غیبت
چھٹی بات جس کی سورہ حجرات کی مذکورہ آیت میں ممانعت کر دی گئی ہے وہ غیبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیبت کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے :
آتدرون ما الغيبة؟ قالوا الله ورسوله أعلم – قال: ذكرك أخاك بما يكره قيل أفرأيت إن كان فى أخي ما أقول – قال: إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته وإن لم يكن فيه ما تقول فقد بهته
”جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنهم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: یہ کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرو جو اسے ناگوار ہو۔ عرض کیا گیا: اگر اس میں وہ بات موجود ہو تو؟ فرمایا: اگر وہ بات اس میں موجود ہو تب ہی تو تم نے غیبت کی اور ورنہ تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔“
مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم الغيبة ح : 2589
انسان کو عام طور سے جو باتیں ناگوار ہوتی ہیں وہ عموما اس کی خلقت اخلاق نسب وغیرہ سے متعلق ہوتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پستہ قد ہونا کافی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لقد قلت كلمة لو مزجت بماء البحر لمزجته
”تم نے ایسی بات کہی کہ اگر اس کو سمندر میں ملایا جائے تو اس کا پانی متغیر ہو جائے۔“
ابو داود کتاب الادب باب في الغيبة ح : 4875 ، ترمذى كتاب صفة القيامة باب : 51 ح : 2502
غیبت دوسروں کو گرانے اور تحقیر و تذلیل کرنے کی خواہش رکھنا، اور ان کی غیر موجودگی میں ان کی عزت کو مجروح کرنا ہے۔ یہ خست اور بزدلی کی علامت ہے۔ کیونکہ یہ پیچھے سے حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ غیبت ایک منفی نوعیت کا فعل بد ہے کیونکہ جس کو کوئی کام نہیں ہوتا وہ دوسروں کی غیبت کرتا ہے۔ اس بنا پر قرآن نے غیبت کی شناعت و قباحت بیان کی ہے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے :
وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ
”اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تم تو اس سے گھن ہی کرتے ہو۔“
(الحجرات : 12)
انسان کسی بھی انسان کا گوشت کھانے سے طبعا نفرت کرتا ہے۔ پھر جب اپنے بھائی کا گوشت ہو اور وہ بھی مردہ بھائی کا، تو اس سے کس قدر گھن آئے گی؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قرآنی تصویر کو ذہنوں میں اتارنے کی برابر کوشش کرتے رہے اور غیبت سے نفرت دلاتے رہے۔ چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص مجلس سے اٹھ کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد دوسرے شخص نے اس کے بارے میں توہین آمیز بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلال کرلو۔ اس نے عرض کیا: خلال کس وجہ سے کروں؟ میں نے گوشت تو کھایا نہیں ہے۔ فرمایا :
إنك أكلت لحم أخيك
”تم نے اپنے بھائی کا گوشت کھایا ہے۔“
طبراني في الكبير : 10/126
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بد بودار ہوا چلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آتدرون ما هٰذه الريح؟ هٰذه ريح الذين يغتابون المؤمنين
”جانتے ہو یہ کیسی بدبو ہے؟ یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مومنوں کی غیبت کرتے ہیں۔“
مسند احمد : 3513 بخارى فى الادب المفرد : 753
غیبت کے سلسلہ میں رُخصت کی حدود
ان نصوص سے ثابت ہوا کہ اسلام میں فرد کی ذاتی حرمت نہایت مقدس ہے۔ لیکن بعض صورتیں ایسی ہیں جن کو علمائے اسلام نے حرام غیبت سے مستثنیٰ کیا ہے۔ اس استثناء سے بقدر ضرورت ہی فائدہ اٹھانا چاہیے مثلاً :
◈ اس سلسلہ کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مظلوم کو ظالم کی شکایت کرنے کا حق ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا
اللہ بدگوئی پر زبان کھولنے کو پسند نہیں کرتا، الا یہ کہ کوئی شخص مظلوم ہو ۔ اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
(النساء : 148)
◈ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی متعین شخص کے بارے میں اس سے کاروبار میں شرکت یا اپنی بیٹی کے نکاح یا کوئی اہم ذمہ داری اس کے سپرد کرنے کی غرض سے سوال کرے۔ ایسے موقع پر دو متعارض باتیں سامنے آجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ دین میں خیر خواہی واجب ہے اور دوسرے یہ کہ غیر موجود شخص کی عزت کا تحفظ بھی واجب ہے۔ لیکن چونکہ پہلی چیز زیادہ اہم اور مقدس ہے اس لیے اس کو دوسری چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ چنانچہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پیغام دینے والوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے بارے میں فرمایا کہ وہ مفلس ہے اس کے پاس کوئی مال نہیں اور دوسرے کے بارے میں فرمایا: وہ عورتوں کو بہت مارتا ہے۔
مسلم كتاب الطلاق باب المطلقة البائن لا نفقة لها ح : 1480
◈ اسی طرح استفتاء کے لیے غیبت کا جواز ہے۔
◈ اور منکر کے ازالہ کے لیے کسی کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے بھی۔
◈ اگر کسی شخص کا نام یا لقب یا وصف ایسا ہو جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، لیکن وہ اسی نام سے مشہور ہو، مثلاً اعرج (لنگڑا) اعمش (کمزور نگاہ والا) ابن فلانہ وغیرہ تو ایسی صورت میں اسے اس نام سے پکارنا بھی جائز ہے۔
◈ اسی طرح گواہوں اور حدیث کے راویوں پر جرح کرنا بھی جائز ہے۔
