آلاتِ موسیقی اور دف
جناب غامدی صاحب نے آلاتِ موسیقی کے جواز کے لئے نکاح کے موقعے پر لونڈیوں کے دف بجانے سے استدلال کیا ہے۔ ہم نے اس حوالے سے عرض کیا تھا کہ ،دف، آلہ موسیقی نہیں بلکہ وہی دف آلہ موسیقی ہے جس کے ساتھ گھنگرو بندھے ہوئے ہوں۔ یعنی ٹھپ، ٹھپ کی آواز ہی نہ ہو چھن چھن کی آوازیں بھی اس میں شامل ہوں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے وضاحت سے لکھا ہے کہ دف: [يقال له أيضاً الكربال وهو الذى لا جلا جل فيه] کربال (چھلنی) بھی کہا جاتا ہے (جس سے آٹا چھانا جاتا ہے) جس کے ساتھ گھنگرو بندھے ہوئے نہ ہوں۔ (فتح الباری: ص440 ج2)
اس وضاحت کے باوجود شادی پر بجائی گئی دف کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ آلہ موسیقی ہی ہے محض خود فریبی ہے، ہمیں یہ پڑھ کر بھی افسوس ہوا کہ ’اہل الاعتصام دف کو زمرہ آلاتِ موسیقی میں شامل سمجھتے ہیں اور اس کے جواز کو تسلیم کرتے ہیں،(اشراق:ص49) ہم ان کے اس فیصلہ کو ان کی سادہ لوحی سمجھیں یا روایتی ہوشیاری قرار دیں کہ الاعتصام دف کو زمرہ آلاتِ موسیقی میں شامل سمجھتے ہیں،جب کہ ہم نے دف کیا ہے؟ کے جلی عنوان سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی عبارت ذکر کی جسے ابھی ہم نقل کر آئے ہیں۔ اس کے بعد بھی علی الاطلاق دف کو آلاتِ موسیقی میں شمار کرنے کا ہماری طرف انتساب خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟
چلیے بالفرض ہم تسلیم کرتے ہیں کہ دف علی الاطلاق آلہ موسیقی ہے۔ لیکن دف سے تمام آلاتِ موسیقی کا جواز کہاں سے نکل آیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان مواقع پر دف کا ہی ذکر ہے باقی آلات کا کیوں نہیں؟ جب اہل اشراق آلاتِ موسیقی کے جواز کا فتویٰ صادر فرما رہے ہیں تو دلیل میں بھی شادی بیاہ یا عید کے موقع پر ان آلاتِ موسیقی کا ثبوت چاہیے، مگر وہ یہ تو کر نہیں سکے اور نہ آئندہ ہی ان شاء اللہ کر سکیں گے، [ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا] البتہ اپنے قارئین کو مطمئن کرنے کے لئے اب فرماتے ہیں: اہل الاعتصام دف کو آلاتِ موسیقی میں شامل سمجھتے ہیں تاہم وہ اسے ایک استثنائی معاملہ قرار دیتے ہوئے دیگر آلاتِ موسیقی کے عدمِ جواز کا حکم لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اہل الاعتصام موسیقی کو حرام لذاتہ سمجھتے ہیں یا حرام لغیرہ؟ اگر ان کے نزدیک حرام لذاتہ ہے تو پھر ان میں سے کسی ایک کا استثنا کس دلیل کی بنا پر ہے؟ (اشراق: ص 49-50)
دف، آلاتِ موسیقی میں سے ہے یا نہیں اس کی وضاحت کے بعد عرض ہے کہ گھنگرو بندھی ہوئی دف آلاتِ موسیقی میں سے ہے اور تمام آلاتِ موسیقی لھو ہونے کے ناطے مطلقاً حرام ہیں۔ یہ صرف اہل الاعتصام کا فیصلہ نہیں بلکہ اہل اشراق تسلیم کرتے ہیں کہ ”فقہ کے چاروں مکاتبِ فکر کا اس بات پر اتفاق ہے موسیقی اور آلاتِ موسیقی مطلق طور پر حرام ہیں۔ (اشراق: ص48 مارچ2004ء)
رہا یہ سوال کہ اگر آلاتِ موسیقی حرام لذاتہ ہیں تو پھر ان میں سے کسی ایک کا استثنا کس دلیل کی بنا پر ہے؟ محترم! اس کی دلیل نکاح کے موقع پر دف کا بجایا جانا، یا دف بجانے کا حکم دینا یہ قولی اور تقریری احادیث حرمت کے عام حکم سے دف کو خارج کرتی ہیں۔ اہل اشراق اسے تسلیم کریں یا نہ کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک عام حکم سے بعض جزئیات دلیل کی بنا پر خارج ہوتی ہیں، موسیقی کے جواز میں اہل اشراق کے ہمنوا حافظ ابن حزم کو ہی دیکھ لیتے تو اس بے ڈھنگے سوال کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔ چنانچہ موصوف تصویر کے بارے میں لکھتے ہیں:
