اخلاص نیت اور عمل صالح کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

اخلاصِ نیت اور عملِ صالح کی فضیلت

اعمال کی فضیلت نیت کی درستی، اللہ کی اطاعت اور ایمانِ محکم پر موقوف ہے:
إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم وإنما ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم
”اللہ تعالیٰ تمہاری ظاہری شکل و صورت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔“
(صحيح مسلم كتاب البر والصلة : باب تحريم ظلم المسلم و خذله حدیث : 2564/34)
بری نیت پر عذاب اور ترکِ فرض پر سزا ملے گی، اس کی بدولت دنیا اور آخرت کی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انسان کو جو مصیبت آتی ہے وہ اس کی بدعملی کی وجہ سے آتی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:
إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ
”تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی۔“
(17-الإسراء:7)
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ
”اور تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے۔ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے بھی درگزر کر جاتا ہے۔“
(42-الشورى:30)
مفسرین نے لکھا ہے کہ رزق، عافیت اور تندرستی اللہ کے انعامات ہیں اور مصائب و مشکلات انسان کے گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں۔