اللہ کے دین کی مدد کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ کے دین کی مدد کرنے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے کہا ہے کہ اگر وہ اس کے دین کی مدد کریں گے تو وہ ان کی نصرت فرمائے گا، ہر موقعہ پر انہیں ثبات قدمی عطا فرمائے گا۔ اللہ رب کائنات کا ارشاد ہے:
‏ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
”اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہیں ثابت قدمی عطا کرے گا۔“
(47-محمد:7)
دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا: ﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ﴾
”اور اللہ یقیناً ان کی مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔“
(22-الحج:40)
اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی جانوں، مالوں اور افعال کے ذریعے اس سچے اور سچے دین کی نصرت کریں جسے اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت و بندگی کی خاطر نازل فرمایا ہے۔ اور جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے ان کی آواز پر لبیک کہا، دعوت کے کام میں ان کی مدد کی، اور ان سے وعدہ کیا کہ وقت آنے پر وہ اپنی جانوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
‏ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ ۖ فَآمَنَت طَّائِفَةٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَت طَّائِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ﴾
”اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بن جاؤ، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا کہ دعوت الی اللہ کی راہ میں میری کون مدد کرے گا؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ہیں، پس بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایمان لے آئی، اور دوسری جماعت کا فر ہو گئی، تو ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔“
(61-الصف:14)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ”جب حواریوں نے سیدنا عیسی علیہ السلام سے کہا کہ آپ کی دعوت لوگوں تک پہنچانے کے لیے ہم آپ کی نصرت و تائید کریں گے، چنانچہ روح اللہ علیہ صلوات اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں کی طرف بھیجا۔ حج کے دنوں میں سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرمایا کرتے تھے: کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں، قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں ۔
مسند احمد: 322/3۔ صحیح ابن حبان، رقم: 6274 ـ ابن حبان نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
چنانچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی ۔ انہوں نے آپ سے بیعت کی ،آپ کی باتیں قبول کیں اور مضبوط عہد و پیمان کیے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آجائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دُکھ پہنچائے ، ہم آپ کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا۔ اپنی زبان کی پاسداری کی ۔ اسی لیے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا ۔“
تفسير ابن كثير : 408/5 ـ طبع مكتبه قدو سیه ، لاهور.
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس میں مؤمنین کو ان کے رب کی طرف سے تائید و نصرت اور فتح و کامرانی کی نوید سنائی گئی ہے، بشرطیکہ وہ دین حنیف کی سر بلندی کے لیے متحد ہو کر کوشاں رہیں، اور باہمی اختلاف سے یکسر دور رہیں۔ وبالله التوفيق
اللہ تعالیٰ کا یہ کریمانہ وعدہ ہے کہ جو اہل کتاب میں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئیں گے، آپ کی تعظیم و توقیر کریں گے، آپ کی نصرت و مدد کریں گے اور قرآن حکیم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے، تو اللہ رب کائنات انہیں دنیا و آخرت میں فائز المرام بنادے گا۔ چنانچہ ارشاد رب العالمین ہے:
﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”ان کے لیے جو ہمارے رسول نبی اُمّی کی اتباع کرتے ہیں، جن کا ذکر وہ اپنے تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہیں، اور برائی سے روکتے ہیں، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں، اور خبیث اور گندی چیزوں کو حرام کرتے ہیں، اور ان بارہائے گراں اور بندشوں کو ان سے ہٹاتے ہیں جن میں وہ پہلے سے جکڑے ہوئے تھے، پس ان پر ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے ان کے مقام کو پہچانا ہے، اور ان کی مدد کی ہے، اور اس نور کی پیروی کی ہے جو ان پر نازل ہوا، وہی فلاح پانے والے ہیں۔“
(7-الأعراف:157)
وہ مہاجر اور فقراء جنہوں نے اللہ کی رضا اور اس کے دین کی نصرت کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا، مدینہ اس حال میں پہنچے کہ اُن کے پاس نہ کھانے کے لیے روٹی تھی اور نہ تن ڈھانکنے کے لیے کپڑا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص عمل کے سبب انہیں ”صادقین“ کے لقب سے نوازا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾
”وہ مال اُن فقیر مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور مال و دولت سے نکال دیئے گئے، وہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار تھے، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے تھے، وہی لوگ سچے تھے۔“
(59-الحشر:8)
اللہ کے دین کی نصرت کرنے والے شخص کو شریعت قابل رشک قرار دیتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول مکرم ، شفیع المؤمنین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا حسد إلا فى اثنتين: رجل آتاه الله مالا فسلط على هلكته فى الحق ورجل آتاه الله الحكمة فهو يقضي بها ويعلمها .
”رشک کے قابل صرف دو آدمی ہیں۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا، پھر اسے حق کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی دی۔ اور دوسرا وہ آدمی، جس کو اللہ نے دانائی سے نوازا، پس وہ اس کے ساتھ (لوگوں کے معاملات کے) فیصلے کرتا اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب العلم، باب الاغتباط في العلم والحكمة، رقم: 73 ـ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلمه، رقم: 1896.
اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے یہ بنیادی حق ہے کہ اس کے دین کی نصرت و تائید کی جائے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
‏ ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا .‏ لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا.﴾
”اے میرے نبی! ہم نے بے شک آپ کو گواہ اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اے مسلمانو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کے دین کی مدد کرو، اور اس کا ادب کرو، اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام۔“
(48-الفتح:9)
محافظ دین کا محافظ خود اللہ بن جاتا ہے، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده تجاهك .
”تو اللہ (کے دین) کی حفاظت کر اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا تو اللہ تعالیٰ (کے دین) کی حفاظت کر، تو اس کو سامنے پائے گا۔“
سنن ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، رقم: 2016 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