[وجائز للصبايا خاصة اللعب بالصور ولا يحل لغيرهن والصور محرمة إلا هذا..الخ] تصویروں سے کھیلنا بچوں کے لئے جائز ہے ان کے علاوہ کسی کے لیے حلال نہیں، تصویر حرام ہے مگر بس اسی قدر۔ (المحلى: رقم:1914)
غور فرمایا آپ نے کہ تصویروں کو حرام قرار دینے کے باوجود بچوں کے کھیل کے طور پر اسے صرف بچوں کے لئے حلال قرار دیا گیا ہے جن دلائل سے انھوں نے بچوں کو مستثنیٰ قرار دیا اس کی تفصیل تو المحلی میں دیکھی جا سکتی ہے، بالکل اسی طرح آلاتِ موسیقی حرام ہونےکے باوجود دف عید اور شادی کے موقع پر بچوں اور لونڈیوں کے لئے احادیث کی بنا پر جائز ہے۔ اس کے علاوہ اس کا حکم اپنی اصل حرمت پر ہی رہے گا۔ ریشم حرام ہے مگر عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں اور مردوں کے لئے بیماری کی صورت میں یا دو انگلیوں کے برابر اجازت ہے۔ یہی نوعیت سونے کے حرام ہونے میں ہے جیسا کہ پہلے ہم عرض کر چکے ہیں۔ اس پر بقدرِ ضرورت آئندہ بھی بات اپنے محل پر آ رہی ہے۔
اسی طرح آلاتِ موسیقی کو حرام قرار دیا گیا مگر عید اور شادی کے موقع پر صرف دف کی اجازت دی، جس سرکار نے حرام ٹھہرایا جزوی طور پر اسی نے دف کو جائز قرار دیا، اہل اشراق کے اپنے اصول ہیں اس لیے وہ ان حقیقتوں کو تسلیم نہیں کرتے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔
اہل اشراق کا دوسرا سوال
فرمایا گیا: کہ اہل الاعتصام نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ :امام الحلیمی فرماتے ہیں: کہ دف بجانا صرف عورتوں کے لئے حلال ہے کیوں کہ یہ انھی کا عمل ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ پس دف یا گانے کا یہ شغل صرف لونڈیوں اور بچیوں کے لئے ہے، آزاد عورتوں اور مردوں کے لئے نہیں۔ ہماری اس بات پر اہل اشراق کی تلخی دیدنی ہے فرماتے ہیں:
یہ تنقید غالباً بہت عجلت میں لکھی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے قلم سے باہم متضاد باتیں صادر ہو گئی ہیں۔ بنائے استدلال امام الحلیمی کے کلام سے یہ ہے کہ عورتوں کے لئے دف بجانا جائز ہے اور نتیجہ استدلال ہے کہ عورتوں کے لئے دف بجانا ناجائز ہے، یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے۔ (اشراق:ص50-51)
راقم نے بحمد اللہ جو کچھ لکھا سوچ سمجھ کر لکھا، امام حلیمی ہوں یا علامہ ابن قدامہ ان کی عبارتوں میں گو لفظ [النساء] کا آیا مگر عرض کیا کہ مراد اس سے آزاد عورتیں نہیں بلکہ لونڈیاں اور غلام عورتیں مراد ہیں۔ کیوں کہ صحیح احادیث میں اس شغل کے حوالے سے انہی کا ذکر ہے، آزاد عورتوں کا نہیں، یہ تو اہل اشراق کا فریضہ تھا کہ عید یا شادی کے موقع پر دف بجانے کے حوالے سے آزاد عورتوں یا مردوں کا بھی ذکر کرتے، مگر وہ یہ تو نہ کر پائے، الٹا ہماری بات کو عجلت کا نتیجہ قرار دے کر طفل تسلی سے کام لے لیا۔
پھر یہ بھی دیکھیے کہ خود اہل اشراق کہہ آئے ہیں کہ ’عرب میں گانے یا غنا کا پیشہ بالعموم لونڈیوں ہی سے وابستہ تھا۔ وہ تہواروں کے موقع پر اور خوشی کی تقریبات میں اس کا مظاہرہ کرتی تھی، آزاد عورتیں اور لڑکیاں اس فن کو سیکھتی تھیں اور نہ اس کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ (اشراق:ص32)
