نیز رات کے وقت قربانی کرنے کی ممانعت کے متعلق درج ذیل احادیث ضعیف ہیں:
① سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهى أن يضحى ليلا
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
ضعیف: طبرانی کبیر: 11296 – ضعیف الجامع الصغیر: 6017 – سلیمان بن مسلمہ خبائری متروک ہے۔
② حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
نهى عن جداد الليل، وحصاد الليل، والأضحى بالليل
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت فصل کی کٹائی سے اور رات کے وقت قربانی ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
ضعیف مرسل: سنن بیہقی: 290/9 – حدیث مرسل ہے اور اس میں حفص بن غیاث کی تدلیس ہے۔