قربانی میں حصے داران کے لئے عقیدے کی شرط
سوال :
کیا گائے یا اونٹ کی قربانی میں حصہ دار سب کے سب عقیدہ کی بنیاد پر اہل توحید ہونے ضروری ہیں یا دوسرے فرقوں (بریلوی، دیوبندی) کے ساتھ مل کر قربانی کی جا سکتی ہے؟ (ظفر عالم ، لاہور)
جواب :
اگر ذبح کرنے والا صحیح العقیدہ مسلم ہے تو گائے کے سات حصوں میں سے جس حصے کا مالک صحیح العقیدہ ہے تو وہ حصہ صحیح اور مقبول ہے اور اگر ان حصہ داروں میں سے کوئی بدعقیدہ مثلاً دیوبندی یا بریلوی بھی شریک ہو گیا ہے تو باقی حصہ داروں کی قربانی تو ہو جائے گی تاہم افضل یہی ہے کہ تمام حصے داران صحیح العقیدہ مسلمانوں میں سے ہی تلاش کئے جائیں۔ آیت: ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ﴾ کے عموم کا یہی مفہوم ہے کہ صحیح العقیدہ کی قربانی مقبول اور بد عقیدہ کی مردود ہے۔
فقہ حنفی کا ایک جزئیہ ہے کہ اگر سات حصے داروں میں سے ایک بھی نصرانی یا ایسا شخص ہو جس کا مقصد صرف گوشت خوری ہو ، شریک ہو جائے تو تمام حصہ داروں کی قربانی نہیں ہوتی۔ دیکھئے البدایہ ( ج 2 ص 449)
جب کہ شوافع اس جزئیہ کے خلاف ہیں۔ دیکھئے الفقه الاسلامی وادلتہ ( ج 3 ص 205)
حنفیہ کا یہ موقف بلا دلیل ہے۔
(شہادت، اگست 2001ء)
فتاوی علمیه 183/2]