لیکن مندرجہ بالا جواز کی صورتوں میں یہ بھی احتیاط ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ جب تک غیر موجود شخص کے سلسلہ میں ناگوار بات کا تذکرہ کرنے کی شدید ضرورت محسوس نہ ہو اس وقت تک اس دائرہ میں قدم رکھنا صحیح نہیں۔ اور جب تک اشارہ کنایہ سے کام چلتا ہو تصریح نہ کی جائے۔ اسی طرح جب تک عمومیت اختیار کی جاسکتی ہو تخصیص نہ کی جائے اور کوئی ایسی بات ہرگز نہ کی جائے جو فی الواقع اس میں موجود نہ ہو ورنہ بہتان ہوگا جو حرام ہے۔
علاوہ ازیں ان تمام باتوں کے سلسلہ میں فیصلہ کن معاملہ نیت کا ہے۔ انسان خود دوسروں کے مقابلہ میں اپنے قلبی و دینی محرکات کو بہتر طور پر جانتا ہے۔ نیت ہی کے ذریعہ غیبت و تنقید اور نصیحت اور برائی کی تشہیر وغیرہ کے درمیان فرق کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مومن اپنے نفس کا نہایت سختی کے ساتھ محاسبہ کرتا ہے۔
اسلام میں غیبت سننے والا بھی گناہ میں اسی طرح شریک ہے جس طرح کہ کرنے اور کہنے والا، لہذا ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی مدد کرے اور اس کی طرف سے مدافعت کرے۔ حدیث نبوی میں ہے :
من ذب عن عرض أخيه الغيبة كان حقا على الله أن يعتقه من النار
”جو شخص اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت پر حملہ نہ ہونے دے اللہ پر حق ہے کہ اسے آگ سے نجات بخشے۔“
مسند احمد : 6/461 مكارم الاخلاق للخرائطى وابو نعيم في الحلية : 6/67 وابن المبارك في الزهد ص : 240 ح : 687 وللحديث شواهد
دوسری حدیث میں یوں ارشاد ہے :
من رد عن عرض أخيه فى الدنيا رد الله عن وجهه النار يوم القيامة
”جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کی عزت کو بچائے گا اللہ قیامت کے دن اس کے چہرہ کو آگ سے بچائے گا۔“
ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء في الذب عن عرض المسلم ح : 1931
لیکن جو شخص یہ حوصلہ نہ رکھتا ہو اور اپنے بھائی کی عزت پر حملہ کرنے والی زبانوں کو روک نہ سکتا ہو اسے چاہیے کہ ایسی مجلس سے نکل جائے اور ایسے لوگوں سے قطعاً اعراض کرے جب تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ نہیں جاتے ورنہ عجب نہیں کہ اس کا شمار بھی غیبت کرنے والوں میں سے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ
”ورنہ تم بھی ان ہی جیسے ہو۔“
(سورہ النساء : 140)
چغل خوری
غیبت سے مشابہت رکھنے والی ایک عادت بد چغل خوری بھی ہے جسے اسلام نے شدید طور پر حرام ٹھہرایا ہے۔ چغل خوری یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے جو باہمی تعلقات کو خراب کرنے اور فساد پیدا کرنے کی غرض سے وہ بات اس دوسرے شخص تک پہنچا دے۔ قرآن نے مکی دور کے اوائل ہی میں اس بری خصلت کی یوں مذمت بیان کر دی تھی۔
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ 10 هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ
”ایسے شخص کی بات نہ مانو جو بہت قسمیں کھانے والا اور بے وقعت ہے۔ جو طعنے دیتا اور چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔“
(سورہ القلم : 10-11)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يدخل الجنة قتات
”جنت میں چغل خور داخل نہ ہوگا۔“
بخاری کتاب الادب باب ما يكره من النميمة ح : 6056 ، مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحريم النميمة ح : 105
نیز فرمایا :
شرار عباد الله المشاءون بالنميمة المفرقون بين الأحبة الباغون للبرآء العيب
”اللہ کے نزدیک بدترین بندے وہ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں، دوستوں کے درمیان تفرقہ ڈالتے ہیں اور بے قصوروں میں عیب کے خواہاں ہوتے ہیں۔“
مسند احمد : 4/227
اسلام جھگڑوں کے تصفیہ اور باہم صلح صفائی کی غرض و مفاد سے اس بات کو جائز قرار دیتا ہے کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کے بارے میں بدگوئی کی ہو تو اصلاح کرنے والا شخص اسے چھپانے کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے اچھی بات کا اضافہ کرے۔ حدیث میں ہے :
ليس بكذاب من أصلح بين اثنين فقال خيرا أو نمى خيرا
”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو دو شخصوں کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے اچھی بات کہے یا اچھی بات ان میں سے کسی کی طرف منسوب کرے۔“
بخاری کتاب الصلح باب ليس الكاذب الذي يصلح بين الناس ح : 2692 ، مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم الكذب و بيان مايباح منه ح : 2605
اسلام ان لوگوں پر سخت ناراضی کا اظہار کرتا ہے جو بری بات سن کر فتنہ وفساد کی غرض سے فوراً بات کو ادھر سے ادھر پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس بات پر اکتفا نہیں کرتے کہ انہوں نے جو کچھ سنا ہے اسے بیان کر دیں، بلکہ اسے نمک مرچ لگا کر پیش کرتے ہیں اور اپنی طرف سے مزید باتیں گھڑ کر بھی پیش کرنے لگتے ہیں۔
ایک شخص عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کسی دوسرے شخص کی برائی کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا : تم چاہو تو ہم تمہارے معاملہ میں غور کریں گے۔ اگر تم جھوٹے ہو تو آیت ﴿إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ (سورہ الحجرات : 6) میں جن لوگوں کا ذکر ہے، ان میں سے ہو اور اگر تم چاہو تو ہم تم سے در گزر کریں گے۔ اس شخص نے کہا : اے امیر المؤمنین! آپ در گذر ہی کیجئے۔ میں اب کبھی دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