اہل حدیث ایک صفاتی نام: تعارف
الحمد لله ربّ العالمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين أي آخر النبيين و رضي الله عن أصحابه و آله أجمعين و رحمة الله على التابعين و أتباع التابعين و من تبعهم باحسان إلى يوم الدين، أما بعد:
مسلمانوں کے بہت سے صفاتی نام ہیں مثلاً مومنین، عباداللہ اور حزب اللہ وغیرہ، نیز صحابہ، تابعین، تبع تابعین، مہاجرین و انصار وغیرہ۔ اسی طرح ان صفاتی ناموں میں اہل سنت اور اہل حدیث القاب زمانۂ خیرالقرون سے ثابت ہیں اور مسلمانوں میں ان کا استعمال بلا انکار و نکیر جاری و ساری ہے، بلکہ اس کے جواز پر امتِ مسلمہ کا اجماع ہے۔
اہل سنت اور اہل حدیث دو مترادف صفاتی نام ہیں، جن سے صحیح العقیدہ مسلمانوں یعنی طائفہ منصورہ و فرقہ ناجیہ کی پہچان ہوتی ہے۔
اہل حدیث کے صفاتی نام اور پیارے لقب سے دو قسم کے صحیح العقیدہ مسلمان مراد ہیں:
① محدثین کرام
② محدثین کے عوام یعنی حدیث پر عمل کرنے والے عام لوگ
اول الذکر: کے بارے میں عرض ہے کہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م 728ھ) نے محدثین کرام کو اہل حدیث کہا ہے۔ (دیکھیے مجموع فتاویٰ: ج4 ص95)
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ نے ایک راوی کے بارے میں فرمایا:
وہ اہل حدیث میں سے نہیں تھا۔ (التاریخ الکبیر للبخاری:6/ 429، الجرح والتعدیل:6/ 303)
ثابت ہوا کہ صرف راویانِ حدیث کو اہل حدیث نہیں کہا جاتا بلکہ صحیح العقیدہ راویانِ حدیث یعنی محدثین کو اہل حدیث کہا جاتا ہے۔
ایک مقام پر حافظ ابن حبان نے اہل حدیث کی تین نشانیاں بیان کی ہیں:
① وہ حدیثوں پر عمل کرتے ہیں۔
② سنت (یعنی حدیث) کا دفاع کرتے ہیں۔
③ اور سنت کے مخالفین کا قلع قمع کرتے ہیں۔
(صحیح ابن حبان، الاحسان:6129، دوسرا نسخہ: 6162)
اہلِ حدیث کے مشہور دشمن اور ایک تکفیری خارجی جماعت: ”جماعت المسلمین رجسٹرڈ“ کے بانی مسعود احمد بی ایس سی نے صاف صاف لکھا ہے: ”ہم بھی محدثین کو اہل الحدیث کہتے ہیں۔“ (الجماعة القدیمہ بجواب الفرقہ الجدیدہ: ص 5)
حیاتی دیوبندیوں کے ”امام“ سرفراز خان صفدر گکھڑوی نے لکھا ہے:اہلحدیث سے وہ حضرات مراد ہیں جو حدیث کے حفظ و فہم اور اس کے اتباع و پیروی کے جذبہ سے سرشار اور بہرہ ور ہوں۔ (طائفہ منصورہ: ص38، نیز دیکھئے الکلام المفید: ص139)
اس کے بعد مزید بحث کرتے ہوئے سرفراز خان صاحب نے لکھا ہے: اس سے آشکارا ہو گیا کہ ہر وہ شخص اہل حدیث ہے جس نے تحصیل اور طلبِ حدیث کا اہتمام کیا ہو اور حدیث کے لئے سعی اور کاوش کی ہو عام اس سے کہ وہ حنفی ہو یا مالکی، شافعی ہو یا حنبلی، حتیٰ کہ شیعہ ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی اہل حدیث ہے۔ (طائفہ منصورہ:ص39)
اس عبارت میں خان صاحب نے محدثین کرام کو اہل حدیث کہا ہے، لیکن انھوں نے شیعہ وغیرہ کو بھی اہل حدیث قرار دیا ہے جو کہ دلائل کی روشنی میں باطل بلکہ ابطل الاباطیل ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ ان شاءاللہ
