مختار ثقفی: دعوائے نبوت، کذب اور ائمۂ اسلام کی گواہیاں

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
مضمون کے اہم نکات

مختار ثقفی

مختار بن ابی عبید ثقفی ہجرت کے سال پیدا ہوا، اس کی زندگی کے مختلف ادوار ہیں۔ آخر میں اس نے دعویٰ نبوت کر دیا تھا، یہ رافضی تھا۔ اسلام اور اہل اسلام کا دشمن تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ”کذاب“ کہا۔ صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین نے اس فرمانِ نبوی کو ہاتھوں ہاتھ لیا، اس رافضی اور متنبی کو بالاجماع کذاب قرار دیا۔

یہ کہنا کہ مختار ثقفی نے قاتلینِ حسین سے بدلہ لیا تھا، بے ثبوت بات ہے، اس پر کوئی دلیل نہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

[إن في ثقيف كذابا ومبيرا]
ثقیف میں ایک کذاب اور ایک مبیر ہوگا۔
[صحیح مسلم: 2545]

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اس کذاب سے مراد مختار ثقفی لیا ہے۔

[صحیح مسلم: 2545]

حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:

[اتفق العلماء علىٰ أن المراد بالكذاب هنا المختار بن أبي عبيد، وبالمبير الحجاج بن يوسف، والله أعلم]

اہل علم کا اجماع ہے کہ اس حدیث میں کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور مبیر سے مراد حجاج بن یوسف ہے، واللہ اعلم!

[شرح النووي: 100/16]

اسود بن یزید رحمہ اللہ (75ھ) نے مختار ثقفی کو ’’کذاب‘‘ کہا ہے۔

[طبقات ابن سعد: 95/6، وسنده صحيح]

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

[القرآن ما منه حرف أو قال: آية، شك عمرو، إلا وقد عمل به قوم أو قال: بها قوم، أو سيعملون بها قال مرة: فقرأت ﴿وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ وَّ مَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ﴾ (الأنعام: 93)، فقلت: من عمل بهٰذه حتىٰ كان المختار بن أبي عبيد]
قرآن کا کوئی حرف یا آیت نہیں (راوی عمرو بن مرہ کو شک ہے۔) مگر اس پر لوگوں نے عمل کیا ہے یا عنقریب عمل کریں گے۔ مرہ ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں یہ آیت پڑھا کرتا تھا: ﴿وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ وَّ مَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ﴾ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ میرے طرف وحی ہوتی ہے، جبکہ اس کی طرف وحی نہیں ہوتی ہو اور جو کہے کہ عنقریب (اس پر بھی) ایسی ہی کتاب نازل ہوگی، جو اللہ تعالیٰ نے (نبی کریم ﷺ پر) نازل کی ہے۔(الأنعام: 93) میں (مرہ رحمہ اللہ) سوچتا تھا کہ اس پر کون عمل کرے گا؟ یہاں تک مختار بن ابی عبید ثقفی نے عمل کر دیا۔

[دلائل النبوة للبيهقي: 484/6، وسنده صحيح]

رفاعہ فتیانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[دخلت على المختار ذات يوم فقال: يا جارية هات لرفاعة نمرقة، قال: قلت: أليس هٰذه نمارق؟ قال: فقال: إنما قام جبريل عليه السلام عن هٰذه وميكائيل عن هٰذه]
میں مختار ثقفی کے پاس گیا، تو اس نے کہا: اے بچی! رفاعہ کے لیے غالیچہ (چھوٹا قالین) لاؤ۔ میں نے کہا: یہ غالیچے پڑے تو ہیں؟ اس نے کہا: اس غالیچے پر جبريل علیہ السلام اور اس پر میکائیل علیہ السلام کھڑے ہیں۔
[المعرفة والتاريخ للفسوي: 193/3، وسنده حسن]

خالد بن سمیر تابعی رحمہ اللہ نے مختار کو ’’کذاب‘‘ کہا ہے۔

[طبقات ابن سعد: 162/5، وسنده حسن]

امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ (بعد 100ھ) فرماتے ہیں:

[إن علي بن حسين قام علىٰ باب الكعبة فلعن المختار فقال له رجل: جعلني الله فداك تلعنه وإنما ذبح فيكم؟ فقال: إنه كان كذابا يكذب على الله وعلىٰ رسوله]
(ایک بار وقار گرامی) علی بن حسین (زین العابدین) رحمہ اللہ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور مختار ثقفی پر لعنت کی۔ ایک شخص کہنے لگا: اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ اس پر لعنت کرتے ہیں، جبکہ وہ آپ لوگوں کی خاطر قتل کیا گیا؟ تو زین العابدین رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ جھوٹا تھا، اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتا تھا۔
[طبقات ابن سعد: 213/5، وسنده صحيح]

ثقہ تابعی عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ (130ھ) فرماتے ہیں:

[كان المختار يقول الوحي]
مختار خود پر وحی کے نزول کا دعویٰ کرتا تھا۔
[مسند الإمام أحمد:1909، وسنده صحيح]

❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے متنبی (نبوٹ کا جھوٹا دعویدار) کہا ہے۔
[الثقات: 386/4]

امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ (276ھ) فرماتے ہیں:

[إن المختار ابن أبي عبيد، ادعى النبوة لنفسه]
مختار بن ابی عبید نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
[تاویل مختلف الحدیث: ص125]

امام عبد القاہر بغدادی رحمہ اللہ (429ھ) فرماتے ہیں:

[زعم أن الوحي ينزل عليه]

مختار ثقفی کا دعویٰ تھا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔

[الفرق بين الفرق: ص34]

امام بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:

[قد شهد جماعة من أكابر التابعين على المختار بن أبي عبيد بما كان يستبطن، وأخبر بعضهم بأنه من جملة الكذابين الذين أخبر النبي صلى الله عليه وسلم بخروجهم بعده]
اکابر تابعین کی ایک بڑی جماعت نے مختار بن ابی عبید کے بارے میں گواہی دی ہے کہ وہ باطن میں کفر محض رکھتا تھا، بعض تابعین نے یہ بھی بتایا ہے کہ مختار ثقفی من جملہ ان جھوٹوں میں سے تھا، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے خبر دی تھی کہ وہ آپ ﷺ کے بعد پیدا ہوں گے۔
[دلائل النبوة: 482/6]

علامہ ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہرستانی رحمہ اللہ (548ھ) فرماتے ہیں:

[إنما صار المختار إلى اختيار القول بالبداء، لأنه كان يدعي علم ما يحدث من الأحوال إما بوحي يوحىٰ إليه، وإما برسالة من قبل الإمام، فكان إذا وعد أصحابه بكون شيء وحدوث حادثة؛ فإن وافق كونه قوله، جعله دليلا علىٰ صدق دعواه، وإن لم يوافق قال: قد بدا لربكم]

مختار نے بداء کا نظریہ اپنایا، کیونکہ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں ایسا علم جانتا ہوں، جو لوگوں کے حالات بتاتا ہے۔ یا تو وہ وحی کی بنا پر یا پیغامِ امام کی بنا پر، تو جب مختار اپنے ساتھیوں سے کسی کام کے ہونے یا کسی حادثہ کے پیش آنے کا وعدہ کرتا، اگر تو وہ کام ہو جاتا، تو اسے اپنے دعویٰ کی صداقت کی دلیل بنا لیتا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کہتا کہ تمہارے رب کو بداء ہو گیا ہے۔

[الملل والنحل: 149/1]

شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[إن المختار كذاب ادعى النبوة]
مختار کذاب ہے، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔
[منہاج السنۃ: 329/4]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:

[المختار بن أبي عبيد الثقفي الكذاب، لا ينبغي أن يروىٰ عنه شيء؛ لأنه ضال مضل كان يزعم أن جبرائيل عليه السلام ينزل عليه، وهو شر من الحجاج أو مثله]
مختار بن ابی عبید ثقفی کذاب تھا، اس سے کوئی بات روایت کرنا درست نہیں، کیونکہ وہ گمراہ اور گمراہ گر تھا، اس کا دعویٰ تھا کہ اس پر جبریل نازل ہوتے ہیں، مختار ثقفی، حجاج بن یوسف سے زیادہ برا ہے یا اس کی مثل ہے۔
[میزان الاعتدال: 80/4]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:

[قد تواتر خبر المختار بن أبي عبيد الكذاب الذي كان نائبا على العراق وكان يزعم أنه نبي، وأن جبريل كان يأتيه بالوحي]
مختار بن ابی عبید کے متعلق متواتر روایات منقول ہیں، یہ کذاب تھا، عراق کا گورنر تھا، اس کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی ہے، نیز سیدنا جبریل علیہ السلام اس پر وحی لے کر آتے ہیں۔

[البداية والنهاية: 252/9]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:

[قد شهد عليه بدعوى النبوة والكذب الصريح جماعة من أهل البيت]
اہلِ بیت کی ایک جماعت نے مختار ثقفی کے نبوت کا دعویٰ کرنے اور صریح جھوٹ بولنے پر گواہی دی ہے۔

[الإصابة في تمييز الصحابة: 276/6]

تنبیہ:

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[إن بين يدي الساعة كذابين فاحذروهم]
قیامت سے قبل کذاب لوگ آئیں گے، ان سے بچ کر رہنا۔

[صحیح مسلم: 1822]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[لا تقوم الساعة حتىٰ يبعث دجالون كذابون، قريبا من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله]

جب تک تیس بڑے دجال اور کذاب نبوت کا دعویٰ نہیں کریں گے، قیامت قائم نہیں ہوگی۔
[صحیح البخاری: 3609]

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

[إن بين يدي الساعة كذابين]
قیامت سے پہلے کذاب آئیں گے۔
[مسند البزار (کشف الأستار): 3374، وسنده حسن]

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[إنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون، كلهم يزعم أنه نبي، وأنا خاتم النبيين، لا نبي بعدي]
میری امت میں تیس بڑے کذاب پیدا ہوں گے اور وہ سب نبوت کا دعویٰ کریں گے، لیکن میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
[مسند الإمام أحمد:22395، سنن أبي داؤد: 4252، سنن الترمذي: 2219، سنن ابن ماجه: 3952، المستدرك للحاكم:9/147-148 الرقم8595، وسنده صحيح، وأصله في مسلم: 1920، 2889]

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔علامہ جوزقانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”صحیح“ کہا ہے۔ [الأباطيل والمناكير: 262/1]

مختار بن ابی عبید ثقفی ان تمام احادیث کا مصداق ٹھہرا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے کذاب اس لیے قرار دیا کہ یہ دعویٰ نبوت کرے گا۔ اسی طرح دیگر جھوٹے نبوت کے دعویداروں کو نبی کریم ﷺ نے کذاب قرار دیا۔ اس سب کے باوجود روافض کے یہاں یہ ممدوح ہے، روافض اسے سراہتے ہیں۔ اس کے متعلق اہل اسلام کی تمام آراء کو یکسر رد کر دیتے ہیں اور اس کی شان میں رطب اللسان ہیں۔ اس کا دفاع کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

شیعہ عالم ملا باقر مجلسی (1111ھ) نے لکھا ہے:

[قد أسلفنا من أقوال الأئمة في مطاوي الكتاب تكرار مدحهم له ونهيهم عن ذمه، ما فيه غنية لذوي الأبصار، وبغية لذوي الاعتبار، وإنما أعداؤه عملوا له مثالب ليباعدوه من قلوب الشيعة]
کتاب کے گزشتہ صفحات میں ہم نے ائمہ کے اقوال ذکر کر دیے ہیں، جن میں انہوں نے تکرار کے ساتھ مختار ثقفی کی مدح سرائی کی ہے اور اس کی مذمت کرنے سے منع کیا ہے، اہل بصیرت کے لیے یہ اقوال کافی ہیں اور عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامانِ عبرت ہیں۔ مختار کے دشمنوں نے اس کے مثالب (مذمت پر مبنی دلائل) وضع کر لیے، تاکہ مختار کو شیعہ کے دلوں سے نکال دیں۔

[بِحار الأنوار: 387/45]

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اہل حق کے گروہ میں شامل فرمائے اور ہمارا حشر اپنے صالحین بندوں میں کرے، آمین!