مضمون کے اہم نکات
اقتضاء الولاء للٰہ سبحانہٗ وتعالٰی
اللہ تعالیٰ سے محبت کے تقاضے
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کیاجائے۔
❀ [اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ]
جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ایسے ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔ (سورہ المائدۃ:72)
اللہ تعالیٰ کا نام انتہائی ادب اور احترام سے لیا جائے نیز کسی غلیظ اور گندی جگہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیاجائے نہ ذکر کیا جائے۔
❀ [سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی]
اپنے اعلیٰ رب کے نام کو پاک رکھو۔ (سورۃ الاعلیٰ:1)
اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزوں سے محبت کی جائے۔
❀ [وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ]
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی احترام والی چیزوں کی عزت کرے تو یہ طرز عمل اس کے لئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے۔ (سورۃ الحج:30)
وضاحت:
اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزوں کی چند مثالیں درج ذیل ہیں
① دین اسلام۔ ② ایمان، نماز، روزہ، زکاۃ، حج، جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اعمال ہیں۔ ③ انبیاء، صلحاء اور شہداء اولیاء سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں۔ ④ ماہ رمضان، عیدین، عشرہ ذوالحجہ، عاشور، یوم عرفہ اور جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ایام ہیں۔ ⑤ حرمین شریفین، مسجد اقصیٰ اور دیگر مساجد اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ جگہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ چیزوں کو ناپسند کیا جائے۔
❀ [وَ قَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہَنَّمَ جَمِیۡعَۨا]
اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں تم پر یہ حکم نازل فرما چکا ہے کہ جب تم (کسی جگہ) سنو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو (ان لوگوں) کے ساتھ مت بیٹھو حتّٰی کہ یہ لوگ کسی دوسری بات میں لگ جائیں ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک ہی جگہ اکٹھا کرنے والا ہے۔ (سورۃ النساء:140)
وضاحت:
جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتے ہیں ان کی چند مثالیں درج ذیل ہیں ① کافر، مشرک، منافق اور مرتد۔ ② ایسی مجالس جن میں اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جائے۔ ③ ایسی جگہیں جہاں شرکیہ کام کئے جاتے ہوں۔ ④ بازار۔
اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب اشیاء (مثلاً کلام اللہ، بیت اللہ وغیرہ) کی عزت اور احترام کیا جائے۔
❀ [وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ]
اور جو شخص شعائر اللہ کی عزت کرے تو یہ اس کے دل کے تقوے کی علامت ہے۔ (سورۃ الحج:32)
اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھنے والوں سے دشمنی رکھی جائے اور دوستی رکھنے والوں سے دوستی رکھی جائے۔
❀ [لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ]
جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہیں انہیں ان لوگوں سے محبت کرتے کبھی نہ پاؤ گے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کی ہے خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ (اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہ کرنے والے) لوگ وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ان کی روح (یعنی نور ایمان یا روح القدس جناب جبریل علیہ السلام) کے ساتھ مدد کی ہے اور (قیامت کے روز) ان لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ لوگ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ لوگ اللہ کے لشکر والے ہیں۔ خبردار رہو کہ اللہ کے لشکر والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ:22)
اللہ کی راہ میں اپنے مال،جان اور زبان سے جہاد کیا جائے۔
❀ [عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں سے جہاد کرو اپنے مالوں کے ساتھ اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ۔ [سنن ابوداؤد:2504]
کلامُ اللہ سے محبت کی جائے۔
❀ [یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ]،[ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ]
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے وعظ (اور نصیحت یعنی قرآن مجید) آگیا۔ اس میں دلوں کی بیماری کے لئے شفا ہے اور جو اس پر ایمان لے آئیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ اے نبی کہو، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور مہربانی ہے کہ اس نے قرآن نازل فرمایا اس پر لوگوں کو خوشی منانی چاہئے قرآن مجید ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ اکٹھا کررہے ہیں۔ (سورۃ یونس:57-58)