ادوار کے لحاظ سے محدثین کرام کی کئی جماعتیں ہیں۔ مثلاً
① صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین
حاجی امداد اللہ کے خلیفۂ مجاز محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ بانی: جامعہ نظامیہ حیدر آباد دکن نے لکھا ہے:حالانکہ اہل حدیث کل صحابہ تھے کیونکہ فنِ حدیث کی ابتداء انھی سے تھی اس لئے کہ انہی حضرات نے آنحضرت ﷺسے حدیث لیکر دست بدست اُمت کو پہنچا دیا پھر ان کے اہل حدیث ہونے میں کیا شبہ۔ (حقیقۃ الفقہ حصہ دوم ص 228، طبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی)
یہاں بطورِ تحدیثِ نعمت و امتنان عرض ہے کہ یہ کتاب مجھے قاری عبدالقیوم ظہیر حفظہ اللہ نے تحفتاً دی ہے۔ جزاہ اللہ خیراً
دیوبندیوں کے مشہور عالم اور کئی کتابوں کے مصنف محمد ادریس کاندھلوی لاہوری نے لکھا ہے: اہل حدیث تو تمام صحابہ تھے مگر فتوے اہل الرائے ہی دیتے تھے۔ بعد میں یہ لقب امام ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب کا ہو گیا اور اس زمانہ کے تمام اہلحدیث نے امام ابو حنیفہ کو امام اہل الرائے کا لقب دیا۔ (اجتہاد اور تقلید کی بیمثال تحقیق ص 48، شائع کردہ علمی مرکز، انارکلی لاہور۔ مغربی پاکستان)
اس عبارت سے ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہ کے زمانے میں اہل حدیث موجود تھے۔
② صحیح العقیدہ تابعین، تبع تابعین ومن بعدهم
یہ کہنا کہ شیعہ اور اہل بدعت بھی اہل حدیث ہیں، کئی وجہ سے غلط و باطل ہے، مثلاً:
① ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ طائفہ منصورہ ہمیشہ غالب رہے گا۔ الخ
اس کی تشریح میں امام بخاری، امام علی بن المدینی اور امام احمد بن حنبل وغیرہ ہم نے فرمایا: یہ اہل حدیث ہیں۔
(ملخصاً، دیکھئے مسئلۃ الاحتجاج بالشافعی ص 47، سنن ترمذی: 2229، معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: 2)
اور یہ کہنا بالکل باطل بلکہ ابطل الاباطیل ہے کہ شیعہ اور اہل بدعت بھی طائفہ منصورہ ہیں۔
② امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ نے فرمایا: دنیا میں کوئی ایسا بدعتی نہیں جو اہل حدیث سے بغض نہیں رکھتا۔ (معرفۃ علوم الحدیث: ص 4)
اس سنہری قول سے صاف ظاہر ہے کہ اہل حدیث علیحدہ گروہ ہے اور اہل بدعت علیحدہ گروہ ہے۔
③ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب میں اہل حدیث میں سے کسی شخص کو دیکھتا ہوں تو گویا میں نبی ﷺ کو زندہ دیکھتا ہوں۔ (شرف اصحاب الحدیث للخطیب: 85)
یعنی اہل حدیث کے ذریعے سے نبی ﷺ کی دعوت زندہ ہے۔
اگر اہل حدیث سے شیعہ اور بدعتی بھی مراد لئے جائیں تو کیا امام شافعی رحمہ اللہ شیعوں، معتزلیوں، جہمیوں، مرجیوں اور قسما قسم کے بدعتیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے؟!