انصاف شرط ہے یہی بات راقم اثیم کہے تو عجلت کا نتیجہ قرار پائے۔ خود اہل اشراق یہی بات کہیں تو تحقیق کا شاہکار ٹھہرے۔
تیری زلف میں ٹھہری تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی
جب آزاد عورتیں نہ دف وغیرہ بجانا اور گانا گانا سیکھتی تھیں اور نہ اس کا مظاہرہ ہی کرتی تھیں تو اب [النساء] کا مفہوم غلام عورتیں نہ لیا جائے تو اور کیا لیا جائے؟
قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ اہل اشراق نے ”شادی بیاہ پر موسیقی“ کے عنوان پر حدیث [من يغنی] کا ترجمہ اور استدلال ہی یہ کیا کہ کوئی ،،گانے والا بھیجا ہے،، حالاں کہ یہ ترجمہ واستدلال دوسری روایت کے مخالف ہے جس میں [جاریہ] بھیجنے کا ذکر ہے۔ مگر ہم نے ترجمہ میں النساء کا ترجمہ عورتیں کیا اور استدلال میں وضاحت کر دی کہ مراد غلام عورتیں ہیں آزاد عورتیں مراد نہیں۔ اور یہ وضاحت بھی صحیح احادیث کی بنا پر کہ ان میں جاریہ یا جواری کے الفاظ ہیں النساء کے نہیں۔ بتلائے عجلت کا مظاہرہ کون کر رہا ہے؟
ہم اہل اشراق کی سخن سازی اور طول بیانی کے معترف ہیں۔ سابقہ بحث کو مختلف الفاظ میں جس طرح انھوں نے دہرایا، اس کا اصولی جواب ہم عرض کر چکے اس لیے مزید تفصیل کی ضرورت نہیں۔ البتہ ان کا یہ سوال کہ ان روایتوں سے اس آلۂ موسیقی کو بلا استثنائے جنس، مردوں، عورتوں اور بچوں نے سنا، چناں چہ اگر سماعِ دف مباح ہے تو اسی نوعیت کے دوسرے آلاتِ موسیقی کا سماع کیوں مباح نہیں۔ (اشراق:ص51)
مگر ان کا یہ سوال بھی عدمِ تدبر کا نتیجہ ہے۔ دف، آلۂ موسیقی کب ہے؟ اس بارے میں ہم پہلے وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ اسی صورت میں آلۂ موسیقی ہے جب اس سے گھنگرو بندھے ہوئے ہوں۔ ثانیاً اسے مطلقا آلۂ موسیقی سمجھا جائے تو عید یا شادی پر اس کے بجانے کی ہی نہیں، سننے کی بھی اجازت اس کو شامل ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ عید اور شادی کے موقع پر دف کی اجازت تو دے دی گئی اس کے علاوہ آلاتِ موسیقی میں کوئی بھی آلہ نہ بجایا گیا نہ ہی اس کی اجازت دی گئی۔ کیا آلاتِ موسیقی کی وہاں کوئی کمی تھی؟ یا سرزمینِ مدینہ طیبہ میں ان کا وجود نہ تھا؟ [بینوا]
دف سے تمام آلاتِ موسیقی کے جواز پر ہم یہ بات پہلے بھی عرض کر چکے مگر اس کا کوئی جواب اہل اشراق نے تا حال نہیں دیا۔ مگر پھر بھی بڑے حوصلے سے اپنی بات کو دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ ماشاء اللہ
اہل اشراق کا تیسرا سوال
ہم نے عرض کیا تھا کہ موسیقی نواز حضرات کا دف کے جواز سے تمام آلاتِ موسیقی کو جائز قرار دینا سراسر دھوکا ہے بلکہ آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ موجودہ زمانے میں عرف اور حالات کے مطابق کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ گویا جس کے پاس جس قدر وسائل ہیں وہ آلاتِ موسیقی اور پیشہ ور گانے والوں کو اپنے ہاں مدعو کر کے مجلسِ موسیقی منعقد کر سکتا ہے۔ ہمارے اس سوال کے پہلے حصے کا تو کوئی جواب اہل اشراق نے نہیں دیا، البتہ دوسرے حصے کے بارے میں انھوں نے فرمایا کہ: ہم نے یہ نہیں لکھا کہ نکاح کے موقع پر دف کے استعمال کو نبی ﷺ نے لازم قرار دیا، بلکہ یہ لکھا ہے کہ نکاح کے موقع پر اس کے اعلان کے لئے موسیقی کے استعمال کو نبی ﷺ نے ضروری قرار دیا۔ اور اس کے بعد یہ بیان کیا کہ موجودہ زمانے میں کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ موسیقی کے مقابل میں دوسرا طریقہ کے الفاظ اس امر کو لازم کرتے ہیں کہ ان کا مصداق لازماً موسیقی سے مغائر ہونا چاہیے، یہ ظاہر ہے کہ لاؤڈ اسپیکر، اخبار میں اشتہار یا شادی کا کارڈ وغیرہ تو ہو سکتا ہے۔ موسیقی کی کوئی صنف یا آلۂ موسیقی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ (اشراق:ص52)
عرض ہے کہ ضروری اور لازم کی تفریق و تقسیم سے قطع نظر یہ دیکھیے کہ اہل اشراق نے دف کو نکاح کے موقع پر ضروری ہی نہیں لازم بھی قرار دیا ہے۔ مگر شاید وہ اس حقیقت کے اظہار کو بھول گئے ہیں۔ چناں چہ لکھا ہے کہ: بعض روایتیں اس (دف) کے جواز سے آگے بڑھ کر نکاح کے موقع پر اس کے لزوم کو بھی بیان کرتی ہیں۔ (اشراق:ص 30 مارچ2004ء)
انصاف کیجیے کیا ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ دف کو نکاح کے لوازمات میں قرار دیا گیا ہے یا نہیں؟ اور نہیں فرمایا گیا کہ بعض روایتوں سے اس کا لزوم ثابت ہوتا ہے؟ اس سے بھی عجیب تر بات یہ کہ ’لزوم‘ کا یہ حکم اشراق کے سابقہ حوالہ کے ساتھ اشراق (ص 52) کی پانچویں سطر میں بھی نقل ہوا ہے۔ مگر ٹھیک چودہ سطروں کے بعد بڑی جُرأت سے فرمایا جاتا ہے: ہم نے یہ نہیں لکھا کہ نکاح کے موقع پر دف کے استعمال کو نبی ﷺ نے لازم قرار دیا ہے۔ بتلائے ہم اسے اہل اشراق کی جلد بازی سمجھیں، چابک دستی سمجھیں یا کہیں کہ :یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے۔
اسی طرح ان کا یہ فرمانا کہ :موسیقی کے مقابل میں دوسرا طریقہ کا مصداق لازماً موسیقی سے مغائر ہونا چاہیے، موسیقی کی کوئی صنف یا آلۂ موسیقی ہرگز نہیں ہو سکتا ہے سوال یہ ہے جب اہل اشراق نے عنوان آلاتِ موسیقی دیا ہے۔ اور دف کے جواز سے دوسرے آلاتِ موسیقی کے استعمال کرنے اور سننے کو قیاس کیا ہے تو دف کے علاوہ موجودہ زمانے کے آلاتِ موسیقی اور طریقۂ موسیقی کے استعمال سے وہ گریز کیسے کر سکتے ہیں؟ دف آلۂ موسیقی ہو، جب اسی کی بنیاد پر تمام آلاتِ موسیقی کا جواز فراہم کیا جاتا ہے تو کیا انھی کے اسلوب میں ان سے دریافت نہیں کیا جا سکتا ہے کہ شادی پر دف بجائے تو جائز بلکہ ضروری اور لازمی، مگر دیگر آلاتِ موسیقی بھی ہمراہ ہوں تو وہ رد ہو جائیں، اور کہا جائے کہ دف کی بجائے موسیقی کی کوئی اور صنف یا آلۂ موسیقی ہرگز مراد نہیں لیا۔ ہم ان کی اس نوعیت کی طول بیانی اور بھول بھولیوں پر اور کیا کہہ سکتے۔
مقدور ہو تو لے لو زباں ناصح کی
بہت خوب ہے قیامت کو طولِ مدعا کے لئے
چلیے ہم بھی ان کے اعتراف کے بعد کہ ہماری مراد موسیقی کی کوئی صنف یا آلۂ موسیقی نہیں، یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اہل اشراق شادی کے موقع پر ’آلاتِ موسیقی، پیشہ ور گانے والوں کو مدعو کر کے مجلسِ موسیقی منعقد کرنے کے قائل نہیں،مگر وہ بھی اس حقیقت کا اعتراف کریں کہ شادی کے موقع پر ’دف‘ بجانا جائز مگر دیگر آلاتِ موسیقی ناجائز ہیں اگر وہ یہ تسلیم نہیں کرتے تو دف کو آلۂ موسیقی قرار دے کر دوسرے آلاتِ موسیقی کو دف کے مقابلے میں نہ سمجھنا اور رقص کو جائز قرار دے کر یہاں اس سے آنکھیں بند کرنا بھی محض لفظی گورکھ دھندا ہے۔