وضاحت:
قرآن مجید سے محبت کرنے میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا، قرآن مجید کو سمجھنا اس پر عمل کرنا، اس کی تعلیم، تدریس، تبلیغ اور اشاعت کا اہتمام کرنا سبھی باتیں شامل ہیں۔
اللہ کے دین کی نصرت کی جائے۔
❀ [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَ یُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم (کافروں کے مقابلے میں) جما دے گا۔ (سورۃ محمد:7)
وضاحت:
اللہ کے دین کی نصرت کرنے میں دین کا علم حاصل کرنا۔ دین کی اشاعت کرنا اور دین کوغالب کرنے کی جدو جہد کرنا شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کے تمام احکام اور فیصلوں پر راضی رہا جائے۔
❀ [عن العباس بن عبد المطلب، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: ذاق طعم الإيمان، من رضي بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا]
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس آدمی نے ایمان کا صحیح مزا چکھا جو راضی ہوا اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر۔ [صحیح المسلم:34]
اللہ کے دین پر ثابت قدم رہا جائے۔
❀ [عن مصعب ابن سعد رضی اللٰه عنہ قال حلفت ام سعد ان لا تکلمہٗ ابدا حتٰی یکفر بدینہٖ ولا تاکل ولا تشرب قالت: زعمت ان اللٰہ وصاک بوالدیک فانا امک وانا اٰمرک بہٰذا قال مکثت ثلاثا حتٰی غشی علیہا من الجہد فقام ابن لہا یقال لہٗ عمارۃ: فسقاہا فجعلت تدعو علٰی سعد فانزل اللٰہ تعالیٰ فی القرآن ہٰذہٖ الآیۃ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡہُمَا ؕ]
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ام سعد نے قسم کھائی کہ وہ (اپنے بیٹے) سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے اس وقت تک بات نہ کرے گی جب تک سعد دین (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نہ چھوڑ دے نہ کچھ کھائے گی نہ پئے گی۔ سعد کی ماں نے سعد سے کہا اللہ تعالیٰ نے تجھے والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور میں تیری ماں ہوں تجھے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑنے کا حکم دیتی ہوں تین دن تک ایسے ہی رہی (نہ کھایا نہ پیا) حتی کہ بھوک کی وجہ سے غش آنے لگا اس کا ایک بیٹا جس کانام عمارہ تھا، وہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی ماں کو پانی پلایا (ہوش میں آنے کے بعد) ماں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لئے بددعا کی تب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ آیت نازل فرمائی: اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی لیکن اگر وہ تجھے مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی بات نہ مان۔ (سورہ العنکبوت:8) [صحیح المسلم:1748]
زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کی جائے۔
❀ [عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے دوست سے دشمنی کی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے، میرا بندہ جن عبادتوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے مجھے سب سے زیادہ پسند فرض عبادتیں ہیں (فرضوں کے بعد) نفل عبادت کرتے کرتے بندہ میرے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں بندے سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ (صرف وہی کچھ) سنتا ہے (جس کی میں نے اجازت دی ہے) میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ (صرف وہی کچھ) دیکھتا ہے (جس کی میں نے اجازت دی ہے) اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ (صرف اسے ہی) پکڑتا ہے (جس کی میں نے اجازت دی ہے) اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ (صرف اسی طرف) چل کر جاتا ہے (جس کی طرف جانے کی میں نے اجازت دی ہے) اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور جب وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔ [صحیح البخاری:6502]
اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے معاملے میں کسی کی ملامت یا مذمت کی پروانہ کی جائے۔
❀ [عن عبادۃ ابن الصامت رضی اللٰه عنہ قال بایعنا رسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم علٰی السمع والطاعۃ فی المنشط والمکرہ وان لا ننازع الامر اہلہٗ وان نقوم او نقول بالحق حیثما کنا لا نخاف فی اللٰہ لومۃ لائم]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اچھے اور برے حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سننے اور ماننے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور اس بات پربیعت کی کہ امارت (یعنی حکومت) کے جو اہل ہوگا اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور جہاں کہیں بھی ہوں گے حق پر ڈٹے رہیں گے یا حق بات کہیں گے اور اس بات پر بھی بیعت کی کہ اللہ کی راہ میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [صحیح البخاری:7199]
