چوتھے دن قربانی کرنا
بعض لوگ قصداً قربانی میں تاخیر کر کے تیرہ ذوالحجہ کو ذبح کرتے ہیں اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ دن بھی ایامِ قربانی میں شامل ہے اور اس دن لوگوں نے قربانی ترک کر دی ہے، لہذا ہم یہ عمل سنتِ متروکہ کے احیاء کی خاطر کرتے ہیں، لیکن چوتھے دن قربانی کرنا سنت سے ثابت ہی نہیں تو متروکہ سنت کیسے ہوئی، بلکہ ایامِ قربانی تین دن (10، 11، 12) ذوالحجہ ہیں۔ تیرہ ذوالحجہ کا دن ایامِ قربانی میں شامل ہی نہیں، جیسا کہ اس کی مفصل وضاحت بعنوان: (ایامِ قربانی کا بیان) میں بیان ہوئی ہے۔
قربانی کا ابتدائی وقت
قربانی کا ابتدائی وقت نمازِ عید کے بعد ہے۔ نمازِ عید سے فارغ ہونے کے بعد قربانی مشروع ہے اور قبل از نمازِ عید قربانی کرنا ممنوع ہے، پھر نمازِ عید سے قبل قربانی کرنے سے قربانی قبول نہیں ہوتی، دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر، فمن فعل هذا فقد أصاب سنتنا، ومن نحر فإنما يقدمه لأهله ليس من النسك فى شيء
”بلاشبہ! ہم اپنے اس دن (عید الاضحیٰ) کو سب سے پہلے جس کام سے آغاز کریں گے، وہ نماز پڑھنا ہے، پھر ہم واپس لوٹ کر قربانی کریں گے۔ چنانچہ جس نے یہ عمل کیا اس نے ہماری سنت اختیار کی اور جس نے (نمازِ عید سے قبل) جانور ذبح کیا، وہ محض اپنے گھر والوں کو (وقت سے پہلے) گوشت پیش کرتا ہے اس کی قربانی نہیں ہوگی۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب الذبح بعد الصلاة: 5560 – صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتہا: 1961 – سنن أبی داؤد، کتاب الضحایا، باب ما یجوز من الضحایا: 2800
② سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى صلاتنا، ووجه قبلتنا، ونسك نسكنا، فلا يذبح حتى يصلي
”جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیا اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو وہ نماز پڑھنے سے قبل جانور ذبح نہ کرے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب من ذبح قبل الصلاة أعاد: 5563 – صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتہا: 1961
③ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ذبح قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين
”جس نے نمازِ عید سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کیا اس نے محض اپنی خاطر جانور ذبح کیا اور جس نے نمازِ عید کے بعد (جانور ذبح کیا) اس کی قربانی انجام پائی اور اس نے مسلمانوں کی سنت اختیار کی۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب سنة الأضحیة: 5546 – سنن بیہقی 272/9 –
فوائد:
① ابن بطال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احادیثِ الباب دلیل ہیں کہ قربانی کو نمازِ عید کے بعد ذبح کرنا مسنون ہے۔
شرح ابن بطال: 20/11
② جو شخص نمازِ عید سے پہلے جانور ذبح کر لے اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی، قربانی محض اس شخص کی قبول ہوتی ہے جو نمازِ عید کے بعد جانور ذبح کر لے۔
③ قربانی کا جانور نمازِ عید سے قبل ذبح کرنا ممنوع اور سنتِ نبوی اور مسلمانوں کے طریقے کے خلاف عمل ہے، لہذا اس سے گریز کیا جائے۔