الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد:
وحدة الوجود يا وحدة الشہود یا توحید وجودی کے بارے میں مولانا عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کی مفصل تحریر کا مطالعہ کیا، اسے فکر سلف صالحین و محدثین رحمہم اللہ کے عین مطابق پایا، میں ان کی تائید و تصدیق کرتا ہوں۔ اس بارے اگر کسی کو مفصل دلائل مطلوب ہوں تو علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب توحید خالص حصہ اوّل کا مطالعہ کریں۔
وصلى الله على نبينا محمد واله وصحبه وسلم
محمد رفیق اثری
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد
وحدۃ الوجود کی بھول بھلیاں ہوں یا وحدۃ الشہود کی موشگافیاں ہوں، ان کا ٹھیٹھ اسلام، جسے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیب سیدنا محمد رسول ﷺ پر نازل کیا تھا، سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ ﷺ کے ارشادات یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فرمودات میں ان اصطلاحات اور اس کی تفصیلات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ایک مسلمان کے لئے ان اصطلاحات کی تعلیم و تفہیم قطعاً غیر ضروری ہے۔ بلکہ وحدة الوجودسے توحید اور شرک کی تفریق ختم ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی کی بندگی اور ذکر و فکر کی سرشاریوں میں اگر بندہ مومن اس درجہ محو ہو جائے کہ ماسوا اللہ کے اس کے دل میں کوئی گنجائش نہ رہے تو یہ عبدیت کی معراج ہے۔ مگر اس سے ماسوا کے وجود کی نفی محض وجودیوں کے ذہن کی کرشمہ سازی ہے۔
سمندر اور اس کی لہروں سے وحدت الوجود پر استدلال جیسا کہ استفتاء میں ڈاکٹر اسرار صاحب کے حوالے سے نقل ہوا ہے، نیا نہیں بلکہ وجودیوں کی پرانی دلیل ہے۔ مگر اس میں بنیادی سقم یہ ہے کہ یہاں تعلق تو کل اور جز کا ہے مگر وحدت الوجود کی فکر کیا اللہ تعالیٰ کے حصص اور اجزاء کی اجازت دیتی ہے؟ اور کیا یہ تصور اسلام ہے؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس فکر کے تاروپود کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ بہر حال وحدة الوجود کا تصور صوفیا کی اپچ ہے اسلام کے بنیادی عقائد کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا نورستانی رحمہ اللہ نے اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے وساوس کا خوب ازالہ کیا ہے اور مسلک سلف کی ترجمانی کی ہے۔ جزاء الله احسن الجزاء.
البتہ یہاں ایک بات کا اشارہ مناسب سمجھتا ہوں وہ یہ کہ [وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ] کے حوالے سے وجودیوں کی بات دہراتے ہوئے ڈاکٹر اسرار صاحب کا کہنا کہ یہاں صفات کے اعتبار سے معیت مراد لینا تاویل ہے۔ دراصل ،،تاویل،، کے اطلاق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ ائمہ محدثین ،،اهل الاهواء،، کی تاویلات باطلہ کے بارے میں جب فرماتے ہیں کہ یہ تاویل ہے تو اس سے مراد صحابہ کرام اور تابعین عظام کے برعکس محض رائے اور اپنے افکار باطلہ کی تائید میں بیان کی ہوئی ،،تاویل،، مراد ہوتی ہے۔ اس آیت کی تفسیر صحابہ کرام سے ،،معیت علمی،، ثابت ہے جیسا کہ مولانا نورستانی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضي اللہ عنہ سے یہ تفسیر نقل کی ہے۔ سلف کی اس تفسیر کے مقابلے میں ،،معیت وجودی،، مراد لینا دراصل تاویل اور تفسیر بالرائے ہے جو بہر نوع غلط ہے۔
وصلى الله على نبينا محمد واله وصحبه وسلم
ارشاد الحق اثری
شیخ الحدیث عبدالمنان نور پوری رحمۃ اللہ علیہ
کتاب و حکمت اور قرآن سنت سے ثابت ہے کہ عالم مخلوق و مربوب ہے۔ اور اللہ تعالی خالق و رب ہے۔ بس اسی سے عالم کے ذہنی صور، مرآتی عکوس و ظلال اور دیگر قسم کے اوہام و خیال ہونے کی نفی نکلتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے [كان الله ولم يكن شيء غيره]
[صحیح بخاری:7418] اس سے بھی مذکور بالا نظریہ کی نفی نکلتی ہے۔
حافظ ابن تیمیہ نے [مجموع الفتاوی جلد:2 ص:111 تا 350] تک دوسو سے زائد صفحات میں اس عقیدہ پر خوب تبصرہ فرمایا ہے، تفصیل وہاں دیکھ لیں۔
باقی اللہ ایسے اترتا ہے جیسے میں اترا ہوں حافظ ابن تیمیہ پر بہتان ہے۔ [سبحانك هذا بهتان عظيم] شک ہو تو حافظ صاحب موصوف کا رسالہ ،،شرح حدیث النزول،، مطالعہ فرمالیں واللہ اعلم۔
[ان کا ایک خط بنام منبر التوحید والسنۃ سے اقتباس]