④ احمد بن علی لاہوری دیوبندی نے اپنے ملفوظات میں فرمایا:میں قادری اور حنفی ہوں۔ اہل حدیث نہ قادری ہیں اور نہ حنفی مگر وہ ہماری مسجد میں 40 سال سے نماز پڑھ رہے ہیں میں ان کو حق پر سمجھتا ہوں۔ (ملفوظاتِ طیبات: ص 115، دوسرا نسخہ ص 126)
اس ملفوظ سے پانچ باتیں ثابت ہیں:
اوّل: اہل حدیث حق پر ہیں۔
دوم: اہل حدیث صحیح العقیدہ مسلمانوں کا لقب ہے، لہٰذا شیعہ وغیرہ اہل حدیث نہیں، وہ تو اہل بدعت ہیں۔
سوم: اہل حدیث صرف محدثین کو ہی نہیں کہا جاتا، بلکہ محدثین کے عوام کو بھی اہل حدیث کہا جاتا ہے، ورنہ وہ کون سے محدثین تھے جو لاہوری صاحب کی مسجد میں چالیس سال سے نمازیں پڑھ رہے تھے۔
چہارم: انسان اگر حنفی یا قادری نہ ہو تو پھر بھی اہل حق میں سے ہو سکتا ہے۔
پنجم: سرفراز خان صفدر کا شیعہ کو اہل حدیث کہنا باطل ہے۔
اس طرح کے اور بھی بہت سے حوالے ہیں جن سے یہ بات ثابت ہے کہ محدثین کرام ہوں یا اُن کے عوام، اہل حدیث سے مراد اہل سنت (یعنی) صحیح العقیدہ لوگ ہیں اور اس لقب میں اہل بدعت ہرگز شامل نہیں بلکہ اہل بدعت تو اہل حدیث سے بغض رکھتے ہیں۔
ثانی الذکر: (محدثین کرام کے عوام یعنی حدیث پر عمل کرنے والے عام لوگوں) کے بارے میں عرض ہے کہ بعض لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ اہل حدیث سے مرادصرف محدثین کرام ہیں اور عوام مراد نہیں، لہٰذا ایسے لوگوں کے رد کے لئے بیس (20) حوالے پیشِ خدمت ہیں:
① بہت سے علمائے حق مثلاً امام احمد بن حنبل، امام علی بن المدینی اور امام بخاری وغیرہ ہم نے اہل حدیث کو طائفہ منصورہ قرار دیا ہے۔
(سنن الترمذی، ابواب الفتن باب ما جاء فی الائمۃ المضلین: ح2229 نسخہ عارضۃ الاحوذی:9/ 74 وسندہ صحیح)،(مسئلۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب: ص47 وسندہ صحیح)،(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص2 و صححہ ابن حجر فی فتح الباری:13/ 250)
اسے مدِنظر رکھ کر عرض ہے کہ یہ کہنا: صرف محدثین کرام طائفہ منصورہ ہیں اور ان کے عوام نہیں، یا صرف محدثینِ کرام جنت میں جائیں گے اور ان کے عوام باہر کھڑے رہیں گے، باطل ہے بلکہ اسلام کے ساتھ مذاق ہے۔
② حافظ ابن حبان نے اہل حدیث کے بارے میں فرمایا: وہ حدیثوں پر عمل کرتے ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں اور ان کے مخالفین کا قلع قمع کرتے ہیں۔ (صحیح ابن حبان: 6129، دوسرا نسخہ: 6162)
یہ ظاہر ہے کہ اہل حدیث کے عوام بھی حدیثوں پر ہی عمل کرتے ہیں۔ الخ
③ امام ابوبکر بن ابی داؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: اور تُو اس قوم میں سے نہ ہونا جو اپنے دین سے کھیلتے ہیں (ورنہ) تو اہل حدیث پر طعن و جرح کر بیٹھے گا۔ (الشریعہ للاجری:2075)
اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اہل حدیث کو بُرا کہتے ہیں وہ دین سے کھیلتے ہیں یعنی اہل بدعت ہیں اور یہ بھی ظاہر و باہر ہے کہ اہل بدعت صرف محدثینِ کرام سے ہی بغض نہیں رکھتے بلکہ اہل حدیث عوام سے بھی بہت زیادہ بغض رکھتے ہیں۔
امین اوکاڑوی دیوبندی نے ”غیر مقلد کی تعریف“ کے تحت لکھا ہے:
لیکن جو شخص نہ امام ہو نہ مقتدی، کبھی امام کو گالیاں دے کبھی مقتدیوں سے لڑے یہ غیر مقلد ہے۔ (تجلیات صفدر:3/ 377)
