اللہ کی رضا کے بغیر علم حاصل کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اللہ کی رضا کے بغیر علم حاصل کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تعلم علما مما يبتغىٰ به وجه الله لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا لم يجد عرف الجنة يوم القيامة
”جس شخص نے ایسا علم، دنیا کا مال و متاع حاصل کرنے کے لیے حاصل کیا، جس کے ذریعے اللہ کی رضا طلب نہ کی جائے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“
(ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3664. ابن ماجه، المقدمة، حدیث: 252. مسند احمد، باقی مسند المکثرین: 50/2)
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تعلم علما لغير الله أو أراد به غير الله فليتبوأ مقعده فى النار
”جو شخص اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور غرض کے لیے علم حاصل کرے یا اس کے ذریعے اللہ کی رضا کے سوا کسی اور چیز کا ارادہ کرے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2655)
③ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من طلب العلم ليجاري به العلماء، أو يماري به السفهاء، ويصرف وجوه الناس إليه، أدخله الله النار
”جو شخص علماء سے مناظرہ کرنے یا نادان لوگوں پر اپنی برتری ظاہر کرنے اور اپنی طرف ان کی توجہ مبذول کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔“
(ترمذی، العلم، حدیث: 2654)