مدد صرف اللہ سے مانگنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی فضیلت

”استعانت“ یعنی مدد طلب کرنا، عبادت ہے، جو کہ اللہ کے سوا کسی کو جائز نہیں۔ لہذا جو آدمی مشکلات میں مدد طلب کرنا چاہے تو ایک اللہ سے طلب کرے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَاكُمْ ۚ نِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ﴾ ‎
”پس تم جان لو کہ بے شک تمہارا مولیٰ اللہ ہے، اور وہ بڑا ہی اچھا مولیٰ اور بڑا ہی اچھا مددگار ہے۔“
(8-الأنفال:40)
دوسرے مقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴾
”کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی ولی ہے اور نہ کوئی مددگار۔“
(2-البقرة:107)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بندہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر نماز میں إياك نعبد وإياك نستعين کہے۔ کیونکہ شیطان اسے شرک کرنے کا حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھہرائے، غیروں سے مدد مانگے اور اللہ کے بجائے انبیاء و صالحین اور قبروں میں مدفون لوگوں سے مدد مانگے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اونٹ پر جا رہا تھا (سفر کے دوران) آپ نے فرمایا کہ اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھلاتا ہوں، اللہ کے احکام کی حفاظت (احترام اور عمل سے) کر، وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ (کے موجود ہونے پر یقین کامل) کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا۔ اپنا سوال اللہ سے ہی کر اور اگر مدد چاہے تو اس کی اعانت طلب کر۔ یاد رکھ! اگر تمام لوگ مل کر تجھے فائدہ پہنچانا چاہیں تو اتنا ہی فائدہ پہنچا سکیں گے جتنا اللہ نے تیرے لیے مقدر کر دیا۔ اور تمام لوگ مل کر تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اتنا کہ جو اللہ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلمیں اٹھالی گئی ہیں، اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔
سنن ترمذى، كتاب صفة القيامة، والرقائق والورع، رقم: 2516 ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا نتیجہ جنت ہے۔ سیدنا عیاض بن صحار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا:
وأهل الجنة ثلاثة: ذو سلطان مقسط متصدق موفق، ورجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى، ومسلم عفيف تعفف ذو عيال .
”جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں:
⟐ حاکم، انصاف کرنے والا، سچ بولنے والا اور نیک کاموں کی توفیق دیا گیا۔
⟐ وہ شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے مہربان اور نرم دل ہے۔
⟐ وہ شخص جو پاک دامن ہے اور عیال داری کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔“
صحيح مسلم، كتاب الجنة. باب الصفات التي يعرف بها في الدنيا…..، رقم: 7207.
مزید برآں سیدنا ثوبان مولی رسول ہاشمی فرماتے ہیں کہ: سید البشر، سید الانبیاء رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من تكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا وأتكفل له بالجنة .
”جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے سوال نہیں کرے گا، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“
چنانچہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ضمانت دیتا ہوں۔ (راوی کا کہنا ہے) کہ وہ (اللہ کے علاوہ ) کسی سے کوئی سوال نہیں کرتے تھے۔
سنن ابی داؤد، باب كراهية المسئالة ، رقم: 1643۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح “ کہا ہے۔