رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھنے کے متعلق احکامات
① سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی سنتا اسے حفظ کرنے کے ارادے سے لکھ لیا کرتا تھا، لیکن قریش نے مجھے روک دیا، انہوں نے کہا: تم ہر چیز لکھ لیتے ہو جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک انسان ہیں، وہ غضب و رضا میں گفتگو کرتے ہیں۔
وہ بیان کرتے ہیں میں نے لکھنا چھوڑ دیا حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق
”لکھو! پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہاں سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔“
(ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3646. ترمذی، حدیث: 2804۔ روایت صحیح ہے)
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا تو ایک قصہ ذکر کیا تو ابو شاہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے لکھوا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اكتبوا لأبي شاه
”ابو شاہ کو لکھ دو۔“
(بخاری، کتاب فی اللقطة، حدیث: 112، 2434. ترمذی، کتاب العلم, حدیث: 2667)
متعلم کا بات سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھنا
① سیدنا ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اگر کوئی بات نہ سنتیں یا اسے نہ سمجھتیں، تو دوبارہ پوچھ لیتیں حتیٰ کہ اسے سمجھ جاتیں۔
(بخاری، کتاب العلم، حدیث: 103)