زندہ افراد اور امت کو قربانی میں شامل کرنے کا حکم احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

زندہ افراد کو قربانی میں شامل کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امت کے ان زندہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا ثابت ہے، جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى للناس يوم النحر فلما فرغ من خطبته و صلاته دعا بكبش فذبحه بنفسه و قال: بسم الله، الله أكبر، اللهم عني و عمن لم يضح من أمتي
”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو لوگوں کو نماز (عید) پڑھائی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ اور نماز سے فارغ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا منگوایا، اسے خود ذبح کیا اور (ذبح کرتے وقت) یہ کلمات کہے: بسم اللہ اللہ اکبر، اے اللہ! یہ (قربانی) میری اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے جو قربانی نہیں کر سکے۔“
حسن: سنن بیہقی 264/9۔ مستدرک حاکم 229/4۔ دارقطنی 544، 545۔ مطلب بن عبد اللہ بن مطلب بن حنطب صدوق مدلس ہیں، لیکن اس روایت میں ان کے سماع کی تصریح ہے، تدلیس کا ازالہ ہو گیا اور تدلیس کی علت ختم ہونے کی وجہ سے روایت حسن ہے۔

فوائد:

یہ حدیث دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی میں امت کے ان افراد کو شریک کیا، جو قربانی دینے سے قاصر تھے۔ لہٰذا مطلق روایت سے یہ ثابت کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے فوت شدگان کو بھی قربانی میں شامل کیا تھا، سراسر باطل ہے۔ بلکہ حدیثِ الباب صریح نص ہے کہ قربانی میں امت کے صرف ان زندہ افراد کو شامل کیا گیا جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
② جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی قربانی میں امت کے تمام زندہ افراد کو شامل نہیں کیا گیا تو مردوں کو قربانی میں شریک کرنا کیسے ثابت ہو سکتا ہے۔

امت کو قربانی میں شریک کرنا خاصۂ رسول

امت کے زندہ افراد کو قربانی میں شریک کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ و امتیاز ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے گھر والوں کو قربانی میں شامل کرنا تو ثابت ہے، لیکن کسی صحابی سے قربانی میں امت کو شریک کرنا ثابت نہیں۔
عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
تضحية رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أمته وإشراكهم فى أضحيته مخصوص به صلى الله عليه وسلم، وأما تضحيته عن نفسه و آله فليس مخصوصا به صلى الله عليه وسلم ولا منسوخا، والدليل على ذلك أن الصحابة رضي الله عنهم كانوا يضحون الشاة الواحدة يذبحها الرجل عنه و عن أهل بيته كما عرفت، ولم يثبت عن أحد من الصحابة التضحية عن الأمة، و إشراكهم فى أضحيته البتة.
”امت کی طرف سے قربانی کرنا اور انھیں اپنی قربانی میں شریک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، لیکن اپنی طرف سے اور اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرنا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ یہ عمل منسوخ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتے رہے ہیں، لیکن کسی صحابی سے یہ ثابت نہیں کہ اس نے امت کی طرف سے قربانی کی ہے یا کبھی کسی نے امت کے افراد کو قربانی میں شریک کیا ہے۔“
تحفة الأحوذي 69/5۔