حج کرنے والے اور مسافر کا قربانی کرنا
سنت مطہرہ سے حج کرنے والے اور مسافر کا قربانی کرنا ثابت ہے۔ توفیق الہی سے اس بارے میں ذیل میں تین احادیث پیش کی جا رہی ہیں:
➊ امام مسلم نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحيته ثم قال: يا ثوبان أصلح لحم هذه.
فلم أزل أطعمه منها حتى قدم المدينة“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قربانی کا جانور ذبح فرمایا۔ پھر فرمایا: اے ثوبان! اس کا گوشت بنا دو۔ میں آپ کے مدینہ تشریف لانے تک اس [گوشت] سے آپ کو کھلاتا رہا۔“
صحیح مسلم، كتاب الأضاحي، باب ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاثرقم الحديث 35 – (1975)، 1563/3
صحیح مسلم میں ہی ایک دوسری روایت میں ہے:
”قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فى حجة الوداع: أصلح هذا اللحم“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھے فرمایا: اس گوشت کو بناؤ۔“
المراجع السابق، جزء من رقم الحديث 36 (1975)، 1563/3
اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے مسافر کے لیے قربانی کرنا ثابت ہے۔ امام ابوداؤد نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے: [باب فى المسافر يضحي] ”مسافر کے قربانی کرنے کے متعلق باب“۔
سنن أبي داود، كتاب الضحايا، 9/8
امام نووی اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں: اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح مقیم کے لیے قربانی کرنا مشروع ہے اسی طرح مسافر کے لیے مشروع ہے۔
ملاحظہ ہو: شرح النووي 134/13
علاوہ ازیں اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حاجی کے لیے عید الاضحیٰ کی قربانی دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
امام بخاری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”فلما كنا بمنى أتيت بلحم بقر فقلت: ما هذا؟
قالوا: ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أزواجه بالبقر“
”پس ہم جب منی میں تھے تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے دریافت کیا: یہ کیسا [گوشت] ہے؟
انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔“
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، جزء من رقم الحديث 5/10،5548
امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے:
[باب الأضحية للمسافر والنساء] ”مسافر اور عورت کے لیے قربانی کے متعلق باب“۔
المراجع السابق 5/10
حافظ ابن حجر تحریر کرتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گائے کو ذبح کرنا عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے تھا۔
ملاحظہ ہو : فتح الباری 5/10
➌ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر الأضحى فاشتركنا فى البقرة سبعة وفي البعير عشرة“
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو عید الاضحیٰ آ گئی تو ہم سات آدمی گائے کی قربانی میں اور دس آدمی اونٹ کی قربانی میں شریک ہوئے۔“
جامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب فى الاشتراك في الأضحية، رقم الحديث 1037، 72/5 شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذی (89/2).
اس حدیث شریف سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سفر میں قربانی کی۔