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مصائب و آلام پر صبر کیاجائے۔
❀ [عن انس بن مالک رضی اللٰه عنہ عن رسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم انہٗ قال: عظم الجزاء مع عظم البلاء و ان اللٰہ اذا احب قوما ابتلاء ہم فمن رضی فلہ الرضا و من سخط فلہ السخط]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑی آزمائش پر بڑی جزاء ہے اللہ تعالیٰ جب کسی سے محبت فرماتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا فرما دیتا ہے جو اس پر راضی رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی رہتا ہے اور جو اس پر خفا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے خفا ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4031]
اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے کو امانت ادا کرنی چاہئے، سچ بولنا چاہئے اور اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرنا چاہئے۔
❀ [عن عبد الرحمن بن أبي قراد رضی اللہ عنہ فإن أحببتم أن يحبكم الله ورسوله فأدوا إذا ائتمنتم، واصدقوا إذا حدثتم، وأحسنوا جوار من جاوركم]
سیدنا عبد الرحمن بن أبي قراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت کریں تو جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اسے اداکرو، جب بات کرو تو سچ بولو، اور جو شخص تمہارے پڑوس میں ہو اس سے نیک سلوک کرو۔ [صحيح الجامع الصغير وزيادته:1409]
تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے کئے جائیں جن میں نمود و نمائش اور ریا نہ ہو۔
❀ [عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ قال، قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: إن أول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال فما عملت فيها قال قاتلت فيك حتى استشهدت قال كذبت ولكنك قاتلت لأن يقال جريء فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال فما فعلت فيها قال تعلمت العلم وعلمته وقرأت فيك القرآن قال كذبت ولكنك تعلمت العلم ليقال عالم وقرأت القرآن ليقال هو قارئ فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل وسع الله عليه وأعطاه من أصناف المال كله فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال فما عملت فيها قال ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيها إلا أنفقت فيها لك قال كذبت ولكنك فعلت ليقال هو جواد فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه ثم ألقي في النار]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’قیامت کے دن ایک شہید لایا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور شہید ان نعمتوں کا اقرار کرے گا اللہ اس سے پوچھے گا تو نے ان نعمتوں کا حق ادا کرنے کے لئے کیا عمل کیا،وہ کہے گا’’میں نے تیری راہ میں جہادکیا حتی کہ شہید ہوگیا اللہ تعالیٰ فرمائے گاتو جھوٹ کہتا ہے تو نے بہادر کہلوانے کے لئے جنگ کی سو دنیا نے تجھے بہادر کہا،پھر(فرشتوں)کو حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔اس کے بعد وہ آدمی لایا جائے گا جس نے خود بھی علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایااللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور وہ(عالم)ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تب اللہ اس سے پوچھے گا ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے تونے کیاعمل کیا۔وہ عرض کرے گا میں نے خودبھی علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایااور تیری خاطر لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنایا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا ہے تو نے تو قرآن اس لئے پڑھ کر سنایا تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں سو دنیا نے تمہیں عالم اور قاری کہا پھر حکم ہوگااور اسے منہ کے بل اٹھا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔اس کے بعد ایک اور آدمی لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں گنوائے گا،وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ میری نعمتیں پاکر تم نے کیا کام کئے؟وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں ان تمام جگہوں پر مال خرچ کیا جہاں تجھ کو پسند تھا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ تو جھوٹ کہتا ہے تونے تو مال صرف اس لئے خرچ کیا تاکہ لوگ تجھے سخی کہیں اور دنیا نے تجھے سخی کہا پھر حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل اٹھا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [مختصر صحيح مسلم:1089]