دبر سے اجتناب
عورتوں سے جسمانی تعلق کے سلسلہ میں سورۃ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی :
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے مستقبل کا سامان کرو اور اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ تمہیں اس سے لازماً ملنا ہے اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو۔“
(سورہ البقرة : 223)
مذکورہ آیت کے سبب نزول اور اس کی حکمت پر علامہ ہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس طرح روشنی ڈالی ہے :
یہودیوں نے طریقہ مباشرت کے سلسلہ میں کسی آسمانی حکم کے بغیر خواہ مخواہ تنگی پیدا کر لی تھی اور انصار وغیرہ جو ان سے قریب رہتے تھے، ان ہی کے طریقہ کو اختیار کیے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس بات کے قائل تھے کہ جب آدمی پشت کی جانب سے مجامعت کرتا ہے تو اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ
بخاری كتاب التفسير سورة البقرة : باب نساؤكم حرث لكم ح : 4528 ، مسلم كتاب النكاح باب جواز جماعه امراته في قبلها ح : 1435
یعنی مجامعت اگلے حصہ ہی میں کی جائے خواہ اس کا طریقہ آگے کی جانب سے آنے کا ہو یا پیچھے کی جانب سے آنے کا۔ طریقہ مباشرت کا کوئی تعلق تمدنی یا ملی مصلحت سے نہیں ہے۔ رہی ذاتی مصلحت تو انسان اپنی مصلحت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس معاملہ میں یہودیوں کی تنگ نظری ان کی موشگافیوں کا نتیجہ تھی اس لیے اس کو رد ہی کیا جانا چاہیے تھا۔
حجة الله البالغة ج 2 ص : 136
دین نے اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ مباشرت کے طریقوں اور اس کی کیفیتوں کی تحدید کرے۔ اس کی نظر میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور یہ جان لے کہ اسے اللہ سے بہر حال ملنا ہے اور اس تصور کے پیش نظر وہ دبر سے اجتناب کرے کیونکہ وہ گندی جگہ ہے اور یہ فعلِ خبیث لواطت کے مشابہ ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ شریعت اسے ممنوع قرار دیتی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لا تأتوا النساء فى أدبارهن
”عورتوں کی دبر (سرین) میں صحبت نہ کرو۔“
مسند احمد : 213/5 ، ابن ماجه كتاب النكاح باب النهي عن اتيان النساء في ادبارهن ح : 1934
اور جو شخص عورت کے دبر میں صحبت کرتا ہے اس فعل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قومِ لوط کا عمل قرار دیا۔
هي النوطية الصغرى
”یہ بھی ایک قسم کی لواطت ہے۔“
مسند احمد : 210 ، 182/2
انصار کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پشت کی جانب سے اگلے حصہ میں مجامعت کرنے کا کیا حکم ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ تلاوت فرمائی۔
مسند احمد : 310 ، 305/6
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا :
يارسول الله أهلكت قال وما أهلكك؟ قال حولت رحلي البارحة فلم يرد عليه شيئا حتى نزلت الآية السابقة فقال له أقبل وأدبر واتق الحيضة والدبر
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں ہلاک ہو گیا۔ فرمایا : کیا بات ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، گزشتہ شب میں نے اپنی سواری کا رخ بدل دیا، یعنی پشت کی طرف سے مجامعت کر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آگے سے آؤ یا پیچھے سے مگر حیض کی حالت میں اور دُبر میں مجامعت کرنے سے اجتناب کرو۔“
مسند احمد : 297/1 ، ترمذی كتاب تفسير القرآن باب و من سورة البقرة ح : 2980
زن و شوئی کے رازوں کی حفاظت
قرآن نے نیک بیویوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے:
قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ
”نیک عورتیں (خاوند کی) فرمانبردار اور اللہ کی حفاظت کے تحت رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔“
(سورہ النساء : 34)
جن پوشیدہ باتوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے ان میں زوجین کے درمیان خصوصی تعلق رکھنے والی باتیں بھی شامل ہیں۔ ان راز دارانہ باتوں کا تذکرہ دوستوں اور سہیلیوں کی مجلسوں اور انجمنوں میں کرنا صحیح نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے :
إن من شر الناس منزلة عند الله يوم القيمة الرجل يفضى إلى المرأة وتفضى إليه ثم ينشر سرها
”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جو عورت سے اپنی حاجت پوری کر لیتا ہے اور بعد میں اس کے راز افشاء کرتا ہے۔“
مسلم كتاب النكاح باب تحريم افشاء سر المرأة ح : 1437
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور جب سلام پھیرا تو ہماری طرف رخ کر کے فرمایا : ”بیٹھے رہو اور سنو۔ کیا تم میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے تو دروازہ بند کر لیتا ہے اور پردہ ڈال دیتا ہے، پھر جب باہر نکلتا ہے تو لوگوں سے بیان کرتا پھرتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایسا اور ایسا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”کیا تم میں کوئی ایسی عورتیں ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتی ہوں؟ ایک عورت نے جو اپنے گھٹنوں کے بل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سننے کی کوشش کر رہی تھی نے کہا : اللہ کی قسم! مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
هل تدرون مامثل من فعل ذلك؟ إن مثل من فعل ذلك مثل شيطن وشيطانة لقى احدهما صاحبه بالسكة فقضى حاجته منها والناس ينظرون إليه
”جانتے ہو جو شخص ایسی باتیں کرتا ہے اس کی مثال کیسی ہے؟ اس کی مثال شیطان یا شیطانہ جیسی ہے جو اپنی بیوی سے سرِ راہ ملتا ہے اور اپنی حاجت پوری کرتا ہے آنحالیکہ لوگ یہ (تماشا) دیکھ رہے ہوتے ہیں۔“
مسند احمد : 2/540 – 541 ، ابو داود كتاب النكاح باب ما يكره من ذكر الرجل ح : 2174 و اسناده ضعيف
یہ مثال ایک مسلمان کے لیے اس لحاظ سے کافی ہے کہ وہ اس قسم کی حماقتوں سے متنفر ہو جائے کیونکہ یہ نہایت ذلیل حرکت ہے اور کوئی مسلمان شیطان یا شیطانہ بننا پسند نہیں کر سکتا۔