معاملات کو اللہ کے سپرد کرنا
① سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا فلان إذا أويت إلى فراشك فقل: اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذى أنزلت وبنبيك الذى أرسلت. فإنك إن مت من ليلتك مت على الفطرة وإن أصبحت أصبت خيرا
”اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر آؤ تو یہ دعا پڑھو: اے اللہ! میں اپنا آپ تیرے سپرد کرتا ہوں، اپنا رخ تیری طرف کرتا ہوں، اپنے معاملات تیرے سپرد کرتا ہوں اور رغبت و شوق اور تجھ سے ڈرتے ہوئے اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیرے سوا کوئی پناہ گاہ ہے نہ مقامِ نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل فرمایا اور تیرے اس نبی پر بھی جسے تو نے بھیجا، پس اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو تم فطرت (دین) پر فوت ہو گے اور اگر صبح کر لی (زندہ اٹھ گئے) تو تمہاری صبح بہتر ہوگی“۔
بخاری، کتاب الدعوات 7488، 6313، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبه 2710۔
انبیاء اور صالحین کو وسیلہ بنانا
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب قحط سالی ہوتی تو وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کے لیے دعا کی درخواست کرتے تھے اور فرماتے:
”اے اللہ! ہم تیرے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تجھ سے استدعا اور التماس کرتے تھے اور تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا، اور اب ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعے تجھ سے درخواست کرتے ہیں، پس تو ہم پر بارش برسا، تو ان پر بارش ہو جاتی تھی“۔
بخاری، کتاب الجمعة 1010۔
مسافر کو الوداع کرنا
① سیدنا سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص سفر کرنا چاہتا تو وہ فرماتے: میرے قریب آؤ، میں تمہیں ایسے الوداع کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:
أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك
”میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔
روایت صحیح ہے، ترمذی، کتاب الدعوات 3443۔
② سیدنا عبد اللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کو الوداع کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے:
أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم
”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔
روایت صحیح ہے، ابو داؤد، کتاب الجهاد 2601۔
چھینک کے متعلق احکامات
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، دو آدمیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو دعا دی اور دوسرے کو دعا نہ دی، جس شخص کو دعا نہیں دی تھی اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اسے دعا دی ہے اور مجھے دعا نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذا حمد الله ولم تحمد الله
”اس نے تو الحمد للہ کہا تھا اور تم نے الحمد للہ نہیں کہا تھا“۔
بخاری، کتاب الادب 6225، مسلم، الزهد والرقائق 2991۔ ابو داؤد، کتاب الادب 5039، ترمذی، کتاب الادب 2742۔
② سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا عطس أحدكم فحمد الله تعالى فشمتوه فإن لم يحمد الله فلا تشمتوه
”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو اسے يرحمك الله کہہ کر دعا دو، اور اگر وہ الحمد للہ نہ کہے تو پھر اسے دعا نہ دو“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2992، بخاری فی الأدب المفرد 941۔ مسند احمد، اول مسند الکوفیین۔
③ سیدنا عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شمت العاطس ثلاثا فإن زاد فإن شئت فشمته وإن شئت فلا
”چھینکنے والے کو تین مرتبہ دعا دو، اگر وہ اس سے زیادہ بار چھینکے تو پھر اگر چاہو تو اسے دعا دو اور اگر چاہو تو نہ دو“۔
روایت ضعیف ہے اس کی سند میں مجہول راوی ہیں، ابوداؤد، کتاب الادب 5036، ترمذی، کتاب الادب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2744۔