نیز اوکاڑوی نے دوسری جگہ لکھا ہے: اس لئے جو جتنا بڑا غیر مقلد ہو گا، وہ اتنا ہی بڑا گستاخ اور بے ادب بھی ہو گا۔ (تجلیات صفدر:3/ 590)
اوکاڑوی نے مزید لکھا ہے: کہ ہر غیر مقلد اعجاب كل ذی رأی برأيه کا مجسمہ ہے اور موافقِ فرمانِ رسول اللہ ﷺ ایسے لوگوں پر توبہ کا دروازہ بند ہے۔ (تجلیات صفدر:6/ 164)
یہ ہیں وہ عبارات اور اس طرح کے دوسرے حوالے، جن کی وجہ سے آلِ تقلید کا اہل حدیث کے خلاف غیر مقلد کا لفظ استعمال کرنا بالکل باطل و مردود ہے۔
④ امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ نے فرمایا: دنیا میں کوئی ایسا بدعتی نہیں جو اہل حدیث سے بغض نہیں رکھتا۔
(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:ص4)
اور یہ ظاہر ہے کہ ہر اہل حدیث سے چاہے وہ محدث و عالم ہو یا عوام میں سے ہو، تمام اہل بدعت بغض رکھتے ہیں اور طرح طرح کے نام رکھ کر مثلاً غیر مقلدین کہہ کر اہل حدیث کا مذاق اڑاتے ہیں۔
⑤ حافظ ابن القيم نے اپنے مشہور قصیدے نونیہ میں فرمایا:
اے اہل حدیث سے بغض رکھنے والے اور گالیاں دینے والے، تجھے شیطان سے دوستی اور یاری قائم کرنے کی بشارت ہو۔
(ص 199)،(الكافية الشافية فى الانتصار للفرقة الناجية ص 99 افصل فى ان اهل الحديث هم انصار رسول اللهﷺ و خاصة)
اور یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ تمام کٹر اہل بدعت بحیثیتِ جماعت تمام اہل حدیث سے چاہے وہ علماء ہوں یا عوام، سخت بغض رکھتے ہیں اور بُرا کہتے ہیں۔
⑥ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اہل حدیث کی ایک فضیلت بیان فرمائی:
بعض سلف صالحین نے فرمایا: یہ آیت (بنی اسرائیل:71) اہل حدیث کی سب سے بڑی فضیلت ہے، کیونکہ ان کے امام نبی ﷺ ہیں۔
(تفسیر ابن کثیر:4/ 164)
جس طرح نبی کریم ﷺ محدثین کرام کے امامِ اعظم ہیں، اسی طرح اہل حدیث عوام کے بھی امامِ اعظم ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ اہل حدیث کے خاص و عام خطباء اور واعظین کی تقریروں سے بھی ظاہر ہے۔
⑦ قوام السنہ اسماعیل بن محمد بن الفضل الاصبهانی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل حدیث کا ذکر اور یہی گروہ قیامت تک حق پر غالب رہے گا۔
(الحجۃ فی بیان المحجۃ: 1/ 246)
اس سے ثابت ہوا کہ اہل حدیث سے مراد محدثین اور ان کے عوام ہیں اور یہ گروہ قیامت تک ہر دور میں موجود رہے گا، لہٰذا مسعود احمد صاحب کا درج ذیل بیان باطل ہے:محدثین تو گزر گئے اب تو وہ لوگ رہ گئے ہیں جو ان کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں۔ (الجماعة القدیمہ:ص 29)
⑧ ابو اسماعيل عبد الرحمن بن اسماعيل الصابونی نے فرمایا:اہل حدیث یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر ہے۔ (عقیدۃ السلف اصحاب الحدیث:ص14)
محدثین کرام ہوں یا اہل حدیث عوام ہوں، سب کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی ہے اور اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ نہیں بلکہ اس کا علم و قدرت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
