نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے کے فضائل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان و زمین دونوں جگہ لائق صد احترام ہیں۔ آسمان میں اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں، اور زمین پر تمام اہل ایمان سے مطلوب ہے کہ ان پر درود و سلام بھیجتے رہیں۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
”اللہ اور اُس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم ان پر درود بھیجو اور اچھی طرح سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔“
(33-الأحزاب:56)
فائدہ: امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو العالیہ سے روایت کی ہے کہ اللہ کے درود سے مراد فرشتوں کی محفل میں آپ کا ذکر خیر ہے، اور فرشتوں کے درود سے مراد آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے خیر و برکت کی دعا ہے۔
صحیح بخاری، کتاب التفسير ، باب قوله : ان الله وملائكته يصلون على النبي .
مزید تفصیل ملاحظہ کیجئے: جلاء الافہام از حافظ ابن قیم رحمہ اللہ ، میں ”صلاۃ“ یعنی درود کا معنی ومفہوم ۔
امام بخاری نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھا کہ ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں، درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو:
اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد. اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد .
”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی، بے شک تو تعریف کے قابل اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو تعریف کے قابل اور شرف و مجد کا مالک ہے۔“
صحيح بخارى، كتاب أحاديث الانبياء ، رقم: 3370.
یہ بات بھی یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر جب بھی آئے آپ پر درود بھیجنا واجب ہے۔
مزید تفصیل دیکھیں : تفسير ابن كثير ، تحت آيت : إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ.
درود پاک کثرت سے پڑھا جائے تو پریشانیوں سے نجات ملتی ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا:
يا رسول الله! إني أكثر الصلاة عليك، فكم أجعل لك من صلاتي؟ قال: ما شئت. قلت: الربع؟ قال: ما شئت، فإن زدت فهو خير لك، قلت: فالنصف؟ قال: ما شئت، فإن زدت فهو خير لك، قلت: فالثلثين؟ قال: ما شئت، فإن زدت فهو خير لك. قلت: أجعل لك صلاتي كلها؟ قال: إذا تكفيك همك، ويغفر لك ذنبك .
”اے اللہ کے رسول، میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں، پس میں آپ پر درود کے لیے کتنا وقت مقرر کروں؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو، میں نے کہا، دعا کا چوتھائی حصہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا تم چاہو اگر تم زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا، تو پھر آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جتنا تم چاہو، پس اگر تم زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہے، میں نے کہا، پس دو تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا تم چاہو، اگر تم زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا۔ میں اپنا سارا وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کے لیے وقف کر دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو (یہ عمل) تمہارے غموں (کے دور کرنے) کے لیے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے۔“
سنن ترمذي، أبواب صفة القيامة، رقم : 2457 ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف نہ بھیجا جائے، وہ یقیناً بے برکت مجلس ہے اور اس کے شرکاء ایک صحیح حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ما جلس قوم مجلسا لم يذكروا الله فيه ولم يصلوا على نبيهم إلا كان عليهم ترة، فإن شاء عذبهم وإن شاء غفر لهم .
”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں، اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں اور نہ ہی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ان پر درود بھیجیں تو یہ مجلس ان کے لیے حسرت (اور عیب کا باعث) ہوگی۔ پس اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور چاہے گا تو معاف فرمادے گا۔“
سنن ترمذي، أبواب الدعوات، باب القوم يجلسون ولا يذكرون الله تعالى، رقم: 3380 – سلسلة الصحيحة ، رقم: 74 .
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر درود بھیجنے والے شخص پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من صلى على صلاة واحدة صلى الله عليه بها عشرا .
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“
سنن نسائی، کتاب السهو، رقم: 1297 – البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح” کہا ہے۔ المشكوة، رقم: 902.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان پر درود پڑھنے سے درجات بلند ہوتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من صلى على صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات وحطت عنه عشر خطيئات ورفعت له عشر درجات .
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اور اس کے دس گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند فرما دیتا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 912.
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح اور شام کے وقت دس دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے کل قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔“
صحيح الجامع الصغير : 2/ 1088.
روز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب وہی ہو گا جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف بھیجتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم على صلاة .
”قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا۔“
سنن ترمذی، باب ما جاء في فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، رقم: 484ـ صحيح ابن حبان، رقم: 2389 ـ ابن حبان نے اس کو صحیح کہا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر کثرت سے درود پڑھنا دخول جنت کا سبب ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من نسي الصلاة على خطي به طريق الجنة .
سنن الكبرى ، للبيهقي : 286/9 ۔ یہ حدیث حسن ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا چاہیے۔ چنانچہ اویس بن اویس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے دنوں میں جمعہ کا دن سب سے افضل ہے۔ پس تم اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم) عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ پر ہمارا درود پڑھنا کیسے پیش کیا جائے گا، حالانکہ آپ کا جسم مبارک تو (قبر میں) بوسیدہ ہو چکا ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے اجسام زمین پر حرام کر دیئے ہیں۔
سنن ابوداود، باب تفریع ابواب الوتر، رقم: 1531 – البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح” کہا ہے۔
جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو، آپ پر درود پڑھا جائے۔ حسین بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
البخيل الذى من ذكرت عنده فلم يصل علي .
” بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“
سنن ترمذی، ابواب الدعوات، رقم: 3546 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔ المشكاة، رقم: 933- التعلق الرغيب : 284/2