اللہ سے خوف اور امید (بیک وقت) رکھنے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ سے خوف اور امید (بیک وقت) رکھنے کا ثواب

ایمان خوف اور اُمید کے درمیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب و عقاب سے ڈرا جائے اور اس کی جنت کا طمع رکھا جائے۔ مؤمن کتنے ہی نیک اعمال کرتا ہو لیکن ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ شاید میری نیکیاں بارگاہ الہی میں قبول نہ ہوئی ہوں اور شاید میرا خاتمہ برا ہو جائے۔
ابوعثمان نے کہا کہ گناہ کرتے جانا اور پھر نجات کی امید رکھنا بدبختی کی نشانی ہے۔
علماء نے کہا ہے کہ حالت صحت میں اپنے دل پر خوف غالب رکھے اور مرتے وقت اس کے رحم وکرم کی اُمید زیادہ رکھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح ”كتاب الرقاق“ میں باب قائم کرتے ہیں ”باب الرجاء مع الخوف“ اللہ کے خوف کے ساتھ (رحمت کی) اُمید رکھنے کا باب۔
بہر کیف اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾
”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں یعنی تہجد پڑھتے ہیں اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کے عذاب سے ڈرنے سے اور اس کی جنت کی اُمید میں پکارتے ہیں۔“
(32-السجدة:16)
اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہونا کفار کا شیوہ ہے یہی وجہ ہے کہ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے جب اپنے بیٹوں سے کہا کہ وہ مصر جائیں اور سیدنا یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی بنیامین کے بارے میں پتہ لگائیں تو ساتھ یہ بھی درس دیا کہ اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہوں اس لیے کہ اس کی رحمت سے صرف کافر لوگ نا اُمید ہوتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
﴿يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ﴾
”اے میرے بیٹو! تم جاؤ یوسف کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ یقیناً رب کی رحمت سے نا امید صرف کافر لوگ ہوتے ہیں۔“
(12-يوسف:87)
جو لوگ شرک قتل اور رسول ہاشمی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی جیسے گناہوں کے مرتکب ہو چکے تھے اور اسلام کا ارادہ رکھتے تھے لیکن انہیں خوف تھا کہ شاید ان کے گناہ معاف نہیں کیے جائیں گے۔ اللہ عز و جل جو کہ رحیم و غفور ہے نے اپنے رسول کو حکم صادر فرمایا کہ انہیں اور اللہ کے تمام بندوں کو اس کی وسیع رحمت اور عظیم مغفرت کی خوش خبری دے دیں کہ انہیں اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہیں ہونا چاہیے وہ تو اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اس لیے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور بے حد مہربان ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے:
﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾
”(اے میرے نبی!) میری جانب سے کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر( گناہوں کا ارتکاب کر کے) زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔“
(39-الزمر:53)
” علامہ شوکانی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت قرآنِ کریم کی سب سے زیادہ اُمید بھری آیت ہے۔ اس میں اللہ نے بندوں کی نسبت اپنی طرف کی ہے اور پھر انہیں گناہوں کے ارتکاب میں حد سے متجاوز ہونے کی صورت میں اپنی رحمت سے نا اُمید ہونے سے منع فرمایا ہے ، اور یہ کہہ کر مزید کرم فرمایا کہ وہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ “
تفسير فتح القدير : 565/2
”حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ آیت کریمہ کا فرومؤمن تمام گناہ گاروں کو توبہ کی دعوت دیتی ہے، اور خبر دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔ “
تفسير ابن كثير : 493/1
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے:
”قال الله تعالى: يا ابن آدم إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان فيك ولا أبالي يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي يا ابن آدم إنك لو أتيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة.“
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے انسان! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے (اچھی) امید رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا چاہے تیرے عمل کیسے ہی ہوں اور میں پرواہ نہیں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور پرواہ نہیں کروں گا۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہوں کے ساتھ آئے اور تو مجھے اس حال میں ملے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں تیرے پاس زمین بھر بخشش لے کر آؤں گا۔“