⑨ ابو منصور عبد القاہر بن طاہر البغدادی نے شام وغیرہ کی سرحدوں پر رہنے والوں کے بارے میں فرمایا: وہ سب اہل سنت میں سے اہل حدیث کے مذہب پر ہیں۔ (اصول الدین:ص317)
⑩ حافظ ابن تیمیہ نے متبعینِ حدیث یعنی عاملین بالحدیث کو بھی اہل حدیث قرار دیا۔
(دیکھیے: مجموع فتاویٰ 4/ 95)
⑪ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ہمارے نزدیک اہل حدیث وہ ہے جو حدیث پر عمل کرے۔
(الجامع للخطیب:1/ 144، اہل حدیث ایک صفاتی نام: ص 81)
⑫ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 کی تشریح میں سیوطی صاحب نے فرمایا: اہل حدیث کے لئے اس سے زیادہ فضیلت والی اور کوئی بات نہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے سوا اہل حدیث کا کوئی امام (یعنی امامِ اعظم) نہیں۔ (تدریب الراوی:2/ 126، نوع 27)
⑬ رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا ہے: تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلافِ انظار کے پیشِ نظر پانچ مکاتبِ فکر قائم ہو گئے یعنی مذاہبِ اربعہ اور اہل حدیث۔ اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔ (احسن الفتاویٰ:1/ 316)
اس عبارت سے تین مسئلے صاف ثابت ہیں:
اوّل: اہل حدیث حق پر ہیں۔
دوم: اہل حدیث سے مراد محدثین کرام اور ان کے عوام دونوں ہیں۔
سوم: اہل حدیث کا گروہ مذاہبِ اربعہ کے علاوہ پانچواں گروہ ہے، لہٰذا سرفراز خان صفدر کا حنفیوں وغیرہ کو اہل حدیث قرار دینا غلط ہے۔
⑭ احمد علی لاہوری صاحب کا یہ قول (ملفوظ) گزر چکا ہے کہ انھوں نے فرمایا:اہل حدیث نہ قادری ہیں اور نہ حنفی مگر وہ ہماری مسجد میں 40 سال سے نماز پڑھ رہے ہیں میں ان کو حق پر سمجھتا ہوں۔ (ملفوظاتِ طیبات ص 115، پرانا نسخہ ص 126)
اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ اہل حدیث سے مراد صرف محدثین کرام نہیں بلکہ ان کے عوام بھی اہل حدیث ہیں۔
⑮ محمد قاسم نانوتوی کی پسندیدہ کتاب: حقانی عقائد الاسلام میں عبدالحق حقانی دہلوی نے کہا: اور اہل سنت شافعی حنبلی مالکی حنفی ہیں اور اہل حدیث بھی ان ہی میں داخل ہیں۔ (ص 3)
اس قول میں جس طرح شافعیوں وغیرہ سے مراد ان کے عوام بھی ہیں، اسی طرح اہل حدیث سے مراد محدثین کرام کے عوام بھی ہیں۔
⑯ کفایت اللہ دہلوی دیوبندی نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے: ہاں اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے۔ محض ترکِ تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ اہل سنت والجماعت سے تارکِ تقلید باہر ہوتا ہے۔ (کفایت المفتی:ج1 ص325)
اس فتوے اور سابقہ فتوے سے صاف ظاہر ہے کہ اہل حدیث اہل سنت ہیں اور عوام کوبھی اہل حدیث کہنا بالکل صحیح ہے۔
⑰ چوتھی صدی ہجری کے مورخ بشاری مقدسی (م375ھ) نے منصورہ (سندھ) کے لوگوں کے بارے میں فرمایا: ان کے مذاہب یہ ہیں: وہ اکثر اہل حدیث ہیں الخ (احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم:ص481)
یہ عقلاً معلوم ہے کہ اس وقت سندھ کے تمام لوگ محدثین نہیں تھے بلکہ ان میں محدثین کے عوام بھی شامل ہیں۔
⑱ اشاراتِ فریدی یعنی مقابیس المجالس میں لکھا ہوا ہے: اہلِ حدیثوں کے امام حضرت قاضی محمد بن علی شوکانی یمنی نے سماع پر ایک مدلل رسالہ لکھا ہے، ابطالِ دعویٰ اجماع۔ اس رسالے میں آپ نے احادیثِ نبوی سے ثابت کیا ہے کہ سماع جائز ہے۔ (ص156)
