مساجد میں حاضری اور بیت المقدس جانے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب المساجد

مسجدوں میں بار بار آنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم الرجل يعتاد المسجد فاشهدوا له بالإيمان، فإن الله عز وجل يقول: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾
”جب تم کسی شخص کو بار بار مسجد میں آتا ہوا دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اللہ کی مساجد کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔“(التوبة:18)
ترمذی، کتاب التفسير، حديث 3093۔ سنن ابن ماجه، كتاب المساجد، حدیث 802۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں رشدین بن سعد ضعیف ہے۔ دیکھئے التقريب 1942۔

بیت المقدس آنے کے متعلق احکامات

① رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بیت المقدس کے بارے میں ہمیں بتائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ائتوه وصلوا فيه
”وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو۔“
اگر اس شہر میں لڑائی ہو:
فإن لم تأتوه فابعثوا بزيت يسرج فى قناديله
”اگر تم وہاں نہ جا سکو تو تیل بھیج دو تاکہ اس کی قندیلیں روشن کی جا سکیں۔“
ابوداؤد، كتاب الصلوة، حديث 457۔ اس کی سند حسن ہے ۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
أن سليمان بن داود لما بنى بيت المقدس سأل الله عز وجل خلالا ثلاثة: سأل الله عز وجل حكما يصادف حكمه فأوتيه، وسأل الله عز وجل ملكا لا ينبغي لأحد من بعده فأوتيه، وسأل الله عز وجل حين فرغ من بناء المسجد لا يأتيه أحد لا ينهزه إلا الصلاة فيه أن يخرجه من خطيئته كيوم ولدته أمه
”سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر کی تو انہوں نے اللہ عزوجل سے تین چیزوں کی درخواست کی۔ ① ایسا فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی درخواست کی جو اس کے حکم کے موافق ہو تو وہ انہیں دے دی گئی۔ ② انہوں نے اللہ عزوجل سے ایسی بادشاہت کا سوال کیا کہ ان کے بعد ایسی بادشاہت کسی کو نہ دی جائے، تو وہ بھی انہیں عطا کر دی گئی۔ ③ اور وہ جس وقت مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ عزوجل سے درخواست کی کہ جو شخص یہاں نماز پڑھنے کے لیے آئے تو وہ گناہوں سے اپنی پیدائش کے پہلے دن کی طرح پاک ہو جائے۔“
النسائي، كتاب المساجد، باب فضل المسجد الاقصى والصلوة فيه، 694۔ اس کی سند صحیح ہے ۔