سنن الترمذی، کتاب الدعوات، رقم: 3540ـ سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم: 128،127
اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھو اس کی رحمت و بخشش سے پر امید رہو چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن قبل آپ کو فرماتے ہوئے سنا:
”لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله عز وجل.“
”تم میں سے کسی شخص کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ عز وجل کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔“
صحیح مسلم، كتاب الجنة باب الأمر بحسن الظن بالله تعالى عند الموت، رقم: 7231
انسان کو چاہیے کہ ہر وقت نیک عمل کرے کیونکہ موت کا کوئی علم نہیں کس وقت آجائے جبکہ موت کے وقت انسان کو اللہ کے ساتھ عفو و رحمت کی امید رکھنی چاہیے جو کہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر ناممکن ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾
”تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“
(3-آل عمران:102)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع بجنته أحد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من رحمته أحد.“
”اگر مؤمن کو اُس سزا اور عذاب کا علم ہو جائے جو اللہ کے ہاں نافرمانوں کے لیے ہے تو اُس کی جنت کی کوئی امید نہ کرے۔ اور اگر کافر اللہ کی رحمت جان لے جو اللہ کے پاس ہے تو اس کی جنت سے کوئی بھی نا اُمید نہ ہو۔“
صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب في سعة رحمة الله تعالى وأنها تغلب غضبه، رقم: 6979
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا:
لو يعلم الكافر بكل الذى عند الله من الرحمة لم ييأس من الجنة ، ولو يعلم المؤمن بكل الذى عند الله من العذاب لم يامن من النار
”اگر کافر کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر وسیع ہے تو وہ جنت سے کبھی مایوس نہ ہو۔ اور اگر مؤمن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا کیا عذاب ہیں تو وہ کبھی جہنم سے بے خوف نہ ہو۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف، رقم: 6469
ان احادیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا بھی بیان ہے، تا کہ انسان اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ اور اس کی وسعت رحمت کا بھی بیان ہے، تا کہ انسان اس کی مغفرت اور رحمت کی امیدیں رکھے۔ یہ رحمت ان ہی لوگوں پر ہو گی جو اس کے اطاعت گزار ہوں گے، اور عذاب کے مستحق وہ ہوں گے جو اس کے نافرمان ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن فى الضرع
”وہ شخص جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا جو اللہ کے ڈر سے رو دیا۔ یہاں تک کہ دودھ دوبارہ تھنوں میں لوٹ آئے۔“
سنن ترمذی، باب ما جاء في فضل العنباء في سبيل الله، رقم: 1633۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔ المشكاة، رقم: 3828۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان النبى صلى الله عليه وسلم دخل على شات ، وهو فى الموت ، فقال: كيف تجدك؟ قال: والله يا رسول الله انى ارجوا الله وإنى أخاف ذنوبي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يجتمعان فى قلب عبد فى مثل هذا الموطن ، إلا أعطاه الله ما يرجوا و آمنه مما يخاف
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قریب المرگ نوجوان کے پاس تشریف لے گئے، اور پوچھا: ”تم کیا محسوس کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ڈرتا بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے پر امید بھی ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس موقع پر جب کسی کے دل میں خوف اور امید جمع ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ حسب امید فضل و کرم کرتا ہے اور حسب خوف محفوظ و مامون رکھتا ہے۔“
سنن ترمذی، کتاب الجنائز، رقم: 983۔ سنن ابن ماجه، کتاب الزهد، باب ذکر الموت والاستعداد له، رقم: 4261۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
؎ اے آندھیں سنبھل کے چلو اس دیار میں
امید کے چراغ جلائے ہوئے ہیں ہم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تین کام نجات دینے والے ہیں:
● خفیہ اور اعلانیہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔
●فقیری اور امیری میں میانہ روی اختیار کرنا۔
●غضب اور رضا میں عدل و انصاف سے کام لینا۔
صحیح الجامع الصغير رقم: 3039۔ السلسلة الصحيحة، رقم: 1802۔