اس عبارت میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اہل حدیث سے مراد ہندوستان وغیرہ کے اہل حدیث عوام ہیں اور باقی عبارت کے بارے میں دو اہم باتیں درج ذیل ہیں:
اوّل: شوکانی تمام اہل حدیث کے امام یعنی امامِ اعظم نہیں، بلکہ اہل حدیث کے امامِ اعظم محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ شوکانی تو متاخرین علماء میں سے ایک عالم تھے۔
دوم: سماع سے اگر قوالی، راگ باجا اور آلاتِ موسیقی والاسماع مراد ہو تو احادیثِ صحیحہ کی رُو سے یہ حرام ہے اور اسی طرح شرکیہ و بدعیہ اشعار پڑھنا بھی حرام ہے۔
⑲ دیوبندی ’’مفتی‘‘ محمد انور نے صوفی عبدالحمید سواتی کی کتاب: نمازِ مسنون کے مقدمے میں لکھا ہے: بلا شبہ حنفی مسلک کے پیروکاروں کو اپنے مسلک اور شرح صدر کے لیے ’’نمازِ مسنون‘‘ ایک کافی و شافی تالیف ہے۔ 837 صفحات پر مشتمل اس تالیف میں نماز کے متعلقاتِ ضروری تفصیل کے ساتھ آ گئے ہیں۔ ہماری رائے میں نہ صرف حنفی مسلک کے ہر امام و خطیب کے لیے خصوصاً اور عوام کے لیے اس کا مطالعہ نافع ہے بلکہ مسلکِ اہل حدیث کے غیر متعصب حضرات کے لیے بھی اس کا مطالعہ ان شاءاللہ بصیرت افروز و چشم کشا ہو گا۔ (نمازِ مسنون: تبصرہ ص18)
اس عبارت میں محمد انور نے عوام کو بھی اہل حدیث کے لقب سے ملقب کیا ہے۔
⑳ ایک غالی دیوبندی محمد عمر نے لکھا ہے:اہلِ حدیث عوام سے ہماری مودبانہ درخواست ہے کہ آپ کو ان حقائق سے بے بہرہ رکھ کر آپ کا فکری استحصال کیا گیا ہے، اہل حدیث عوام یہ سوچتے ہوں گے کہ اہل سنت والجماعت احناف ان کے علماء کی کتابوں پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ (چھپے راز: حصہ چہارم ص2)
اس تلبیسانہ عبارت میں بھی اہل حدیث عوام کو اہل حدیث تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ بیس حوالے مشتے از خروارے ہیں، ورنہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں۔
بعض لوگ اپنی خود ساختہ مصلحتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو اہل حدیث نہیں کہتے بلکہ اس سے شرماتے ہیں اور دوسرے مختلف ناموں سے متعارف ہونے کی کوشش کرتے ہیں، بعض اہل حدیث نام سے غیر اہل حدیث کی مخالفت کی وجہ سے ڈرتے ہیں اور بعض اپنے آپ کو اہل صحیح الحدیث وغیرہ کہہ کر باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب کارروائیاں اور چالیں غلط ہیں اور اہل حق کے صفاتی ناموں میں سے اہل سنت، اہل حدیث، سلفی اور اثری بہت بہترین القاب ہیں اور ان سب میں اعلیٰ ترین اہل حدیث ہے، جس کے جواز پر سلف صالحین کا اجماع ہے۔ والحمدللہ
وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام اہل حدیث علماء و عوام باہم متحد ہو جائیں، تمام اختلافات ختم کر دیں اور کتاب و سنت کے جھنڈے کو دنیا میں سربلند کرنے کے لئے دل و جان سے کوشاں ہو جائیں۔
زیرِ نظر کتاب راقم الحروف کے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، لہٰذا بعض جگہ تکرار بھی ہے لیکن یہ عوام و خواص کے لئے یکساں مفید ہے۔
وما علینا إلا البلاغ
(19شعبان 1433ھ بمطابق 10/ جولائی 2012ء)