یتیم کی کفالت کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا وكافل اليتيم فى الجنة هكذا وأشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما
”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ اور ان دونوں کے درمیان کشادگی (فرق) پیدا کی۔
بخاری، کتاب الأدب 6005، ابو داؤد، کتاب الأدب 5150۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا وكافل اليتيم فى الجنة كهاتين له ولغيره
”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں (انگلیوں) کی طرح ہوں گے“۔
مسلم، کتاب الزہد والرقائق 2983۔
غصے پر قابو پانے کے متعلق احکامات
① سیدنا سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كظم غيظا وهو يستطيع أن ينفذه دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق حتى يخيره فى أى الحور شاء
”جو شخص اپنا غصہ نکالنے (اسے نافذ کرنے) کی قدرت رکھنے کے باوجود غصے پر قابو پا لے تو اللہ قیامت کے دن تمام مخلوق کی موجودگی میں اسے بلائے گا اور اسے اپنی پسند کی حور منتخب کرنے کا اختیار دے گا“۔
ابو داؤد، کتاب الأدب 4777، ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2021، روایت حسن ہے۔
لوگوں سے برائی دور کرنا
① سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون سے اعمال افضل ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الإيمان بالله، والجهاد فى سبيل الله
”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“۔
میں نے عرض کیا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنفسها عند أهلها وأكثرها ثمنا
”جو اپنے مالک کے ہاں انتہائی نفیس اور زیادہ قیمتی ہو“۔
میں نے عرض کیا: اگر میں نہ کر سکوں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعين صانعا أو تصنع لأخرق
”پھر کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی بے ہنر کو کوئی کام سکھا دو“۔
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے بتائیں کہ اگر میں کوئی عمل نہ کر سکوں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تكف شرك عن الناس فإنها صدقة منك على نفسك
”لوگوں کو اپنے شر اور تکلیف سے بچاؤ اس لیے کہ یہ تمہاری طرف سے اپنے اوپر ایک صدقہ کرنا ہے“۔
بخاری، کتاب العتق 2518، مسلم، کتاب الإیمان 136۔