ڈاکٹر اسرار احمد اور عقیدہ وحدت الوجود
الشيخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ الله
الشیخ زبیر علی زئی ماہنامہ الحدیث میں فرماتے ہیں:
ابن عربی (صوفی) کی طرف منسوب کتاب فصوص الحکم میں لکھا ہوا ہے:
[فأنت عبد وأنت رب] پس تو بندہ ہے اور تو ہی رب ہے۔[ ص 77، شرح الجامي ص:202]
ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا:
میرے نزدیک اس کا اصل حل وہ ہے، جو شیخ ابن عربی نے دیا ہے۔ جو میں بیان کر چکا ہوں کہ حقیقت و ماہیت وجود کے اعتبار سے خالق و مخلوق کا وجود ایک ہے، کا ئنات میں وہی وجود بسیط سرایت کیے ہوئے ہے، لیکن جہاں تعین ہو گیا۔
تو وہ پھر غیر ہے اس کا عین نہیں۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ یہ کائنات کا وجود ایک اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا وجود کا عین اور دوسرے اعتبار سے اس کا غیر ہے۔ یہ ابن عربی کا فلسفہ ہے۔ اور ابن عربی ہمارے دینی حلقوں کی سب سے زیادہ متنازعہ فیہ (Controversial) شخصیت ہیں۔ ان کی حمایت اور مخالف دونوں انتہا کو پہنچی ہیں۔ ہمارے صوفیاء کی عظیم اکثریت انہیں شیخ اکبر کے نام سے جانتی ہے۔ ان کی کتابیں فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ تصوف کی بہت اہم کتابیں ہیں۔ دوسری طرف اختلاف بھی اتنا شدید ہے کہ امام ابن تیمیہ نے ان کو ملحد و زندیق قرار دیا ہے، اور جو بھی شرعی گالی ہو سکتی تھی ان کو دی ہے۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں اگر شیخ اکبر کی کسی بات کی تائید کر رہا ہوں تو وہ ان کا صرف یہ نظریہ ہے، باقی میں نے نہ فصوص الحکم کا مطالعہ کیا۔نہ فتوحات مکیہ کا۔
[أم المسبحات يعنى سورة الحديد کی مختصر تشریح ص:88]
معلوم ہوا کہ جس طرح ابن عربی وحدت الوجود کا قائل تھا، ڈاکٹر اسرار احمد کا بھی بعینہ وہی عقیدہ ہے۔ [الحدیث، شمارہ نمبر:74 ص:50]
تنبيه: وحدت الوجود کا عقیدہ باطل ہے۔
دیکھئے:[میری کتاب علمی مقالات ج:2 ص:460تا472]
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد:
وحدة الوجود، وحدة الشہود یا توحید وجودی کے بارے میں مولانا عبد العزیز نورستانی رحمہ اللہ اور مولانا عبد السلام رستمی رحمہ اللہ کی تحریروں کا مفصل مطالعہ کیا۔ انہیں سلف صالحین اور محدثین کی فکر کے مطابق پایا۔ ہمیں لوگوں کو دعوت توحید کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام اور سلف کے منہج کو ہی اختیار کرنا چاہئے۔ اور یہ نئی نئی اصطلاحات جن میں تلبیس، تدلیس اور تعقیر ہو ان سے اجتناب کرنا چاہئے۔
والله تعالى هو الموافق للصواب
وصلى الله على نبينا محمد واله وصحبه وسلم
حافظ محمد شریف
الحمد لله والصلاة والسلام على من لا نبي بعده:
90 کی دھائی کی بات ہے ملتان کے کچھ سچ سلف صالحین سے وابستہ ہمارے دوست ڈاکٹر اسرار صاحب کی قرآنی، دینی اور تفسیری خدمات کی وجہ سے ان سے متاثر تھے اتفاقا ڈاکٹر صاحب ملتان تشریف لائے، مسلم گراونڈ میں خطبہ جمعہ پڑھایا بعد میں ہم نے بھی ان متاثرین کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی۔ میں نے بذات خود استفسار کیا کہ ،،عقیدہ وحدۃ الوجود،، کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمانے لگے یہ عقیدہ بڑے بڑے صوفیاء کا ہے اور صحیح ہے۔ اس موقع پر دلائل کے اعتبار سے کچھ بحث بھی ہوئی جسے ان کے حواریوں نے ان کی گستاخی سمجھا۔ لیکن اب وہ متاثرین الحمد للہ ان کی شخصیت کے سحر سے نکل کر صرف کتاب و سنت سے دامن وابستہ کئے ہوئے ہیں۔
اس عقیدہ کو وہ صحیح سمجھتے تھے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ حالانکہ اس عقیدہ کا باطل! اور کفریہ ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔ دلائل شرعیہ نقلیہ سے ہٹ کر بھی عقلی دلائل بکثرت موجود ہیں جن سے یہ نجس عقیدہ کفریہ قرار پاتا ہے۔ ایسے عقیدہ کے حامل شخص (جو بھی ہو) کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب حفظہ اللہ کو اللہ تعالی جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے احقاق حق اور اس کے اظہار کے لئے یہ محنت کی اور علمائے کرام کے فتاوی کو بھی جمع کیا ہے۔ اس مسئلہ کی با تفصیل وضاحت ،،التوحيد الخالص،، اور ،،فتاوی ابن تیمیہ،، میں موجود ہے۔
اخوكم في الدین: عبد الرحمن شاہین


